دسمبر 11, 2019

اشرف غنی صدارتی الیکشن کے امیدوار

اشرف غنی صدارتی الیکشن کے امیدوار

آج کی بات

28 ستمبر کو نام نہاد صدارتی انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔ گزشتہ روز کابل میں نامزد امیدواروں نے انتخابی مہم کا آغاز کر دیا ہے۔ اشرف غنی اور ڈاکٹر عبداللہ پچھلی مرتبہ جان کیری کے رحم و کرم سے مسلط ہوئے اور انہوں نے گزشتہ پانچ برس کے دوران مظلوم افغان عوام پر ظلم کی انتہا کر دی ہے۔ امریکا کی خوشنودی کے لیے اس قوم پر ہر قسم کے مظالم ڈھائے گئے۔ گزشتہ روز یہ منحوس چہرے ایک بار پھر کابل میں نمودار ہوئے اور اعلان کیا کہ وہ اگلے پانچ سال کے لیے پھر صدارتی الیکشن کے امیدوار ہوں گے اور لوگ ہمیں کو ووٹ دیں۔

قوم اشرف غنی اور ڈاکٹر عبداللہ سے پوچھتی ہے کہ وہ کس کارکردگی کی بنیاد پر خود کو اس بات کا حق دار سمجھتے ہیں کہ اس مظلوم مسلم قوم پر مزید پانچ برس کے لیے حکمرانی کریں ؟ کیا آپ نے گزشتہ پانچ سالوں میں کسی صوبے میں کم سے کم پانچ کلومیٹر زمین پر امن قائم کیا ہے؟ عوام نے آپ کی فورسز کے مظالم سے کوئی دن سکون سے گزارا ہے ؟ کیا تاجروں اور سرمایہ کاروں نے اطمنان کے ساتھ کاروبار کیا ہے؟ کیا ملک میں کوئی ایسی فیکٹری بنائی، جس میں کم از کم دس ہزار افراد کو روزگار ملا ہو؟ ہزاروں لوگ علاج کی غرض سے پاکستان اور ہندوستان جاتے ہیں۔ وہاں مختلف مسائل اور مشکلات سے دوچار ہوتے ہیں۔ کیا ان لوگوں کے لیے ملک میں کوئی ایسا مثالی ہسپتال قائم کیا ہے؟ غربت اور بے روزگاری کی وجہ سے ہزاروں نوجوان روزگار کے لیے ملک سے فرار ہوتے ہیں، کیا ان کے لیے کچھ کیا گیا ہے ؟

دوسری جانب یہ بھی کہا جاتا ہے کہ آپ کی برکت سے اب افغانستان کرپشن، غربت اور منشیات کی اسمگلنگ کے لحاظ سے سرفرست ہے ۔ صدارتی محل میں فحاشی کے اڈے کھول دیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ دیگر اداروں، پارلیمنٹ، وزارتوں اور بیرون ممالک سفارت خانوں میں ان خواتین کو تعینات کیا جاتا تھا، جن کی عزت کے جنازے پہلے ایوان صدر میں اٹھ چکے تھے ۔ کیا یہ ضمیر فروش لوگ ایک بار پھر قوم پر مسلط ہونا چاہتے ہیں؟ خبردار! اس بار آپ کے تمام مواقع اور امکانات ختم ہو گئے ہیں۔ گزشتہ الیکشن میں دس لاکھ لوگوں نے آپ کو ووٹ دیے۔ اس وقت جان کیری وافر مقدار میں ڈالر اور بگرام میں امریکی کمانڈر تھے، جب کہ اس بار آپ کے آقا مصنوعی انتخابات سے پہلے انخلا کے لیے بہانہ تلاش کر رہے ہےیں۔

اب آپ یہ فیصلہ کریں کہ اگر جان کیری ہوں نہ امریکی ڈالر اور نہ ہی بگرام میں امریکی کمانڈر تو آپ چند دن ایوان صدر میں ٹھہر سکیں گے؟

Related posts