نومبر 16, 2019

جنگی جرائم (مارچ 2019)

جنگی جرائم (مارچ 2019)

تحریر: سید سعید

3 مارچ 2019 کو حکومتی فورسز نے فاریاب کے ضلع دولت آباد کے علاقے قلعہ قوزی بائی میں ایک مسجد اور کلینک پر حملہ کیا ۔

4 مارچ کو قابض اور اجرتی دشمن نے قندھار کے ضلع شاہ ولی کوٹ کے علاقے سرناوہ میں سول آبادی پر چھاپہ مارا جس میں چار افراد شہید اور زخمی ہوئے جبکہ پانچ افراد کو گرفتار کیا گیا ۔

5 مارچ کو صوبہ لغمان ضلع پادپش کے علاقے گڑوچ پر امریکی ڈرون حملے میں نو شہری شہید ہوئے ۔

5 مارچ کو صوبہ خوست کے ضلع صبریو کے قریب ایک گاؤں میں حکومتی فورسز نے ایک طالب علم کو شہید، اس کے والد سمیت چار افراد کو حراست میں لیا ۔

5 مارچ کو ننگرہار کے ضلع شیرزاد کے علاقے گندمک میں قابض امریکی فوج نے چھاپہ مارا، جس کے نتیجے میں پانچ مکانات تباہ اور دو افراد شہید ہوئے ۔

7 مارچ کو ہلمند کے ضلع نوزاد کے علاقے تنگی میں حملہ آوروں اور داخلی فوجیوں نے مشترکہ کارروائی کے دوران ایک پیش امام، دو ڈاکٹروں سمیت پانچ افراد کو حراست میں لیا ۔

8 مارچ کو ہلمند کے ضلع موسی قلعہ کے علاقے خوجداد میں امریکی ڈرون حملے میں دو افراد شہید ہوئے ۔

8 مارچ کو جارحیت پسندوں اور اجرتی فورسز نے صوبہ ننگرہار کے ضلع حصارک کے علاقے ناصرخیل میں چھاپہ مارا، گھروں کے دورازے توڑ دیئے اور قیمتی اشیاء کو لوٹنے کے بعد علاقے پر وحشیانہ بمباری کی جس کے نتیجے میں ڈاکٹر نظرگل کے خاندان کے 13 افراد جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے، شہید اور دو زخمی ہوگئے ۔

8 مارچ کو جارحیت پسندوں اور افغان فورسز نے غزنی کے ضلع آب بند کے علاقے اصغر اور کوہی پر چھاپہ مارا، ایک مسجد، 13 مکانات اور ایک دوکان کو مسمار کرنے کے بعد 4 افراد کو حراست میں لیا ۔

8 مارچ کو سفاک دشمن نے غزنی کے ضلع واغظ کے علاقے بدری اور میردار میں چھاپے کے دوران 1 مسجد، 10 دکانوں اور 13 مکانات کو تباہ کر دیا اور مسجد کے امام کو تین طلبہ سمیت حراست میں لیا، اسی طرح ضلع قرہ باغ کے علاقے باران قلعہ میں بھی متعدد گھروں کے دروازوں کو دھماکہ خیز مواد سے تباہ کرنے کے علاوہ دو شہریوں کو شہید کیا گیا ۔

9 مارچ کو بادغیس کے ضلع مرغاب کے علاقے سرخلنگ میں سفاک دشمن کی بمباری میں 4 شہری شہید ہوئے ۔

9 مارچ کو پکتیکا کے ضلع برمل کے علاقے رخہ میں قابض فوج نے ایک چھاپے میں آٹھ شہریوں کو شہید کیا ۔

12 مارچ کو سیکورٹی فورسز نے ننگرہار کے ضلع خوگیانو کے علاقے ٹٹگ پر چھاپہ مارا، گھروں کے دروازوں کو دھماکہ خیز مواد سے اڑایا گیا، چھ افراد کو شہید اور دو افراد کو حراست میں لیا ۔

12 مارچ کو اتحادی افواج نے غزنی کے ضلع شلگر کے علاقہ قلعہ شیر میں ایک گاڑی پر بمباری کی جس میں سوار تمام افراد لقمہ اجل بن گئے، مقامی لوگ لاشیں نکالنے کے لئے جب جمع ہوئے تو دوبارہ ان پر بمباری کی گئی جس میں مزید دس افراد شہید ہوئے ۔

12 مارچ کو ہلمند کے ضلع گرشک کے علاقہ قلعہ گز میں امریکی ڈرون طیارے نے حملہ کیا جس میں ایک خاتون سمیت دو افراد شہید ہوئے ۔

13 مارچ کو فراہ کے ضلع بکوا کے علاقے اشکین تخت میں اجرتی فورسز کے حملے میں تین افراد (حمید اللہ، تورجان اور نورالله) شہید ہوئے ۔

13 مارچ کو ارزگان کے دارالحکومت ترین کوٹ میں قابض امریکی فوج کی بمباری کے نتیجے میں تین افراد شہید ہوئے ۔

13 مارچ کو حملہ آوروں نے ہلمند کے ضلع مارجہ میں کرو چار راہی کے علاقے میں ایک گاڑی پر حملہ کیا جس میں سوار تین افراد شہید ہوئے ۔

14 مارچ کو پکتیا کے ضلع زرمت کے علاقے سہاکو ھیبت خیل میں دشمن کے مشترکہ آپریشن میں پانچ شہدی شہید ہوئے ۔

