اکتوبر 16, 2019

کابل فوج کس کی محافظ ہے؟

کابل فوج کس کی محافظ ہے؟

آج کی بات

امارت اسلامیہ افغانستان کی قیادت عیدالفطر اور عیدالاضحی کے موقع پر خصوصی پیغام شائع کرتی ہے، جس میں قوم، مجاہدین اور امت مسلمہ کو مبارک باد دینے کے علاوہ موجودہ صورت حال بارے امارت اسلامیہ کی پالیسی کی وضاحت بھی کی جاتی ہے۔ مجاہدین کو ضروری ہدایات دی جاتی ہیں۔

گزشتہ روز عیدالاضحی کے موقع پر امیرالمؤمنین شیخ ہبۃ اللہ اخند زادہ حفظہ اللہ کا پیغام شائع ہوا، جو پشتو، فارسی عربی، اردو اور انگریزی زبانوں میں بھی نشر کیا گیا۔ یہ پیغام مختلف صوبوں کے بازاروں، اسکولز، مدارس اور شاہراہوں پر لوگوں میں تقسیم کیا گیا۔ عوام نے امیرالمؤمنین کا یہ پیغام بڑے جوش و جذبے کے ساتھ حاصل کیا۔ عوام کی طرف سے امارت اسلامیہ کی مکمل حاکمیت کے لیے خصوصی دعاؤں کا اہتمام کیا گیا۔

امیرالمؤمنین کا پیغام موجودہ سیاسی، فوجی اور معاشرتی صورت حال پر مبنی ہے۔ جن میں چند اہم نکات ذیل میں ملاحظہ فرمائیں:

امیرالمؤمنین حفظہ اللہ کے عید پیغام میں مجاہدین کی قربانیوں کو قابل ستائش قرار دیا گیا۔ انہیں ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مظلوم عوام کے ساتھ نیک نیتی والا برتاؤ کریں۔ عوامی افادیت کے حامل مقامات، تعلیمی اداروں اور صحت کے مراکز کی حفاظت کریں۔ عوام کی ترقی، خوش حالی اور سلامتی کے لیے تمام مکمنہ اقدامات اٹھائیں۔

حملہ آوروں کو بتایا گیا ہے کہ اگر آپ واقعی افغان تنازع کا پرامن حل چاہتے ہیں تو رہائشی علاقوں، مساجد، اسکولز، کلینکس اور بازاروں پر وحشیانہ چھاپوں اور حملوں سے گریز کریں۔ خواتین اور بچوں کی شہادت کا سلسلہ بند کریں۔ افغانستان میں امن و جنگ سے متعلق متضاد خیالات پھیلانے سے گریز کریں۔

کابل انتظامیہ کے اہل کاروں کو بتایا گیا کہ آپ کو مزید اپنے عوام، اقدار اور ملک کے خلاف جنگ سے دست بردار ہو جانا چاہیے، تاکہ دنیاوی ذلت اور اخروی زندگی کے عذاب سے بچ سکیں۔ کابل فوج کو یہ بھی بتایا گیا کہ آپ ملک کی حفاظت کے دعوے کرتے ہیں، لیکن عملی طور پر حملہ آوروں کے آگے اور پیچھے بھاگتے ہوئے اپنے لوگوں کے گھروں پر چھاپے مارتے ہیں۔ آپ اپنے ہی عوام کو حراست میں لے کر قابض دشمن کے سپرد کرتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آپ تحفظ کا کا کر رہے ہیں؟

انگریز استعمار سے آزادی حاصل کرنے کے سو سال مکمل ہونے کے موقع پر نوجوانوں کو بتایا گیا کہ جس طرح ہمارے آبا و اجداد نے حملہ آوروں کے خلاف جنگ لڑی اور آزادی حاصل کی، ہمیں بھی حملہ آوروں کے خلاف اپنے آبا و اجداد کی طرح لڑنا چاہیے۔ تاکہ امریکی جارحیت سے ملک آزاد اور اس میں اسلامی نظام نافذ کریں۔

امیرالمؤمنین کے پیغام میں مجاہدین اور دولت مند لوگوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ یتیموں، بیوہ خواتین، معذوروں، اسیروں اور غریب لوگوں کو فراموش نہ کریں۔ ان کی مدد کے لیے پوری کوشش کریں اور عید کی خوشیوں میں انہیں بھی شریک کریں۔

امارت اسلامیہ اسلام اور وطن عزیز کی حفاظت کے لیے برسرپیکار ہے۔ اس راہ میں سب سے زیادہ قربانیاں امارت نے دی ہیں۔ جس طرح کل کرپٹ عناصر کے خلاف علم جہاد بلند کر کے دینی اقدار اور قومی مفادات کا تحفظ کیا اور ملک کو جغرافیائی تقسیم سے بچایا، امارت اسلامیہ آج بھی اپنی دھرتی کی خودمختاری کے لیے قابض دشمن کے خلاف نبردآزما ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے بہت مشقتیں اٹھائی گئی ہیں۔ ان شاء اللہ وہ دن قریب ہے کہ شہداء کے لہو اور عوام کی قربانیوں کی بدولت قابض دشمن وطن عزیز سے راہ فرار اختیار کرے گا۔ افغانستان ایک بار پھر آزاد ہوگا۔ اس میں اسلامی نظام نافذ ہوگا۔ ان شاء اللہ

Related posts