دسمبر 06, 2019

اس موقع کو ضائع نہیں کرنا چاہیے

اس موقع کو ضائع نہیں کرنا چاہیے

ہفتہ وار تبصرہ

افغانستان میں گذشتہ چار دہائیوں سے حالت بحرانی ہے۔لیکن اٹھارہ برس قبل امریکا نے بھی اس بحران میں شرکت کی۔ امریکا اور اس کے دیگر  اتحادیوں نے افغانستان پر حملہ کیا اور متعدد فوجیوں کو افغانستان لے آئیں۔

گذشتہ اٹھارہ سالوں میں افغان مسئلے  کو یک جانبہ کرنے کے مقصد  میں امریکی حکام اور ان کے افغان و عالمی اتحادیوں کی جانب سے متعدد پالیسیاں عملی ہوئیں۔  فوجی کاروائیاں، جنگی دباؤ، جنرلوں کا تغیر و تبدیلی، افواج کی کثرت، پروپیگنڈانہ اور اینٹلی جنس کوششیں وغیرہ ۔مگر جیسا کہ ان تمام کے پیچھے علاقائی حمایت اور محاسبہ موجود نہیں تھا، تو اسی لیے یہی موضوع ناقابل حل رہا اورامریکی تاریخ کی طویل ترین لڑائی اب تک جاری ہے،جس میں جانبین کو روزانہ جانی و مالی نقصانات کا سامنا ہورہا ہے۔

تاریخی تجربات ثابت کررہا ہے کہ جنگیں،جنگوں سے ختم نہیں ہوتیں، بلکہ بات چیت اور افہام وتفہیم سے اختتام پذیر ہوتی ہیں۔ گذشتہ اٹھارہ برسوں کے دوران یہ  حقیقت ثابت ہوا،جس کے نتیجے میں موجودہ تنازع کے حل کی خاطر مذاکراتی عمل کا آغاز ہوا اور اس میں روزانہ پشترفت ہورہی ہے۔

جولائی کے آغاز سے مملکت قطر کے دارالحکومت دوحہ شہر میں افغان موضوع کے حل کی خاطر  دو اہم پشترفت ہوئی۔ پہلا امارت اسلامیہ اور امریکی نمائندوں کے درمیان مذاکرات کے نئے مرحلے کا انجام ہونا  اور اس کے ساتھ بین الافغانی افہام وتفہیم  دو روزہ کانفرنس کا انعقاد ہونا، جو ماضی کی نسبت قابل دید مثبت نتائج کے حامل تھے۔

اجلاسوں نے ثابت کردیا کہ اس وقت افغانستان میں جنگ میں ملوث تمام فریق موضوع کے حل پر پابند ہے اور اس راہ میں افہام وتفہیم اور مذاکرات کو واحد حل سمجھتا ہے۔ پرامن حل کے حوالے سے یہ چند پہلو اجتماع ایک تاریخی موقع ہے،جس کے درست استعمال سے تنازع کے حل کی ایک ایسی راہ پیدا ہوسکتی ہے، جو تمام فریقین کے لیے قابل قبول ہو اور اس کے نتیجے میں فریقین جنگ کے نقصان سے نجات کی خاطر خوشیوں کے ماحول  کو اپنالے۔

امارت اسلامیہ تمام فریقین کوبتلاتی ہے کہ موضوع کے حل کے متعلق رونما ہونے والے موقع کو اہم سمجھے او رجیسا لازم ہے،ایسے ہی التزام کیساتھ اس سے برتاؤ کریں۔پرامن حل اور افہام وتفہیم کے عمل کے لیے صدق دل اور بہادری سے آگے بڑھے،تاکہ آخری حل کی جانب حقیقی اور مؤثر ترین قدم اٹھایا جاسکے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ موجودہ جنگ سے متاثر  ہونیوالی اقوام ملوث فریقین سے صرف یہی توقع رکھتا ہے۔

Related posts