14 مارچ کو حملہ آوروں اور اجرتی فورسز نے میدان وردگ کے ضلع سید آباد کے شیخ آباد، زرین خیل، کوڈی، نوری اور خڑیان دیہات پر چھاپہ مارا اس دوران دو مساجد، ایک پیش امام سمیت متعدد افراد کو شہید کیا گیا ۔

14 مارچ کو فاریاب کے ضلع شیرین تگاب کے علاقے فیض آباد میں پولیس کی فائرنگ سے ایک خاتون، ایک بچہ سمیت چار افراد شہید ہو گئے ۔

16 مارچ کو قندوز کے چہار درہ کے علاقے خلازیی میں قابض فوج کی بمباری میں سات افراد شہید اور زخمی ہوئے ۔

16 مارچ کو خوست کے ضلع باک کے علاقے سمن خیل میں فورسز کی کارروائی میں حاجی لونگ نامی قومی شخص شہید ہوا ۔

17 مارچ کو اجرتی فورسز نے زابل کے ضلع شہرصفا میں حاجی عبدالجبار کا گھر تباہ کیا جس میں چار کسان شہید ہوئے ۔

17 مارچ کو افغان فورسز نے خوست کے دارالحکومت کے قریب پیرکلی کے علاقے میں فورسز نے ایک دینی مدرسہ پر چھاپہ مارا، ایک طالب علم کو شہید اور تین طالب علموں کو حراست میں لیا ۔

18 مارچ کو حملہ آوروں نے میدان وردگ کے ضلع نرخ کے علاقے خواجہ بلند میں قابض فوج نے ایک گاڑی پر بمباری کی جس میں سوار تمام افراد شہید ہوئے ۔

19 مارچ کو دشمن کی مشترکہ کارروائی میں زابل کے ضلع شہر صفا کے علاقے فولاد گاوں میں ڈاکٹر عبدالحمید کو گرفتار، اس کے بھائی کو شہید اور دو خواتین کو زخمی کر دیا ۔

20 مارچ کو پکتیکا کے ضلع چار بران کے سپینہ گاؤں میں قابض فوج کے چھاپے میں پیش امام مولوی محمد یوسف سمیت تین افراد حاجی عبدالبصیر اور جلال الدین شہید ہوئے ۔

20 مارچ کو حملہ آوروں نے ہلمند کے ضلع گرشک کے علاقے قلعہ گز کنجک میں قابض فوج کی بمباری میں دو افراد شہید ہوئے ۔

20 مارچ کو ہلمند کے ضلع سنگین کے علاقے شرافت میں قابض امریکی فوج نے طالبان کے زیر اہتمام ایک جیل پر حملہ کیا جس میں پولیس اہل کار سمیت جرائم پیشہ عناصر قید تھے جس میں درجنوں قیدی شہید ہوئے ۔

22 مارچ کو قندوز کے دارالحکومت کے قریب تیلاوکہ میں قابض فوج کی بمباری میں 13 شہری شہید ہوئے جس کے خلاف عوام نے احتجاجی ریلی نکالی اور مظاہرہ کیا ۔

23 مارچ کو غزنی کے ضلع زنخان کے علاقے گوگیر اور فقیر پر قابض امریکی فوج نے چھاپہ مارا جس میں ایک دینی مدرسہ اور مسجد، چھ طالب علموں کو شہید اور تین افراد کو زخمی کر دیا ۔

23 مارچ کو ننگرہار کے ضلع بہسود کے علاقے گردی کچ میں قابض امریکی فوج اور افغان فورسز کی مشترکہ کارروائی میں 6 افراد شہید اور زخمی ہوئے ۔

23 مارچ کو فاریاب کے ضلع المار کے علاقے بازار میں پولیس کی فائرنگ سے ایک شخص خیر محمد شہید ہوا ۔

24 مارچ کو نورستان کے ضلع نورگرام کے علاقہ دمہ گل میں فورسز کی فائرنگ سے پانچ شہری شہید اور زخمی ہوئے ۔

25 مارچ کو ہلمند کے ضلع گرشک کے علاقے شورکی میں قابض امریکی فوج کے ڈرون حملے میں چار خواتین اور تین بچوں سمیت 8 افراد شہید ہوئے ۔

25 مارچ کو قندز کے دارالحکومت کے قریب اوبز قندہاری کے علاقے میں امریکی فوج کی بمباری میں دو مساجد کے پیش امام شہید ہوئے ۔

25 مارچ کو جارحیت پسندوں اور اجرتی فورسز کی مشترکہ کارروائی میں کابل کے ضلع سروبی کے علاقے گرگو قلعہ کلان میں خواتین اور بچوں سمیت 14 افراد شہید اور زخمی ہوئے ۔

25 مارچ کو ننگرہار کے ضلع شیرزاد میں قابض امریکی فوج کے حملے میں پانچ شہری شہید اور متعدد افراد زخمی ہوئے ۔

30 مارچ کو غزنی کے ضلع شلگر کے علاقے یرگٹو میں فورسز نے ملا نوح بابا کالج پر حملہ کیا جس میں ایک استاد سمیت چار طلبہ شہید 11 طالب علم زخمی ہوئے ۔

ذرائع: "بی بی سی، آزادی ریڈیو ، افغان اسلامک پریس، پژواک، خبریال ، لر او بر، نن ڈاٹ ایشیا اور بینوا ویب سائٹس” ۔

Related posts