اکتوبر 16, 2019

امارت اسلامیہ کی وسیع تر سیاسی روابط

امارت اسلامیہ کی وسیع تر سیاسی روابط

ہفتہ وار تبصرہ

ایک ہفتہ قبل امارت اسلامیہ کے سیاسی دفتر کے سربراہ ملا برادر اخوند کی قیادت میں امارت اسلامیہ کے اعلی وفد نے مملکت انڈونیشیا کا رسمی دورہ کیا اور چند روز تک انڈونیشیا کے حکام اور مذہبی رہنماؤں سے ملاقاتیں اور گفتگو کیں۔

انڈونیشیا وہ ملک ہے، جہاں سب سے  زیادہ مسلمان زندگی گزار رہے ہیں۔ اس معنوی امتیاز کے علاوہ انڈونیشیا  کا  شمار  عالم اسلام میں بہترین معاشی اور صنعتی ممالک میں ہوتا ہے، جس نے ہمیشہ عالمی تنازعات میں مثبت کردار ادا کیا ہے۔  افغان تنازع کےحوالے سے بھی انڈونیشیا کے حکام کا مثبت فکر ہے، جو افغانستان میں امن اور جنگ کے اسباب کا خاتمہ چاہتا ہے۔

امارت اسلامیہ کے سیاسی نمائندے انڈونیشیا کے دورے کے دوران میزبانوں کے شاندار استقبال سے روبرو ہوئے۔ چند روز کے دوران انڈونیشیا کے نائب صدر، وزیرخارجہ، نہضت العلماء اور اس کے ملک کے مذہبی جماعتوں کے ایک عظیم اتحاد (مجلس العلماء) کے رہنماؤں کیساتھ امارت اسلامیہ کے وفد کی ملاقات اور بات چیت ہوئیں۔ اسلامی اخوت  کے جذبے سے مالامال ملاقاتیں دوطرفہ تعلقات کی بہتری پر بہت مؤثر رہے۔

امارت اسلامیہ کے حکام کا دورہ انڈونیشیا اور اس سے قبل روس اور چین کے کامیاب دوروں نے ثابت کردیا، کہ امارت اسلامیہ دنیا کے ممالک اور اقوام سے مثبت روابط چاہتی ہے۔ مگر افسوس کا مقام یہ ہے کہ امارت اسلامیہ کے خلاف حد سے زیادہ پروپیگنڈہ ہوچکا ہے۔ بعض ممالک کے حکام کو امارت اسلامیہ ایک باغی اور دہشت گرد گروہ کے طور پر متعارف کروایا جاچکا ہے، اسی لیے امارت اسلامیہ کے ساتھ روابط میں تذبذب کا شکار ہے۔ لیکن اگر امارت اسلامیہ کے ساتھ براہ راست ملاقاتیں کریں، امارت اسلامیہ کے داعیہ اور پالیسی کو جان لے اور امارت اسلامیہ کیساتھ براہ راست سیاسی تعلقات استوار کریں، تو ان کے شکوک وشہبات ضروری ختم ہوجائینگے اور امارت اسلامیہ کو افغان ملت کے حقیقی نمائندہ فریق کے طور پر تسلیم کرلے گی۔

یہ کہ امارت اسلامیہ سے ریاستہائے متحدہ امریکا  براہ راست گفتگو میں مصروف ہے، اسی طرح بین الافغانی سطح پر بھی ایک پرامن حل کے لیے مقدمات کا آغاز ہوچکا ہے۔  تو خطے اور دنیا کے وہ ممالک جو ماضی میں امارت اسلامیہ کے متعلق غلط معلومات رکھتے، یا   امارت اسلامیہ کے خلاف دشمنی رکھتے اور بعض تو حتی کہ ایک واضح دلیل کے بغیر امارت اسلامیہ کو  ایک دہشت گرد گروہ کی نگاہ سے دیکھتے اور امارت اسلامیہ کو محوہ کرنے کے لیے عالمی جنگی اتحاد کے رکن رہے۔ حالیہ شرائط کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ وقت آں پہنچا ہے کہ وہ امارت اسلامیہ کے حوالے سے اپنے مؤقف کا ازسرنو جائزہ لے۔ امارت اسلامیہ کو سمجھنے اور اس کے مقصد اور داعیہ سے آگاہی کی خاطر سیاسی نمائندوں کیساتھ براہ راست بات چیت کریں۔ بہت امید ہے کہ اس طرح ان کے شکوک کا ازالہ اور  یکطرفہ دشمنی کے لیے ان کے پاس کوئی دلیل باقی نہیں رہے گا۔

Related posts