شہری ہلاکتوں میں اضافہ

آج کی بات

اگرچہ افغانستان میں امریکا کی قیادت میں اتحادی فوج نے دعوی کیا ہے کہ جنگ اور دہشت کا اختیار کٹھ پتلیوں کو دیا ہے اور وہ دیہاتوں اور دور دراز علاقوں میں چھاپے مارتے ہیں۔ طالبان کے ساتھ جنگ کے نام پر نہتے شہریوں، مدارس، اسکولز، ہسپتالوں، دکانوں، چھوٹے بازاروں اور دیگر عوامی مقامات کو نشانہ بناتے ہیں۔ ظالمانہ چھاپے مارتے اور فضائی حملے کرتے ہیں ۔

غیرملکی حملہ آوروں نے ایسا تاثر دیا ہے کہ ان جنگی جرائم میں ان کا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے، تاہم عملی طور پر ہم دیکھ رہے ہیں کہ وہ ہر چھاپے میں افغان فورسز سے پیش پیش ہوتے ہیں ۔ کچھ دن پہلے بغلان کے ضلع ڈنڈ شہاب الدین میں ایک گھر پر بمباری میں خواتین اور بچوں سمیت ایک خاندان کے 7 افراد شہید ہوگئے۔ ہرات کے ضلع شین ڈنڈ میں 9 عام شہری شہید ہوگئے۔ صوبہ میدان وردگ کے ضلع دایمرداد کے علاقے تنگی میں ایک ہسپتال پر حملے میں چار شہری شہید ہوگئے۔ میدان وردگ کے ضلع جغتو میں رات کے چھاپے کے دوران 14 شہری شہید ہوگئے، جن میں ایک بوڑھے شخص کے چار بیٹے شامل تھے۔ پرسوں اروزگان کے ضلع گیزاب میں قابض فوج کے فضائی حملے میں 35 عام شہری شہید ہوگئے، جن میں کابل انتظامیہ کے سابق گورنر کے خاندان کے لوگ بھی شامل تھے۔ گزشتہ روز عصر کے وقت لوگر کے دارالحکومت کے قریب کمال خیل کے علاقے میں ایک مسجد پر بمباری سے 15 نمازی شہید ہوگئے۔ ایسے بہت سے واقعات ہیں، جن میں قابض فوج اپنی افغان غلام فوج کے ساتھ مل کر حملہ کرتی ہے۔

اس سے معلوم ہوتا ہے قابض فوج چھپ کر وار کرتی ہے۔ افغان عوام کا قتل عام اس کا مشغلہ بن چکا ہے۔ تاثر یہ دیا گیا ہے کہ ان مظالم میں صرف افغان فورسز ملوث ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سب کچھ قابض امریکی فوج کی براہ براست مداخلت سے ہو رہا ہے۔ ہر واقعے میں امریکی فوجی یا بلیک واٹر کے کارندے شامل ہوتے ہیں۔ وہ افغان فورسز کے ساتھ مل کر ہمارے نہتے شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

قابض فوج کو سمجھنا چاہیے دشمن کے ساتھ جنگ الگ  چیز ہے اور عوام کا بے جا قتلِ عام الگ معاملہ ہونے سے ناقابل معافی جرم ہے۔ دشمن اس جرم سے ہرگز بری نہیں ہو سکتا۔ وہ ان جرائم میں برابر شریک ہے۔ تاریخ کی عدالت میں وہ ضرور جواب دے گا۔ بین الاقوامی برادری، انسانی ہمدردی کی تنظیموں، میڈیا اور قانونی اداروں کو چاہیے وہ حملہ آوروں اور کابل انتظامیہ کے مظالم کا نوٹس لیں۔ ان کی روک تھام کے لیے آواز اٹھائیں۔ نہتے شہریوں کے تحفظ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کریں ۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*