امریکی یلغار ذمہ دارانہ اقدام تھا؟

آج کی بات

افغانستان سے امریکی فوج کی واپسی کے بارے میں ٹرمپ کے واضح موقف کے بعد وزیر خارجہ پومپیو نے کہا کہ افغانستان سے امریکی فوج کا انخلا انہیں کسی دوسرے فیصلے سے زیادہ اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ پرعزم ہیں کہ 2020 کے صدارتی الیکشن سے پہلے افغان جنگ کا خاتمہ کر کے طالبان کے ساتھ معاہدے کے نتیجے میں اپنے تمام فوجیوں کو واپس بلایا جائے۔

امریکی حکام کے اظہار خیال کے بعد ان کے غلام حواس باختہ اور بوکھلاہٹ کا شکار ہیں۔ کچھ لوگ کہتے ہیں امریکا نے ان کے ساتھ سکیورٹی معاہدہ کیا ہے۔ اس معاہدے کے اختتام تک امریکا پابند ہے کہ وہ افغانستان میں قیام اور اس کا دفاع کرے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ امریکیوں کی واپسی میں جلد بازی نہیں ہونی چاہیے۔ یہ اقدام ذمہ دارانہ طور پر کرنا چاہیے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں امریکا کو اپنے 18 برس کی کامیابیوں کو ضائع نہیں کرنا چاہیے۔ بعض لوگ کہتے ہیں امریکی فوج کے انخلا کے بعد خواتین کے حقوق سلب ہو جائیں گے۔ آزادی اظہار رائے کو صدمہ پہنچے گا۔ شہری اور انسانی ترقی لرز اٹھے گی۔ آخر کار جمہوریت کا جنازہ نکل جائے گا۔

ایسا لگتا ہے ٹرمپ مگرمچھ کے آنسو بہانے والوں کے بہکاوے میں نہیں آئیں گے۔ ٹرمپ کے لیے سالانہ 50 ارب ڈالر کی بچت اور امریکی فوجیوں کی زندگی اہم ہے۔ ٹرمپ اور پوری دنیا پر اب یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ افغان غلاموں کے نزدیک عوام کی فلاح و بہبود، ملک کی ترقی اور پرسکون زندگی کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ وہ ہر قیمت پر اپنے ناجائز اقتدار کی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ اگر ان کے نزدیک عوام کی خوش حالی اور ملک کی ترقی کی اہمیت ہوتی تو گزشتہ 18 برس کے دوران امریکا اور عالمی برادری نے افغانستان میں دو کھرب ڈالر خرچ کیے اور 48 ممالک کی افواج نے جدید ہتھیاروں سے لیس ہو کر یہاں جنگ لڑی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ افغانستان غربت و افلاس میں دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے۔ بدعنوانی، عدم تحفظ اور انارکی میں تیسرا مقام حاصل کیا۔ منشیات کی پیداوار اور اسمگلنگ میں چوتھا مقام ملا۔

امریکا، یورپ اور نیٹو کے ممبر ممالک جانتے ہیں کہ ان کے غلاموں کو صرف اپنی جیب بھرنے اور بینک بیلنس بڑھانے کی فکر ہے۔ وہ افغانستان کے اعلی مفادات اور افغان عوام کی فلاح و بہبود کے ساتھ دل چسپی نہیں رکھتے ہیں۔

گزشتہ روز کابل میں سابق صدر نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کو افغانستان سے واپسی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر نہیں، بلکہ سنجیدگی کے ساتھ ذمہ دارانہ اقدام اٹھانا چاہیے۔

ہم ان حکام سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ جس وقت امریکا نے افغانستان پر حملہ کیا اور آپ کو اپنے ہیلی کاپٹروں میں افغانستان لایا اور ایوان صدر میں مسند اقتدار پر مسلط کیا، اس وقت آپ نے کیوں امریکا کو مشورہ نہیں دیا کہ افغانستان میں ذمہ دارانہ انداز سے اپنی فوجیں اتاریں اور عجلت سے کام نہ لے؟

اس وقت تو آپ اپنے دوسرے اساتذہ کے ساتھ مسلسل یہ مطالبہ کر رہے تھے کہ فضائی حملوں میں شدت لائی جائے۔ طالبان پر بڑے بڑے بم برسائے جائیں۔ انہیں کچلنے کے لیے پڑوسی ممالک تک اس کا دائرہ بڑھایا جائے۔

چوں کہ افغان عوام کی قربانیوں کی بدولت اس صدی کے سب سے بڑے استعمار کو شکست ہوئی تو آپ کی یہ گفتگو سازشوں، فریبوں اور چالوں سے مالا مال ہے۔ اللہ کے فضل و کرم سے یہ تمام سازشیں دم توڑ جائیں گی۔ ان شاء اللہ

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*