امن کانفرنس میں کابل حکومت کا موقف

آج کی بات

قطر کے دارالحکومت دوحا میں دو روزہ ‘انٹرا افغان کانفرنس’ ایک اعلامیے کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی، جس میں شامل تمام شرکا نے امارت اسلامیہ اور افغان عوام کے مطالبات کی حمایت کی ہے۔ البتہ کابل انتظامیہ نے اس حوالے سے متضاد موقف اپنایا اور مختلف ردعمل ظاہر کیا  سب سے پہلے امن کانفرنس کے جواب میں عسکری ردعمل ظاہر کرتے ہوئے قابض فوج کے ساتھ مل کر میدان وردگ، بغلان اور ہرات میں چھاپوں اور فضائی حملوں میں خواتین، بچوں اور ڈاکٹروں سمیت 22 نہتے شہریوں کو شہید کیا گیا۔

ان کے لواحقین اور عام لوگوں نے شہداء کی لاشیں اٹھا کر قومی شاہراہوں اور بڑے شہروں میں بھرپور احتحاج کیا، جن کی تمام تر تفصیلات میڈیا نے ٹھوس ثبوتوں کے ساتھ شائع کرنے کا اہتمام کیا۔

کابل انتظامیہ کے سیاسی حکام نے بھی متضاد موقف اپناتے ہوئے الگ الگ ردعمل ظاہر کیا۔ وزارت خارجہ نے جاری کردہ بیان میں کہا کہ ‘امن کانفرنس کے اعلامیے میں چند نکات مثبت تھے۔’ تاہم وزارت خارجہ نے ان چند نکات کی وضاحت نہیں کی۔ دوسری جانب ایوان صدر کے ترجمان نے بی سی سی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ‘امن مذاکرات کے دوران انہیں پل پل کی خبریں موصول ہوتی رہی ہیں۔ وہ مذاکرات کی حمایت کرتے ہیں۔’

جب کہ ایوان بالا میں سینیٹرز نے بہت منفی ردعمل ظاہر کیا اور کہا کہ اعلامیے میں چند نکات آئین اور افغان عوام کے مطالبات سے متصادم ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘اس اعلامیے میں چالیس سال سے جاری جنگ کو جہاد کہا گیا ہے۔ جب کہ یہ غلط ہے۔ کیوں کہ اس کے مطابق بیس سال سے طالبان کی لڑائی بھی جہاد ثابت ہوتی ہے۔’ سینیٹ کے چیئرمین فضل ہادی مسلم یار نے کہا کہ ‘اصل مجاہدین کابل انتظامیہ کے فوجی اور پولیس اہل کار ہیں نہ کہ طالبان!!’ سینیٹرز نے کہا کہ اسلامی نظام کا مطالبہ بھی افغان عوام کی خواہشات کے خلاف اور ناقابل قبول ہے۔ کیوں کہ موجودہ حکومت اسلامی ہے اور یہی کافی ہے۔

مسلم یار نے کہا کہ ‘طالبان جب تک کابل حکومت کو امن مذاکرات میں باضابطہ فریق تسلیم نہیں کریں گے، تب تک ہم ان کے مطالبات تسلیم نہیں کریں گے۔’

اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر طالبان کابل انتظامیہ کے ساتھ براہ راست مذاکرات کریں گے تو پھر طالبان کی چالیس سال سے جاری جنگ مسلم یار کی نظر میں جہاد قرار دیا جا سکتا ہے اور تب اسلامی نظام کا مطالبہ بھی بجا ہوگا۔

یہاں قابل غور بات یہ ہے کہ کابل کی موجودہ انتظامیہ قومی، اسلامی، سیاسی اور نظریاتی اقدار سے اتنی نابلد ہے کہ اس کے ہر ایک اہل کار کا اپنا الگ موقف ہے۔ حتی کہ مختلف اہل کار نے مختلف خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا:

‘فرض جہاد کو جہاد نہ کہا جائے۔ افغانستان جیسے سو فیصد مسلم معاشرے میں اسلامی نظام کا مطالبہ نہ کیا جائے۔ اسلام اور وطن کی آزادی کے لیے لڑنے والے مجاہد کو  دہشت گرد قرار دیا جائے۔ جب کہ قابض فوج کے تربیت یافتہ اہل کار کو مجاہد کہا جائے۔’

کیا ایسے لوگ اس کے قابل ہیں کہ انہیں افغانستان کے ایک فریق کے طور پر تسلیم اور برداشت کیا جائے؟ حقیقت یہ ہے کہ افغان تنازع کی پہلی بنیادی وجہ غیرملکی قبضہ اور کابل حکومت کی معاونت ہے۔ اس انتظامیہ کی اتنی حیثیت نہیں ہے کہ اسے افغان عوام کا نمائندہ باور کر کے اس کے ساتھ معاملات طے کیے جائیں۔

امید ہے امریکی جارحیت کے خاتمے کے بعد بین الافغانی مفاہمت کے نتیجے میں افغانستان تمام بحرانوں سے نکل جائے گا۔  یہاں ایک دیر پا اور مستحکم اسلامی نظام نافذ ہو کر رہے گا۔ ان شاء اللہ

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*