نام نہاد الیکشن عمل کے حوالے سے امارت اسلامیہ کا اعلامیہ

چند روزسے ایک بار پھر الیکشن کے نام سے دھوکہ پر مبنی عمل میں تیزی آئی ہےاورصدارتی نامزد امیدوار  اپنے اپنے مہم کا آغاز کرچکا ہے،اس موضوع کے حوالے سے امارت اسلامیہ اپنے مؤقف کو یوں اعلان کرتا ہے۔

  • یہ کہ افغانستان پر بیرونی افواج کا قبضہ ہے، غاصب افواج ملک کے تمام امور پر حاکم ہے، یہاں تک انتخابی عمل کی فنڈنگ، رہبری، نگرانی اور آخری فیصلہ استعمار کے اختیار میں ہے  اور کابل میں بیرونی ممالک کے سفارت خانےوقتافوقتا الیکشن کی نگرانی اور رہبری کررہی ہے،اسے مدنظر رکھتے ہوئے الیکشن عمل صرف اور صرف عوام کی آنکھوں میں خاک پاشی  اور عام اذہان کو دھوکہ دینا ہے، کیونکہ ہر شخص جانتا ہے کہ استعمار کے زیرسایہ الیکشن میں عوامی مرضی کے بجائے فنڈنگ کرنے والے بیرونی  ممالک  کی مرضی کا فیصلہ کن کردار ہوتا ہے۔
  • اہل وطن کو یاد ہوگا ہے کہ 2014ء میں صدارتی الیکشن کے نام سے دو مرتبہ انتخابات ہوئے،جس میں کروڑوں ڈالر خرچ ، کئی ماہ تک الیکشن کا عمل جاری رہا، مگر جب آخری فیصلے کا وقت آیا،اس وقت امریکی وزیرخارجہ جان کیری تشریف لے آئے، ووٹنگ کے عمل کو باطل قرار دیا اور پھر اپنی ہی مرضی سے حکومت چلانے کے لیے دو افراد کا انتخاب کیا۔

یہ کہ دانشمند حضرات کہتے ہیں (آزمودہ را ازمودن خطا است ) اہل وطن کو بار بار مکار و دھوکہ باز سیاستدانوں کا شکار نہیں  ہونا چاہیے اور نہ ہی اس عمل میں شرکت کریں،جس میں ان کی رائے کا کوئی اعتبار اور اہمیت نہ ہو۔

  • حقیقت یہ ہے کہ کابل انتظامیہ  افغانستان کے بہت قلیل رقبے پر قابض ہے  اور الیکشن صرف چند شہروں میں ہوگا،جس میں شہریوں کی اکثریت بھی شرکت نہیں کریگی،  دوسری جانب جارحیت کے خاتمے اور بین الافغانی افہام وتفہیم کے لیے ترتیبات جاری ہیں، اس خصوصی صورت حال اور شرائط کو مدنظر رکھتے ہوئے اس نام نہاد الیکشن سےصرف چند محدود سیاسی دھوکہ بازوں کی خواہش پوری ہوتی ہے،جس کا واحد نتیجہ وقت، رقم اور امکانات کا بےمعنی ضائع کرنا ہے،اس کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔
  • یہ کہ آئندہ الیکشن بھی ماضی کی طرح ایک فریب جن عمل ہے، اس  کے روک تھام کے لیے امارت اسلامیہ بھرپور کوشش کریگی، ہم تمام اہل وطن کو بتلاتے ہیں کہ اس عمل میں شرکت سے دور سے رہے، امیدواروں کی تقریبات اور الیکشن مہم میں شرکت نہ کریں، کیونکہ عوام کی شرکت سے صرف استعمار اور کٹھ پتلی انتظامیہ اپنے اعتماد کو بڑھانے کا فائدہ اٹھاتا ہے، ہمیں یقین ہے کہ عوام ماضی کی طرح ملک گیر بائیکاٹ سے استعمار کے اس عمل کو محوہ کریگا۔
  • یہ  کہ ابھی ابھی اس نمائشی الیکشن کے لیے مہم کا آغاز ہوچکا ہے، تقریبات منعقد کی جارہی ہیں، امارت اسلامیہ کے مجاہدین اس کے مانع بن رہے ہیں،اسی لیے خدانخواستہ عام شہریوں کو نقصان نہ پہنچے، ان تقریبات اوراجتماعات میں شرکت نہ کریں، جہاں حملے اور نقصان کا خطرہ ہو۔
  • امارت اسلامیہ ان تمام بیرونی فریقوں کو بھی بتلاتی ہے ، جو قتافوقتا اس جعلی عمل سے اپنی حمایت کا اعلان کررہا ہے اور یا اس  سلسلے میں غیرضروری اخراجات کی ذمہ داری لیتی ہے، افغانستان میں جارحیت کے خاتمے اور حقیقی صلح کی راہ میں اپنی انرجی اور منابع کو استعمار کرنا چاہیے، تاکہ صحیح معنوں میں افغانستان کی خدمت ہوسکے اور اس حساس مرحلے میں چند اشخاص کی جانب سے صلح کا جاری عمل سبوتاژ نہ ہوجائے۔
  • امارت اسلامیہ ملک بھر میں مجاہدین کو ہدایات دیتی ہے کہ اپنی پوری قوت سے دشمن کے اس نمائشی اور جعلی عمل کے خلاف کمربستہ ہوجاؤ اور دشمن کے اس مذموم منصوبے کی کامیابی کو روک دیں۔

امارت اسلامیہ افغانستان

05 ذی الحجۃ 1440 ھ بمطابق 06 اگست 2019ء

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*