بلیک واٹر کابل انتظامیہ کی مدد سے افغانوں کو قتل کر رہا ہے

آج کی بات

کچھ عرصے سے ایسی خبریں منظر عام پر آرہی تھیں کہ بلیک واٹر کابل انتظامیہ کے اہل کاروں کے ساتھ مل کر افغان عوام کے قتل عام کر رہا ہے تاہم اس حوالے سے ٹھوس شواہد نہیں ملے تھے لیکن حال ہی میں ایسے شواہد اور ثبوت مل چکے ہیں کہ کابل انتظامیہ کے اہلکاروں کے ساتھ بلیک واٹر کے کارندے بھی چھاپوں اور حملوں میں حصہ لیتے ہیں ۔

26 جون 2019 کو کابل کے ضلع سروبی کے علاقے تورغر کلی ناصر میں مشترکہ دشمن اور مجاہدین کے درمیان جھڑپ ہوئی اس جھڑپ میں دشمن کے 18 اہلکار مارے گئے، دشمن نے اپنے اہل کاروں کی لاشوں کو یہاں سے منتقل کر دیا تاہم اس علاقے میں ہلاک ہونے والے اہلکاروں کی ٹوپیاں، کپڑے اور کچھ جنگی آلات رہ گئے جن پر بلیک واٹر لکھا گیا تھا ۔

کچھ عرصہ قبل مغربی میڈیا پر ایسی خبریں شائع ہوئی تھیں کہ امریکی صدر ٹرمپ افغان جنگ کو بلیک واٹر کے سپرد کرنے پر غور کر رہے ہیں تاہم کابل انتظامیہ نے اس کے ردعمل میں کہا تھا کہ کسی صورت بھی بلیک واٹر کو یہ اجازت نہیں دی جاسکتی کہ وہ افغان جنگ میں حصہ لے لیکن اب ایسی اطلاعات موصول ہورہی ہیں کہ بلیک واٹر کے کارندے کابل انتظامیہ کے اہلکاروں کے ساتھ مل کر افغان عوام کے گھروں پر چھاپے مارتے ہیں، قیمتی اشیاء کو لوٹنے کے بعد گھروں، مدارس، مساجد، اسکولوں کلینکس اور مارکیٹوں کو مسمار کیا جاتا ہے، معصوم بچوں اور خواتین کو نشانہ بنایا جاتا ہے ۔

 

افغانستان میں بلیک واٹر کی سرگرمیوں کے حوالے سے امارت اسلامیہ کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے لکھا ہے کہ انسانی حقوق کی تنظیموں اور جنگی جرائم کی نگرانی کرنے والے اداروں کو ہم اس بات کی طرف متوجہ کرنا چاہتے ہیں کہ افغانستان میں بدنام زمانہ بلیک واٹر کے کارندوں کو جنگ منتقل کرنا کابل انتظامیہ اور امریکی فوج کی جانب سے جان بوجھ کر انسانی بحران کو پیدا کرنے کی گہری سازش ہے کیونکہ امریکی فوجی اس جنگ سے تھک چکے ہیں اور کابل انتظامیہ کو بھی افغان عوام کے مقابلے میں شکست کا سامنا ہے اس لیے افغان عوام کے قتل عام کے لئے بلیک واٹر کے کارندوں کو اس جنگ میں شریک کرنے کی کوششیں جاری ہیں ۔

فراہ اور ہلمند میں بھی مجاہدین کے ساتھ جھڑپوں میں بلیک واٹر کے کارندوں کو دیکھا گیا، بے وقوف دشمن کا خیال ہے کہ بلیک واٹر کے کارندوں کے ذریعے یہ جنگ جیت سکتا ہے لیکن اس کو احساس ہونا چاہئے کہ افغان قوم کے مقابلے میں دشمن کبھی بھی اس جنگ میں کامیابی حاصل نہیں کر سکتا اگرچہ دشمن پیسوں اور ہتھیاروں سے مالا مال ہے لیکن افغان عوام کے مقابلے میں اس کو شکست کا سامنا ہے ۔

دشمن جس نام اور وردی میں افغان عوام کے قتل عام کا سلسلہ جاری رکھے لیکن اس کو کامیابی ملے گی اور نہ ہی کوئی فائدہ اٹھا سکتا ہے، بلکہ اس کے خلاف عوامی نفرت میں مزید اضافہ ہوگا اور آخرکار اس کو شکست کا سامنا کیا جائے گا ۔

امارت اسلامیہ اپنی سرزمین اور عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لئے پرعزم ہے، وطن عزیز کی آزادی اور اسلامی نظام کے نفاذ کے لئے جدوجہد جاری رہے گی، افغانستان کی خودمختاری اور افغان عوام کے مفادات کے خلاف قابض فوج، کابل انتظامیہ اور بلیک واٹر جتنے بھی منصوبے بنائیں لیکن ان کے خلاف مجاہدین نبردآزما ہیں اور ان کے مذموم مقاصد کو ناکام بنانے کے لئے پرعزم ہیں ۔ ان شاء اللہ

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*