حکام احمقانہ سیاست نہ کریں

آج کی بات

اشرف غنی کے نائب سرور دانش نے گزشتہ روز ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امن کے مقابلے میں جمہوریت کی قربانی نہیں دیں گے۔ ہم بھرپور قوت کے ساتھ امارت کا مقابلہ کریں گے۔ ہم تاریخ کے تلخ تجربات کو نہیں دہرانا چاہتے۔ جمہوریت کے بجائے امارت اسلامیہ کی آمریت کو پروان چڑھنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ انہوں نے کابل کی فرسودہ اور بوسیدہ انتظامیہ کو اہم کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم امن کے نام پر اٹھارہ برس کی محنت سے حاصل کی گئی کامیابی کی قربانی نہیں دیں گے۔ امارت اسلامیہ ہمارے لیے قابل قبول نہیں ہے۔

کابل انتظامیہ کے اعلی حکام ایک ایسے وقت یہ بیانات دے رہے ہیں کہ گزشتہ روز امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ٹرمپ نے انہیں 2020 کے صدارتی انتخابات سے قبل افغانستان سے فوج واپس بلانے کی ہدایت کی ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکا اور نیٹو سمیت ان کے اتحادی اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ افغانستان میں احمقانہ سیاست کا اب کوئی فائدہ نہیں ہے۔ افغانستان کے مستقبل کو اس کے عوام کے حوالے کیے بغیر کوئی راستہ نہیں ہے۔

انہیں احساس ہونے کے بعد امارت اسلامیہ کے ساتھ سمجھوتہ کرنا پڑا اور امارت اسلامیہ کی شرائط اور تجاویز کے مطابق افغان تنازع سے باعزت واپسی کے راستے کا انتخاب کیا۔ افغانستان پر ظالمانہ قبضہ ختم کر کے اس کے مستقبل کا فیصلہ افغان عوام کے سپرد کریں۔

یہ کہنا مناسب ہے کہ امریکا اور نیٹو کے ذریعے درآمد شدہ انتظامیہ ابھی تک خود غرضی پر مبنی سیاست سے دست بردار نہیں ہوئی۔ وہ اب بھی تاکید کرتی ہے کہ غیرملکی ٹینکوں، لڑاکا طیاروں اور کروز میزائلوں سے مسلط شدہ حکومت کو مزید تقویت دی جانی چاہیے۔ وہ حکومت اور نظام جو سویلین کی نسل کشی، فحاشی، بدعنوانی، جبر، چوری، رشوت، جاسوسی اور وطن فروشی کے علاوہ اس کا کوئی کارنامہ نہیں ہے، بڑی بے شرمی کے ساتھ حکام ابھی بھی ان جرائم اور بدعنوانیوں کو کارنامے کہتے ہیں۔ ان کے مطاث وہ ہر قیمت پر جمہوریت کی حفاظت کریں گے۔

کابل انتظامیہ کو یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ امن، استحکام اور خوش حالی افغان قوم کی اشد ضرورت ہے۔ مستقبل کا فیصلہ کرنا ان کا مسلمہ حق ہے۔ کوئی بھی ان سے یہ حق نہیں چھین سکتا۔ امارت اسلامیہ نام نہاد جمہوریت کی حفاظت کے نام پر افغان مسلمان عوام کے مستقبل سے کھیلنے کی اجازت نہیں دے گی۔

چوں کہ کچھ عناصر امن اور اسلامی نظام کے خلاف کھڑے ہو کر اعلان کرتے ہیں کہ جمہوریت کے مقابلے میں آمریت کو تسلیم نہیں کرتے، یہ خود آمریت کی بدترین شکل ہے۔ تمام افغان امن کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ لیکن کرپٹ عناصر اپنے اقتدار کی بقا کی غرض سے عوام کی مرضی کے خلاف کہتے ہیں کہ ہم امن کے لیے اپنی موجودہ فرسودہ حکومت اور قابض قوتوں کے سہارے پر کھڑے نظام کی قربانی نہیں دے سکتے۔ اس سے بڑھ کر آمریت کہاں ہے؟

انہیں یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ عوام انہیں مزید مہلت نہیں دینا چاہتے۔ لہذا وہ اپنے موقف پر دوبارہ غور کریں۔ ورنہ ان کا حشر بہت برا ہوگا۔

 

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*