اکتوبر 16, 2019

جارحیت کا مکمل خاتمہ

جارحیت کا مکمل خاتمہ

آج کی بات

امارت اسلامیہ کی مذاکراتی ٹیم اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا آٹھواں دور گزشتہ روز دوحا میں شروع ہو گیا ہے۔ ان مذاکرات کے ایجنڈے میں دو اہم نکات "تمام حملہ آور قوتوں کا مکمل انخلا اور امریکا کے خلاف افغان سرزمین استعمال نہ کرنا شامل ہیں۔” جاری مذاکرات میں امارت اسلامیہ اور امریکا کے درمیان مذکورہ دو نکات پر اتفاق کرنے کا قومی امکان ہے۔

کچھ لوگوں اور میڈیا نے یہ تاثر دیا ہے کہ امارت اسلامیہ نے افغانستان میں محدود تعداد میں امریکی فوجیوں کی موجودگی کو برقرار رکھنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ امارت اسلامیہ کا موقف یہ ہے کہ ہر ملک اور تنظیم سے تعلق رکھنے والے تمام حملہ آوروں کا انخلا ضروری ہے۔  اگر ہم حملہ آور قوتوں کی کم و بیش موجودگی سے اتفاق کر سکتے تھے تو پھر اتنی لمبی اور مشکلات سے بھرپور جدوجہد کی کیا ضرورت تھی؟

امارت اسلامیہ افغانستان کے سیاسی دفتر کے نائب اور مذاکراتی ٹیم کے ممبر مولوی عبدالسلام حنفی صاحب نے الامارہ ویب سائٹ کے نامہ نگار کے ساتھ حالیہ انٹرویو میں واضح کیا کہ امارت اسلامیہ کی مذاکراتی ٹیم ملک کے سرکردہ علمائے کرام اور تجربہ کار جہادی اور سیاسی شخصیات پر مشتمل ہے۔ ہم جو بھی فیصلہ کرتے ہیں، پہلے شریعت اور قومی مفادات کو مدنظر رکھتے ہیں۔ پھر ان پر عمل کرتے ہیں۔ لہذا ہم کوئی ایسا فیصلہ نہیں کریں گے، جو مجاہد عوام کے اسلامی اور قومی منافع سے متصادم ہوگا۔

امارت اسلامیہ کی جدوجہد مختلف تنظیموں کی جدوجہد سے بہت مختلف ہے۔ ہماری تحریک میں صرف وہ گمنام بہادر لوگ شامل نہیں ہیں، جو اپنی جانوں سے دھماکہ خیز مواد باندھتے ہیں، بلکہ جارحیت کے خلاف اس جدوجہد میں وزراء، گورنر، سرکردہ افراد اور سینئر کمانڈر بھی جنگ کی پہلی صف میں جام شہادت نوش کر چکے ہیں۔ حتی کہ امارت اسلامیہ کے قائد اور امیرالمؤمنین ملا اختر محمد منصور تقبلہ اللہ بھی اس مقدس راہ میں شہید ہو گئے۔ شیخ صاحب حفظہ اللہ کے جگر گوشہ بھی اپنے خون میں لت پت ہو گئے۔

نیز امارت اسلامیہ کے نائب اور سیاسی دفتر کے سربراہ ملا برادر اخوند اور مذاکراتی ٹیم کے دیگر ممبران نے اسلام اور ملک کے دفاع میں کئی سال جیل، جسمانی اذیت اور نفسیاتی اذیت میں گزارے ہیں۔

امارت اسلامیہ کی قیادت اٹھارہ برس کے دوران ہر طرح کے دباؤ کے باوجود اپنے اسلامی اور قومی موقف سے دستبردار نہیں ہوئی۔ اس کے بعد بھی اپنے اعلی اہداف کے حصول کے لیے کسی قسم کے دباؤ کو قبول نہیں کرے گی۔

امارت اسلامیہ کی جدوجہد کا محور جارحیت کا مکمل خاتمہ اور اسلامی نظام کا نفاذ ہے۔ امارت اسلامیہ دینی اقدار، ملک کی آزادی، قومی منافع اور شہدا کی امیدوں پر پورا اترنے کے لیے پرعزم ہے۔ ہماری جدوجہد کا مقصد مذکورہ اقدار کا تحفظ اور ان کی دیکھ بھال ہے۔ ہم حملہ آوروں کے ساتھ ایک ایسا معاہدہ کریں گے، جس میں تمام اقدار کو محفوظ بنایا گیا ہو۔ مظلوم عوام کو بدعنوانی اور جارحیت سے نجات مل رہی ہو۔

ان شاء اللہ العزیز۔

Related posts