ایسا ظلم جس کی کوئی انتہا نہیں

آج کی بات‏

حملہ آوروں اور کٹھ پتلی حکومت کے فوجیوں نے دن رات ایک کر کے افغانوں کے گھروں، مقدس اور پبلک مقامات پر ‏فضائی حملوں اور چھاپوں کا سلسلہ تیز کر دیا ہے، خواتین اور بچوں کو بے دردی سے قتل کرنے، ان کے گھروں کو دھماکہ خیز ‏مواد سے اڑانے، ان سے قیمتی چیزوں کو لوٹنے، یہاں تک کہ مال مویشی کو بھی ظلم کا نشانہ بنانے کے لئے نت نئے طریقے ‏ایجاد کر رہے ہیں ۔‏”چند دن پہلے اشرف غنی نے فورسز کو مخاطب کر کے کہا کہ آپ جمہوریت کے سپاہی ہیں، جی ہاں، جمہوریت کے سپاہیوں ‏کے مظالم کی کوئی حدود نہیں ہیں، عورتوں، بچوں، بوڑھوں اور یہاں تک کہ جانوروں کو بھی نشانہ بنایا جاتا ہے، اسکولوں، ‏کلینکوں اور مارکیٹوں کو جلا دیا جاتا ہے اور پھر ان اقدامات پر فخر بھی کرتے ہیں ۔جمہوریت کے فوجیوں نے اپنے مظالم کے سلسلے گزشتہ رات میدان وردگ کے ضلع جغتو کے علاقے چوپان اور اس کے ارد ‏گرد علاقوں پر چھاپہ مارا، ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس سفاکانہ کارروائی میں 16 عام شہری شہید ہوئے ۔گزشتہ ہفتہ کے دوران بھی سفاک دشمن نے میدان وردگ، ہلمند، فراہ، فاریاب، پکتیا، تخار اور دیگر صوبوں میں ایسی ‏کارروائیاں کیں اور درجنوں نہتے شہریوں کو شہید اور زخمی کر دیا گیا، کئی مکانات اور دکانوں کو لوٹنے کے بعد جلا دیا گیا ۔بزدل دشمن کا خیال ہے کہ ایسے مظالم کے ذریعے وہ اپنی کمزوریوں کو چھپانے اور راہ فرار اختیار کرنے والے اہل کاروں کو ‏حوصلہ دے سکتا ہے، لیکن یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ ظلم کے ذریعے کامیابی حاصل کرنا ممکن نہیں ہے، اگر ظلم کے ذریعے ‏کامیابی کا حصول ممکن ہوتا تو آج قابض فوج اور اجرتی فورسز پسپائی اختیار نہ کرتیں، کیوں کہ سفاک دشمن نے کسی قسم کے ‏ظلم سے دریغ نہیں کیا لیکن اس کا حشر آج سب کے سامنے ہے ۔امریکی جارحیت پسند اور کابل انتظامیہ کے حکام بھی کمیونسٹوں کے نقش قدم پر چل پڑے ہیں، سوویت یونین اور افغان ‏کمیونسٹوں کو جب اپنی شکست کا یقین ہوا تو انہوں نے ظلم کا سلسلہ تیز کر دیا کیوں کہ وہ یہ سوچ رہے تھے کہ شاہد اس طریقے ‏سے وہ کامیابی حاصل کر سکتے ہیں، لیکن نہ صرف انہیں کامیابی نہیں ملی بلکہ افغان عوام کے خون اور آہوں کے طوفان میں ‏ان کے اقتدار کی کشتی بھی ڈوب گئی، اب بھی قوم کو یقین ہے کہ قابض امریکی فوج اور اجرتی فورسز کا ظلم دشمن کی مکمل ‏تباہی کا سبب بنے گا ۔امارت اسلامیہ افغان عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لئے پرعزم ہے، اپنی کارروائیوں میں عام شہریوں کو نقصان پہنچنے میں ‏احتیاط برتتے ہیں، کئی ایسے مواقع آئے ہیں کہ انہوں نے دشمن کے ٹھکانوں پر آپریشن کی منصوبہ بندی کی ہے لیکن سویلین ‏کو نقصان پہنچنے کے پیش نظر آپریشن ترک کیا ہے، اگر کہیں پر مجاہدین کی کارروائیوں میں عام شہریوں کو نقصان ہوا ہے تو ‏انہیں سزا دی گئی ہے تاہم سفاک دشمن نے ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت عام شہریوں اور عوامی تنصیبات کو نشانہ بنانے ‏کی پالیسی اختیار کی ہے اور مسلسل عام شہریوں، ان کے مکانات کو نشانہ بنایا جاتا ہے ۔امارت اسلامیہ نے ہمیشہ ایک محافظ قوت کے طور پر افغان عوام کے قاتلوں سے بدلہ لیا ہے اور انہیں کڑی سزا دی ہے، ‏مجاہدین اسلام اور وطن کے دشمن کو چین سے رہنے نہیں دیں گے اپنے مظلوم عوام کا بدلہ ان سے ضرور لیں گے اور قوم کو ‏ان کے مظالم سے نجات دلائیں گے ۔ ان شاء اللہ

ایک تبصرہ

  1. محمد یونس

    یہ الزام تو افغان گورنمنٹ، افغان عوام اور افغان سیاسی رہنما آپ پر لگا رہے ہیں ۔۔۔۔ اقر آپ ان پر ۔۔۔۔۔
    میں پعرے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ یہ سب ظلم و ستم افغان گورنمنٹ اور امریکہ اور ان کے اتحادی کر رہے ہیں ۔۔۔۔ لیکن یہ بات عوام پر کیسے منکشف ہو ؟

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*