نیٹو: اب انخلا کا وقت ہے!

آج کی بات

دوحا میں امارت اسلامیہ اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا آٹھواں دور شروع ہو گیا ہے ۔ امکان ہے اس مرحلے پر دونوں فریق افغانستان سے تمام امریکی فوج کی واپسی بارے کسی حتمی نتیجے پر پہنچ جائیں گے۔ نیٹو سیکرٹری جنرل انیس اسٹولٹن برگ نے گزشتہ روز برسلز میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ‘دوحا مذاکرات اہم ہیں۔ وہ ان کے مثبت نتائج کے لیے پُرامید ہیں ۔’

انہوں نے مزید کہا ‘اگر امریکا طالبان کے ساتھ فوجی انخلا پر دستخط کرتا ہے تو نیٹو اس کا خیرمقدم کرے گا۔ ساتھ ہی افغانستان سے اپنی فوج بھی واپس بُلا لے گا۔’

اس سے قبل نیٹو سکریٹری جنرل کا موقف یہ تھا کہ ‘انہوں نے افغانستان میں تقریبا دو دہائیوں تک جنگ لڑی ہے۔ کئی اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ لہذا فوجی انخلا کے حوالے سے امریکا کا فیصلہ ان کی بیس سالہ محنت پر پانی پھیر دے گا۔ اس سے یہ بات ثابت ہو جائے گی کہ افغانستان میں امریکی فوج کی آمد اور موجودگی نامناسب، بے کار اور نقصان دِہ  ثابت ہوئی ہے۔’

نیٹو نے ٹرمپ کو افغانستان میں جنگ بڑھانے پر قائل کرنے  یا کم سے کم فوج کے انخلا بارے فیصلہ ملتوی کرنے کے لیے کافی کوششیں کیں ، تاہم پانی میں اپنا چہرہ دیکھنے والے ٹرمپ کو تشویش لاحق تھی۔ انہوں نے کسی ابہام کے بغیر بار بار اعلان کیا کہ امریکی فوج افغان جنگ نہیں جیت سکی۔ افغانستان میں بڑے اور بھاری بم پھینکے گئے ۔ مختلف حربے استعمال کیے گئے۔ مختلف جنگی حکمت عملیاں وضع کی گئیں۔ ہر سال 52 ارب ڈالر خرچ کیے گئے۔ ان تمام کوششوں کا کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکلا۔ لہذا وہ طالبان کے مطالبات تسلیم کرنے پر مجبور ہوگئے ۔ لہذا نیٹو سیکرٹری جنرل کا حالیہ اعلان اور افغانستان کے بارے میں امریکی پوزیشن کے ساتھ اس کی ہم آہنگی سے ثابت ہوتا ہے نیٹو اور امریکا اپنی شکست تسلیم کر رہے اور افغانستان پر قبضے کو ایک تاریخی غلطی قرار دیتے ہیں ۔ وہ اس حقیقت کو بھی تسلیم کرتے ہیں کہ امارت اسلامیہ ہی افغانستان کی اصل وارث ہے۔ صرف امارت ہی افغانستان سے تمام پریشانیاں دور کرنے اور افغانوں میں استحکام ، امن اور خوش حالی لانے کی اہلیت اور قابلیت رکھتی ہے.

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*