دسمبر 11, 2019

جارحیت اور امن

جارحیت اور امن

آج کی بات

افغانستان میں امریکی جارحیت سے پہلے مکمل اور پائیدار امن قائم تھا۔ یہاں آباد تمام اقوام کے حقوق محفوظ تھے۔ جب امریکا نے اپنی افغان کٹھ پتلیوں کے ہمراہ جارحیت کا ارتکاب کیا تو اسی دن سے عدم تحفظ، فحاشی، اخلاقی زوال، کرپشن، منشیات، بھتہ خوری، تعصب، لوٹ مار، چوری، قتل، اغوا اور دیگر جرائم کا سلسلہ شروع ہو گیا۔

افغان قوم نے امارت اسلامیہ کی قیادت میں امریکی جارحیت کے خلاف ملک بھر میں مزاحمت شروع کر دی۔ جنوب، شمال، مشرق اور مغرب میں امریکی اور افغان فوج پر حملوں کا آغاز کر دیا۔ بہت ہی مختصر مدت میں مزاحمت میں توقع کے برعکس تیزی آئی۔

حملہ آوروں اور کابل انتظامیہ نے مزاحمت کو کچلنے کے لیے تمام حربے استعمال کیے۔ کسی قسم کے جبر اور ظلم سے دریغ نہیں کیا گیا۔ حتی کہ خطرناک ہتھیاروں کا استعمال بھی کیا گیا۔ دیہاتوں اور دور دراز علاقوں پر باسفورس بم برسائے گئے۔ لاکھوں نہتے شہریوں کو شہید، زخمی اور گرفتار کیا گیا۔ پورے کے پورے گاؤں، بستیوں اور بازاروں کو ملیامٹ کر دیا گیا۔ اللہ کی مدد اور مجاہد عوام کی حمایت سے دشمن کے تمام حربے ناکام ہو گئے۔ مزاحمت میں مزید تیزی آئی اور مجاہدین کی لازوال قربانیوں کی بدولت ملک کے بیشتر علاقوں سے دشمن کا صفایا کر دیا گیا۔ اب ان مفتوحہ علاقوں میں مکمل امن قائم ہے۔

قابض قوتوں نے امارت اسلامیہ کی قیادت میں افغان عوام کی تاریخی مزاحمت اور قوت کا اندازہ لگایا تو اعتراف کیا کہ وہ افغان جنگ نہیں جیت سکتیں۔ امارت اسلامیہ کو مذاکرات کی دعوت دی گئی۔ امارت نے بھی مذاکرات کی پیشکش قبول کر لی، جو کہ امارت کا پرانا موقف تھا۔ اب امارت اسلامیہ اور حملہ آوروں کے درمیان مذاکرات کا ساتواں دور جاری ہے۔ جس میں دو اہم ایجنڈوں پر بات چیت ہو رہی ہے۔ جن میں قابض امریکی فوج کا انخلا اور افغان سرزمین دوسروں کے خلاف استعمال نہ ہونا شامل ہیں۔

امارت اسلامیہ نے بار بار واضح کیا ہے کہ جنگ کی بنیادی وجہ امریکی قبضہ ہے۔ جب تک جارحیت کا خاتمہ نہیں کیا جائے گا، مزاحمت جاری رکھیں گے۔ کچھ لوگ شعوری اور کچھ لوگ نادانستہ طور پر جارحیت کے زیرسایہ امن چاہتے ہیں۔ کبھی کبھار امارت اسلامیہ کو بھی مورد الزام ٹھہراتے ہیں کہ حملہ آوروں کی موجودگی میں کیوں امن معاہدہ نہیں کرتے۔

امارت اسلامیہ قیام امن کے لیے پرعزم ہے۔ اسی وجہ سے اس نے فساد کے خلاف جہاد کا علم بلند کیا اور قیام امن کے لیے حملہ آوروں اور وہ اجرتی فورسز کے خلاف جہاد میں مصروف ہے۔ امریکی جارحیت کے زیر سایہ امن شرعی نصوص سے متصادم اور تاریخ کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔ امن اس وقت قائم ہو سکتا ہے، جب ملک آزاد اور اس میں اسلامی نظام نافذ ہو۔ لہذا پوری قوم کی ذمہ داری ہے کہ وہ امریکی جارحیت کے خلاف یک زبان ہو کر آواز بلند کرے۔ امارت اسلامیہ نے اسی مقصد کے لیے عظیم جدوجہد کی ہے۔

 

Related posts