مظلوم عوام کے قاتلوں سے بدلہ

آج کی بات

امارت اسلامیہ کے سرفروش مجاہدین نے کابل میں وزارت دفاع کے لاجسٹکس اور انجینئرنگ کے مراکز کو نشانہ بنایا جس میں قابض امریکی فوج اور اجرتی فورسز کے درجنوں اہل کار مارے گئے، اس حملہ کے لئے اتنا منظم منصوبہ بنایا گیا تھا کہ دور دراز گھروں میں شیشے توڑنے سے چند افراد معمولی زخمی ہونے کے علاوہ کوئی ایک عام شہری بھی جاں بحق نہیں ہوا ۔

ستم ظریفی تو یہ ہے کہ زیادہ تر میڈیا اس حملے میں شیشے توڑنے سے زخمی ہونے والے چند شہریوں اور اسکول کے طلباء کی تصاویر شائع کر رہا ہے لیکن اس حملے میں ہلاک ہونےو الے اہل کاروں کے بارے میں سب خاموش ہیں، میڈیا کی اس واضح جانبداری سے اس کی حیثیت اور ساکھ کو مزید نقصان پہنچے گا اور یہ عوام کے ساتھ بھی بڑا ظلم ہے ۔

حال ہی میں حملہ آوروں اور کابل انتظامیہ کے اہل کاروں کی جانب سے ہر دن نہتے شہریوں کے خلاف ظالمانہ کارروائیاں کی جاتی ہیں، معصوم بچوں، عورتوں کو شہید کیا جاتا ہے، مساجد، اسکولوں اور کلینکوں اور بازاروں کو مسمار اور تباہ کیا جاتا ہے، سویلین گھروں، دکانوں اور مارکیٹوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے، ایسے دلخراش مظالم کسی ایک صوبے یا ضلع میں نہیں بلکہ پورے ملک میں یہی صورتحال ہے

امارت اسلامیہ کے مجاہدین نے مظلوم عوام کی جان، مال اور عزت کے تحفظ کے لئے ہر وقت قربانیاں دی ہیں اور دے رہے ہیں، مجاہدین پر عزم ہیں کہ مظلوم لوگوں کا بدلہ لینے کے لئے دین اور وطن کے دشمنوں کو ملک کے اندر ہر وقت اور ہرجگہ نشانہ بناتے رہیں گے ۔

عوام کا بدلہ لینے کے سلسلے میں مجاہدین نے دو دن پہلے قندہار کے ضلع معروف کو فتح کیا، درجنوں اہل کاروں کو ہلاک کر دیا گیا اور بھاری مقدار اسلحہ بھی ضبط کر لیا گیا ۔

اس کے علاوہ بادغیس، فاریاب، فراہ، بلخ، قندوز، غزنی، زابل، قندھار، لوگر، میدان وردک، ننگرہار، کنڑ، تخار، بدخشاں، بغلان اور دیگر صوبوں میں بھی دشمن کو اپنے زیر کنٹرول علاقوں سے پسپا کر دیا گیا، عوام کو سفاک دشمن کے ظلم سے نجات دلائی اور اب ان علاقوں میں عوام سفید پرچم تلے پرامن زندگی بسر کر رہے ہیں ۔

امریکی مفادات کے افغان محافظوں پر یہ آخری حملہ نہیں ہوگا بلکہ مجاہدین دشمن پر ایسے مزید ہلاکت خیز حملے کرنے کے لئے تیار ہیں، معصوم بچوں، شہریوں اور خواتین کا بدلہ لینے کے لئے اجرتی فورسز پر مجاہدین حملے کرتے رہیں گے ۔

کابل انتظامیہ کے اہل کار وردی میں امریکی مفادات کا تحفظ کریں گے، انہیں چاہیے کہ وہ امریکی جارحیت اور عوام کے قتل عام سے گریز کریں، جتنی بھی محفوظ دیواروں کے پیچھے چھپ جائیں مجاہدین کے حملوں سے محفوظ نہیں رہ سکتے، مجاہدین انہیں اپنے محفوظ پناہ گاہوں سے نکال کر نشانہ بنائیں گے ۔ ان شاء اللہ العزیز

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*