جنگی مجرموں کو سزا دی جائے

آج کی بات

قابض فوج اور کابل انتظامیہ نے حال ہی میں ایک بار پھر نہتے شہریوں اور عوامی افادیت کے حامل مقانات کو نشانہ بنانے کا سلسلہ تیز کر دیا ہے۔ دشمن کی کارروائیوں میں صرف گزشتہ ہفتے میں خواتین، بچوں اور طلبا سمیت درجنوں افراد شہید اور زخمی ہوئے ہیں۔ دینی مدارس اور ہسپتالوں کو تباہ کیا گیا، جس کے باعث بڑے پیمانے پر انسانی اور مالی بحران پیدا ہوا ۔ مثال کے طور پر 10 جولائی کو سفاک دشمن نے فراہ کے ضلع بکوا میں ایک کلینک پر چھاپہ مارا، جس میں موجود تمام طبی سامان اور ایمولنس کو نذر آتش کیا گیا۔ ارد گرد دکانوں سے قیمتی سامان بھی لوٹ لیا گیا۔

8 جولائی کو امریکی فوج اور کابل انتظامیہ کے مسلح اہل کاروں نے صوبہ میدان وردگ کے ضلع چک کے علاقے تنگی سیدان میں ایک کلینک پر چھاپہ مارا اور 2 ڈاکٹروں سمیت 4 افراد کو شہید اور ایک ڈاکٹر کو حراست میں لے لیا۔ جب کہ اس کلینک کا سارا سامان جلا دیا  گیا۔ اسی دن حملہ آوروں نے بغلان کے ضلع ڈنڈ شہاب الدین کے علاقے کتب خیل میں ایک گھر پر ڈرون حملہ کیا، جس میں ایک ہی خاندان کے 7 افراد شہید ہوگئے۔

سفاک دشمن نے ہلمند کے ضلع کجکی میں CHC  نامی ہسپتال پر چھاپہ مارا۔ وہاں سے دو ڈاکٹروں کو حراست میں لیا گیا اور اس کے قریب باباجی کلینک کی ایمبولینس گاڑی پر بمباری کر کے اسے تباہ کر دیا گیا۔ دشمن نے غزنی کے ضلع شلگر میں ایمرجنسی کلینک کے ڈائریکٹر ڈاکٹر گل احمد اور ان کے ساتھی کو شہید کر دیا۔

ان طبی مراکز پر حملے صرف ہفتے کے واقعات ہیں۔ اس کے علاوہ گزشتہ ہفتے مختلف علاقوں میں قابض فوج نے مساجد، اسکولز، گھروں، مارکیٹس اور پبلک مقامات پر متعدد حملے کیے، جس کے باعث عوام کو بھاری جانی اور مالی نقصان ہوا ۔ امارت اسلامیہ کے ہیلتھ کمیشن نے صحت کے مراکز پر سفاک دشمن کے حملوں کے بارے ایک اعلامیہ جاری کیا ہے، جس کے مطابق امارت اسلامیہ ایسے سفاکانہ حملوں اور جان بوجھ کر انہیں نشانہ بنانے کی شدید مذمت کرتی ہے۔ اس عمل کو تمام انسانی اقدار کے خلاف اور جنگی جرائم قرار دیتی ہے۔ اسی طرح عالمی ادارہ صحت، انسانی حقوق، قانونی تنظیموں اور دیگر انسانی اداروں سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ افغانستان میں صحت کے مراکز کے خلاف قابض امریکی فوج کے گھناؤنے اقدامات کی مذمت کریں۔ فوری اور شفاف تحقیقات کریں اور مستقبل میں ایسے جنگی جرائم کی روک تھام کریں۔

امارت اسلامیہ تعلیمی اداروں، صحت کے مراکز اور عوامی سہولیات کے حامل مقامات پر دشمن کے حملوں کی مذمت کرتی ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ صحت اور تعلیمی اداروں پر دشمن کے حملوں کی شرح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ تاہم میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے قابض فوج اور کابل انتظامیہ کے ان جرائم پر مکمل خاموشی اختیار کی ہے ۔ جنگی جرائم پر انسانی حقوق کی تنظیموں اور ذرائع ابلاغ کی خاموشی نے دشمن کے لیے مزید مظالم ڈھانے کا راستہ ہموار کیا ہے۔ افغان غریب عوام پہلے ہی سے بنیادی طبی سہولیات سے محروم ہیں۔ انسانی حقوق کی نگرانی کرنے والی تنظیم نے میدان وردگ میں ایک ہسپتال پر حملے میں ملوث قاتلوں کو سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے، جو نیک شگون ہے ۔

امارت اسلامیہ صحت اور تعلیمی اداروں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ امارت نے انتہائی مشکل حالات میں طبی اور تعلیمی اداروں کی حفاظت کی ہے۔ ان کے عملے اور محافظوں سے تعاون کیا ہے۔ نہتے شہریوں اور عوامی افادیت کے حامل مقامات پر حملوں کا سلسلہ بند کر دیا جائے۔ جو بھی جنگ کے اصولوں کی خلاف ورزی کرے، اسے سزا دینی چاہیے ۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*