دسمبر 06, 2019

دہشت گرد کون اور خودمختاری کے مزاحمت کار کون ہیں ؟

دہشت گرد کون اور خودمختاری کے مزاحمت کار کون ہیں ؟

ہفتہ وار تبصرہ

عصرجدید اور حالیہ صدیوں کی ترقی کی عظیم کامیابی میڈیا تصور کی جاتی ہے۔ اس مؤثر پدیدہ کی ایجاد اور ظہور  سے یہ امید پیدا ہوئی کہ اس طریقے سےانسان کی سالم رہنمائی اور اذہان کی تنویر سامنے آجائیگی۔ سچ و جھوٹ، حق و باطل کے درمیان تفریق ہوگی اور عوام کے سامنے حقائق اظہر من الشمس ہونگے۔

مگر افسوس کا مقام یہ ہےکہ میڈیا کے نام سے یہ مؤثرترین وسیلہ ابتداء ہی سے عظیم غاصب قوتوں کے ہاتھ لگی۔انہوں نے عوامی آگاہی اور سالم رہنمائی کے بجائے عوام کو گمراہ  اور اذہان کو مغشوش کرنے کی خاطرذرائع ابلاغ کا استعمال شروع  کیا۔ انہوں نے یہ کوشش شروع کردی گئی کہ پدیدوں کی غلط تعریف کیساتھ عوامی ذہنیت کو راستے سےبھٹک دے اور بعد میں اسی عام ذہینت کی انارشی سے ناجائز فائدہ اٹھائے۔

مثال کے طور پرہمارے ملک پر امریکی افواج کا قبضہ ہے اور ان کے خلاف افغان مؤمن عوام مسلح جہاد کررہا ہے۔ امریکی میڈیا نے جارحیت کے ابتدائی سالوں میں امریکی جارحیت کو (پائیدار آزادی کا آپریشن) کا نام دیا اور بیرونی  غاصبوں کو افغانستان کی آزادی کے مزاحمت کار سمجھتے۔اس کے برعکس ان افغان مجاہدین کو جو اپنی سرزمین کی آزادی کے لیے جدوجہد کررہا تھا،انہیں دہشت گردوں کا نام دیا گیا اور  میڈیا اب تک انہی اصطلاحات کو استعمال کررہا ہے۔

اگر حقیقت پر نگاہ ڈالی جائے، تو  بات الٹی ہے، کیونکہ عالمی قاعدے کے مطابق دہشت گرد اس شخص کو کہا جاتا ہے، جو اپنی سیاسی مقاصد کے لیے عوام میں خوف پھیلاتا ہو۔ہم فی الحال مشاہدہ کررہے ہیں کہ بیرونی استعماراور اس کے کٹھ پتلی افواج نے جہادی لہر کو قابو میں لانے کے بجائے عوام کو دہشت زدہ بنانے کا عمل کو شروع کر رکھا ہے۔ روزانہ رات کو وحشت ناک آپریشن کرتے رہتے ہیں،جن کا واحد مقصد اور غرض خوف پھیلانا ہے۔ عوام کو نہایت بےدردی سے شہید کررہے ہیں۔ یہاں تک ایک ہی خاندان کے کئی کئی افراد ، بچے اور خواتین  نہایت درندگی کیساتھ شہید کررہےہیں۔ان ظالمانہ اعمال کے پیچھے اصل محرک ان کا وہ خوف ناک فکر ہے،جس کے عملی کرنے سے مجاہدین کو مرعوب کریں۔ خلاصہ یہ کہ عام شہریوں پرایسے ظالمانہ حملے اور رات کے چھاپے دہشت گردوں کا سب سے ٹھوس اور واقعی مصداق ہے۔

دوسری جانب مجاہدین اس لیے خودمختاری کے مزاحمت کار ہیں، کہ ان کے ملک پر بیرونی استعمار نے حملہ کیا۔ جیسا کہ اٹھارویں، انیسویں اور بیسویں صدیوں کے استعماری دورے میں دنیا کے مختلف ممالک میں حریت پسندوں کی تحریکیں شروع ہوئیں، ایسی مثال ہمارے ملک کا بھی ہے۔مجاہدین نے استعمار کے خلاف جدوجہد شروع کی ہے،اکثر ممالک انہی تحریکوں کے نتیجے میں استقلال کے حصول تک پہنچے، اسی زمانے  کے استعمار انہی حریت پسند مزاحمت کاروں کو  باغی کہتے اور اب یہی باغی اپنی اقوام کے لیے ہیرو ہیں۔

امارت اسلامیہ افغانستان کو یقین ہے کہ ہماری جدوجہد جس طرح دینی لحاظ سے فرض عین جہاد ہے، تو عالمی قوانین کی رو سے بھی سب سے شرافت مندانہ جدوجہد ہے۔امارت اسلامیہ کے مجاہدین دہشت گرد نہیں بلکہ راہ حق کے سرفروش اور خودمختاری کے حصول کے ہیرو ہیں۔ یہ حقیقت اب بھی دشمن کے پروپیگنڈہ کےغبار کے تحت  ہے، مگر تاریخ اس حقیقت کو اجاگر کریگا اور آئندہ نسلیں  امارت اسلامیہ کے مجاہدین پر ایسا فخر کریگا،جس طرح انگریز کے خلاف جہاد کے بہادروں نے ملک کو ایک خونریز استعمار سے نجات دلایا تھا۔

Related posts