اکتوبر 16, 2019

جنگی جرائم (فروری2019)

جنگی جرائم (فروری2019)

سید سعید

6 فروری 2019 کو صوبہ میدان وردگ کے ضلع جلگہ کے علاقے رشید اور نازک خیل پر قابض فوج اور اجرتی فورسز نے چھاپہ مارا۔ اس میں مقامی لوگوں کے مکانات اور ایک مدرسے کو مسمار کر دیا گیا۔ مدرسے کے مہتمم مولوی عبدالرحمن سمیت چار افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔ اسی دن ہلمند کے ضلع موسی قلعہ کے علاقے شابان میں حملہ آوروں کے ڈرون حملے میں تین مسافر شہید ہوگئے۔ جب کہ ضلع گریشک کے علاقے شورکی پر حملہ آوروں اور افغان فورسز کے چھاپے میں چار افراد شہید اور دو زخمی ہوگئے۔ اسی دن صوبہ ننگرہار کے ضلع لعل پوری کے علاقے چکنور اور رحمت میں جارحیت پسندوں اور افغان فورسز کی مشترکہ کارروائی کے دوران چار افراد شہید اور ایک خاتون زخمی ہو گئیں۔

8فروری کو صوبہ ہلمند کے ضلع سنگین کے علاقے سروان قلعہ، پوزکی، خانان اور گاؤں بارکزئی پر قابض فوج اور افغان اہل کاروں نے چھاپہ مارنے کے بعد بمباری کی، جس میں ایک خاندان کے پانچ مرد، گیارہ خواتین اور بچے شہید ہوگئے۔ پندرہ خواتین اور بچے زخمی ہوگئے۔ اس کے علاوہ دشمن نے ایک مسجد، تین مکان، دو دکانوں اور آٹھ گاڑیوں کو جلا دیا۔ جب کہ ضلع گرمیسر کے علاقے دیوالا میں قابض امریکی فوج کے ڈرون حملے میں ایک گھر تباہ اور اس میں ایک خاتون شہید اور ایک بچہ زخمی ہوگیا۔ اسی دن خوست کے ضلع صبریو کے مضافات میں حملہ آوروں اور افغان فورسز کے چھاپے کے دوران چھ افراد شہید اور زخمی ہوگئے۔

9فروری کو صوبہ لوگر کے ضلع ازرہ کے علاقے تنگ میں قابض فوج اور اجرتی فورسز نے ایک کارروائی کے دوران ایک ڈاکٹر کو شہید اور دو افراد کو حراست میں لے لیا۔ اسی دن صوبہ کنڑ کے ضلع منورہ کے علاقے پتاؤ پر قابض فوج اور اجرتی فورسز کے چھاپے دوران تین افراد شہید ہوگئے۔ اسی طرح صوبہ لوگر میں پولیس اہل کاروں نے اسکول کے ایک استاد ‘نور الدین ستانکزئی’ کو شہید کر دیا۔

13فروری کو فراہ کے ضلع خاک سفید کے علاقے رنج میں پولیس اہل کاروں نے غیرسرکاری تنظیم ایم آر سی کے زیرانتظام ایک کلینک پر چھاپہ مارا۔ ایک ڈاکٹر احمد اور پولیو ورکر غوث الدین کو گرفتار کر لیا۔ اس سے اگلے دن فاریاب کے ضلع تگاب کے علاقے تاش قلعہ میں فورسز کی فائرنگ سے دو افراد شہید ہوگئے۔ اسی طرح 18فروری کو صوبہ کاپیسا کے ضلع تگاب کے علاقے بدراب میں قابض فوج اور اجرتی فورسز نے ایک قدیم مدرسے اور صوفی میاں گل جان آغا کی خانقاہ خیرالمدارس کو جلا دیا۔ اس مدرسے کی بنیاد سو سال پہلے رکھی گئی تھی۔ ہزاروں طلبا نے اس مدرسے سے علم حاصل کیا تھا۔ اسی طرح ننگرہار کے ضلع خوگیانو کے علاقے ٹٹنگ میاگان پر جارحیت پسندوں اور اجرتی فورسز کے چھاپے کے دوران آٹھ افراد شہید اور زخمی ہوگئے۔

22فروری کو جارحیت پسندوں اور افغان فورسز نے میدان وردگ کے ضلع جلگہ میں شرتوغی، چتو، درانی اور بابک نامی دیہاتوں پر چھاپہ مارا اور اس کے بعد علاقے پر شدید بمباری کی، جس کے نتیجے میں شرتوغی میں ایک شخص کا گھر مکمل طور پر تباہ ہوگیا۔ اس میں نو افراد شہید ہوئے۔ اس کے علاوہ ایک مسجد اور اس میں پانچ نمازی شہید اور متعدد افراد زخمی ہوگئے۔ کلی درانی میں بھی ایک شخص شہید اور اس کا گھر تباہ ہوا۔ کلی بابک میں بھی ایک مدرسہ مسمار کر کے اس کے چوکیدار کو شہید کر دیا گیا۔

23فروری کو پکتیا کے ضلع جانی خیل کے گاؤں بل خیل میں قابض فوج کے چھاپے کے دوران تین شہری شہید اور متعدد افراد زخمی ہوگئے۔ اس کے علاوہ قابض اہل کاروں نے مکانات کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا۔

25فروری کو غزنی کے ضلع گیلان میں قابض فوج نے ایک کلینک پر حملہ کیا، جس میں ڈاکٹر صدیق اللہ مسلم کو شہید کر کے ان کے کلینک کو تباہ کر دیا گیا۔ اس سے اگلے دن میڈیا نے خبر شائع کی کہ صوبہ سرپل کے ضلع سنگچارک کے مضافات میں افغان فورسز کی بمباری اور گولہ باری کے نتیجے میں مقامی لوگوں کے تیس مکانات تباہ اور سو سے زائد خاندان نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔ جب کہ غزنی  کے ضلع شلگر کے علاقے مہمان اور گبرو پر قابض امریکی فوج کے ڈرون حملے میں دو شہری شہید اور دو افراد زخمی ہو گئے۔  اسی طرح میدان وردگ کے ضلع چک کے گردن مسجد درہ میں قابض فوج اور افغان اہل کاروں نے دو دیہاتوں ‘کوٹ مغل اور بیابان’ پر چھاپہ مارا۔ گھروں کے دروازے دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیے اور آخر میں دو افراد ہجرت اللہ اور وفی اللہ کو شہید اور ایک شخص کو زخمی کر دیا گیا۔

27فروری کو صوبہ خوست کے ضلع صبریو کے علاقے عقبی اور لیکڑی میں قابض فوج کے ڈرون حملوں کے نتیجے میں چار شہری شہید اور متعدد افراد زخمی ہوگئے۔ جب کہ فاریاب کے ضلع پشتون کوٹ کے علاقے عرب اقسای میں فورسز کی گولہ باری کے نتیجے میں ایک شخص شہید اور دو افراد زخمی ہوگئے۔ اسی طرح صوبہ فاریاب کے ضلع قیصار کے علاقے برکی میں پولیس اہل کاروں کی فائرنگ سے ایک عورت سمیت دو افراد زخمی ہوگئے۔

ذرائع: ‘بی بی سی، آزادی ریڈیو ، افغان اسلامک پریس، پژواک، خبریال ، لر او بر، نن ڈاٹ ایشیا اور دیگر ویب سائٹس۔’

Related posts