انتخابات اور عوامی ذمہ داری

آج کی بات

امارت اسلامیہ کے جاری کردہ ایک بیان میں عوام سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ کابل انتظامیہ میں شامل چند افراد کی شروع کردہ نام نہاد انتخابی مہم میں حصہ نہ لیں۔ حقیقت یہ ہے کہ صرف امارت اسلامیہ کی ذمہ داری نہیں، بلکہ کہ لوگوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے آپ کو اور اپنے بچوں کو ایسے کام سے دور رکھیں، جس میں دنیا اور آخرت کے نقصان کے سوا کچھ کوئی فائدہ نہیں ہے۔

سب جانتے ہیں کہ ہمارے ملک پر غیرملکی حملہ آوروں کا مکمل قبضہ ہے۔ ان حملہ آوروں کی جانب سے ہم پر حکومتیں مسلط کی جاتی ہیں۔ یہ عوام کے انتخابات نہیں ہیں۔ پچھلی مرتبہ بھی عوام کی رائے کو پاؤں تلے روندا گیا اور پوری قوم کے ووٹ کے مقابلے میں جان کیری کی ایک رائے کو اہمیت دی گئی۔ یہ واضح مثال ہے۔

اسی وجہ سے امارت اسلامیہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ (آزمودہ را آزمودن خطا است) اللہ نہ کرے کہ قوم ایک بار پھر مکار سیاست دانوں کے فریب کا نشانہ بنے۔ کیوں کہ عوام کے ووٹوں کی کوئی اہمیت اور قدر نہیں ہے۔ صرف اتنا ہوگا کہ نام نہاد انتخابات کی آڑ میں یہ لٹیرے اور غلام ایک بار پھر چند سال تک قوم پر مسلط رہیں گے۔ منتخب عوامی حکومت کے نام پر غیرملکی حملہ آوروں کے ڈالروں کے بدلے عوام کو مار ڈالیں گے۔ جیسا کہ آج بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔ ہر شخص کو دشمن کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ حملہ آوروں کے ہتھیاروں، ٹینکوں اور طیاروں کے ذریعے نہتے شہریوں کا قتل عام کیا جاتا ہے۔

اگر اب بھی کچھ لوگ انتخابی دھوکہ دہی کے عمل میں ان کے ساتھ شریک ہونے کے لیے کھڑے ہیں تو یہ بہت بڑا ظلم ہے۔ درحقیقت یہ جمہوری لوگ قوم کے قاتل اشرف غنی کے لیے مہم چلا رہے ہیں۔ اسے دوبارہ مسلط کرنا چاہتے ہیں۔

یہ بھی سچ ہے کہ 90 فیصد افغان شہری کبھی بھی اس طرح کے جعلی انتخابی عمل میں حصہ نہیں لیتے۔ یہ بھی ضروری ہے کہ دس فیصد آبادی بھی ایسا کرنے سے باز آ جائے۔ بصورت دیگر ایسے لوگوں کو مجاہدین کی کارروائیوں سے نقصان پہنچ سکتا ہے۔ امارت اسلامیہ کے بیان میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ مجاہدین دشمن کے نمائشی انتخابی اور دھوکہ دہی کے عمل کے خلاف کارروائیاں کریں۔ ہر جگہ ان پر حملے کریں۔ مجاہدین انتخابی سینٹرز پر حملے کریں گے۔ لہذا عوام ایسی جگہوں کے قریب بھی مت جائیں۔

 

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*