دوحا  مذاکرات سے وابستہ توقعات

آج کی بات

قطر کے دارالحکومت دوحا میں گزشتہ ایک ہفتے سے امارت اسلامیہ اور امریکی نمائندوں کے درمیان امن مذاکرات کا ساتواں دور شروع ہے۔ فریقین پیش رفت کی خبر دے رہے ہیں۔

دوحا میں بین الافغانی مذاکرات بھی شروع ہوئے ہیں، جس کے باعث امریکا کے ساتھ مذاکرات میں دو دن کا وقفہ لایا گیا ہے۔ امریکا کے ساتھ 9 جولائی کو دوبارہ مذاکرات شروع ہوں گے۔ گزشتہ روز قطر اور جرمنی کے تعاون سے بین الافغانی کانفرنس شروع ہوئی، جس کا دوسرا دن آج تھا۔ افغانستان میں قیام امن کے لیے منعقد ہونے والی کانفرنس کے مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔ افغانستان سے قابض امریکی فوج کے انخلا اور اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے یہ کانفرنس راہ ہموار کرے گی۔

یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ امارت اسلامیہ کی اولین ترجیح ملک کی آزادی اور اس میں اسلامی نظام کا نفاذ ہے۔ امارت اسلامیہ نے پوری قوم کو یہ یقین دلایا ہے کہ وہ اقتدار پر اپنا مکمل کنٹرول نہیں چاہتی، بلکہ اس میں سب کو حصہ دیا جائے گا۔

کابل انتظامیہ کے حکام منفی پروپیگنڈے کے ذریعے افغان عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے اور قابض فوج کو یہاں برقرار رکھنے کے لیے ماحول سازگار بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ کابل انتظامیہ کو جاننا چاہیے کہ وہ ایسے ہتھکنڈوں کے ذریعے امارت اسلامیہ کی قیادت میں افغان عوام کے مطالبات پر اثر انداز نہیں ہو سکتی۔ اللہ تعالی کی مدد سے قابض فوج کا انخلا یقینی بنانے اور ایک مکمل اسلامی نظام کے نفاذ تک جدوجہد جاری رہے گی۔

ہمیں یقین ہے افغانستان سے قابض فوجی ضرور نکلیں گے۔ ملک میں اسلامی نظام نافذ ہو کر رہے گا۔ ان شاء اللہ تعالی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*