ملک میں صحت کے مراکز پر بمباری اور چھاپوں بارے کمیشن کا اعلامیہ

گذشتہ چند روز سے ایک بار پھر امریکی استعمار اور اس کے ملکی حواری افواج کی جانب سے ملک  میں ہسپتالوں اور صحت کے مراکز پر بمباری اور چھاپوں میں شدت آئی ہے،جس کے نتیجے میں صحت کے متعدد مراکز  منہدم، بہترین ڈاکٹروں سمیت متعدد طبی کارکن شہید، زخمی اور گرفتار ہوئے ہیں۔

۔دو روز قبل امریکی و کٹھ پتلی فوجوں نے صوبہ میدان ضلع چک کے تنگی درہ کے علاقے میں عوامی خدمت میں مصروف اہم ترین ہسپتال پر چھاپہ مارکر دو ڈاکٹروں سمیت چار افراد کو شہید اور ایک کو حراست میں لیا۔

۔اسی طرح صوبہ فراہ ضلع بکوا کے مرکز میں بھی ایک کلینک پر چھاپہ مارا،عمارت،کھڑیوں اور دروازوں کو تباہ کرنے کے علاوہ طبی سامان آلات کو بھی تباہ کردیا۔

۔صوبہ ہلمند ضلع کجہ کے مربوطہ علاقے  میں سی ایچ سی نامی کلینک پر چھاپہ مار کراسے شدید نقصان پہنچایا اور دو ڈاکٹروں کو حراست میں لیا۔

۔ صوبہ ہلمند کے صدر مقام لشکرگاہ شہر کے باباجی کلینک کی ایمبولینس گاڑی پر بمباری کی گئی اور اسے تباہ کردی گئی۔

۔صوبہ غزنی ضلع شلگر میں ایمرجنسی کلینک پر امریکی طیاروں کی بمباری سے ڈاکٹرگل احمد اور ایک اور ڈاکٹر شہید ہوئے۔

اسی طرح ملک کے دیگر علاقوں میں بھی امریکی اور ملکی حامیوں کی جانب سے صحت کے مراکز اور ہسپتالوں پر حملوں کا سلسلہ منظم طور پر جاری ہے۔

صحت کے مراکز پر اس طرح لاپروا حملے اور قصدی طور پر اسے فوجی ہدف بنانا کمیشن برائے امور صحت امارت اسلامیہ اس کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے  اور اسے تمام انسانی قانون سے مخالف عمل اور جنگی جرم سمجھتی ہے۔

نیز ڈبلیو ایچ او، انسانی تنظمیں، حقوقی ادارے اور دیگر انسان پرست تنظیموں سے مطالبہ کرتی ہے کہ افغانستان میں صحت کے مراکز کے خلاف امریکی وحشت کی مذمت کریں،اس کے متعلق فی الفور تحقیقات کریں اور آئندہ کے لیے اس نوعیت کے جنگی جرائم کا روک تھام کریں۔

کمیشن برائے امور صحت امارت اسلامیہ

08/ ذیعقدہ 1440 ھ بمطابق 11/ جولائی 2019 ء

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*