۳۳ ہزار قیدیوں کی نامعلوم قسمت

ہفتہ وار تبصرہ

افغانستان میں امریکی استعمار اور اس کے حامی کٹھ پتلی انتظامیہ کے عقوبت خانوں میں قید ہزاروں افراد کی قسمت ایک ایسا اہم اور حساس انسانی موضوع ہے، جس پر جنگ اور صلح  مباحث کی طرح بنیادی توجہ دی جاسکے اور اس کے مختلف پہلوؤں پر  غور کیا جائے۔

اس وقت سے جب افغانستان پر بیرونی استعمار نے جارحیت کی ،اس وقت سے اب تک ملک کے دیہاتوں اور شہروں میں روزانہ عام شہریوں کو سیاسی مخالفت کے الزام میں گرفتار کیے جارہے ہیں،سالوں اور مہینوں میں انہیں قید میں رکھے جاتے ہیں ۔ اپنے ہی گھر میں افغان عوام کی آزاد زندگی گزارنے کے حق کو  بیرونی غاصبوں اور ان کے اجنبی کٹھ پتلیوں کی جانب سے سلب کیا جارہا ہے۔

اب تک استعمار اور اس کے کٹھ پتلی انتظامیہ کے عقوبت خانوں کے متعلق کوئی غیرجانبدارانہ تفتیش اور سروے نہیں ہوئی ہے، تاکہ اس حوالے سے خفیہ حقائق سامنے نہ آجائیں۔ مگر چند روز قبل کٹھ پتلی انتظامیہ کے وزارت داخلہ کے جیل خانہ جات کے ایک عہدیدار جنرل حبیب اللہ نے میڈیا کو بتایا کہ فی الحال ان کے ہاں ۳۳ ہزار افغانی قید میں ہیں، جن میں سے ۲۲ ہزار جیلوں اور ۱۱  ہزار مختلف النوع عقوبت خانوں میں قید ہیں۔

یہ ۳۳ ہزار صرف وہ قیدی ہیں، جو شعبہ جیل خانہ جات کے مربوطہ جیلوں اور عقوبت خانوں میں موجود ہیں۔  یہ یہاں بیرونی استعمار کے بھی فوجی اڈے اور عقوبت خانے ہیں، اسی طرح مقامی جنگجو کمانڈروں کے بھی ذاتی قید خانے ہیں۔ اس حوالے سے کوئی معلومات نہیں ہیں کہ ان عقوبت خانوں میں کتنے افغان شہری پابندسلاسل ہونگے اور ان کا کوئی پرساں حال نہیں ہوگا۔

اب بھی رات کے چھاپوں اور شاہراہوں پر چیکنگ کے دوران عام شہریوں کی گرفتاریوں کا عمل جاری ہے اور انہیں قیدی بنائے جارہے ہیں،  تو یہ موضوع مزید دلخراش حد تک جاتی ہے۔ اس لیے اتنی تعداد میں قیدیوں کو رکھنے  اور ان کے حقوق کی رعایت کرنے کا کابل کرپٹ انتظامیہ کی گنجائش نہیں ہے۔ اسی طرح جان بوجھ کر حق تلفی کے علاوہ بذات خود قیدیوں کی کثرت کی وجہ سے انسانی المیے کا امکان زیادہ ہوجاتا ہے۔ قیدیوں کو قیام، خوراک، علاج، ملاقات اور عدالتی سلسلے کے متعلق حقوق نہیں ملتے اور اس طرح ان کے تمام انسانی حقوق یہاں تک کہ ان کی زندگی خطرے سے روبرو ہوجاتی ہے۔

ہم عالمی انسانی تنظیموں کو بتلاتے ہیں کہ افغانستان میں خفیہ اور آشکار جیلوں میں پابندسلاسل  ہزاروں افراد کے اہم ترین موضوع کےتمام پہلوؤں کے متعلق تحقیقات کریں۔  افغان ملت کے ان ہزاروں فرزندوں،جن کی مطلق اکثریت بےگناہ ہیں،ان کی زندگی کو نجات دلایا جائے اور ان کے تلف شدہ حقوق کا اعادہ کیا جائے۔

امارت اسلامیہ نے ہمیشہ اپنے جیلوں میں قیدیوں کیساتھ نرمی اور درگزر کا سلوک کیا ہے، مقابل پہلو سے بھی اس مد میں اسی نوعیت سلوک کا مطالبہ کرتی ہے۔ کیونکہ ہزاروں شہریوں کو قید میں ڈالنے سے استعمار اور اس کے حواری ایک ظالم، جابر اور مستبد دشمن کے طور پر متعارف کروانے کے علاوہ اس کا کوئی اور نتیجہ برآمد نہیں ہوگا۔ تاریخ گواہ ہے کہ تین دہائی قبل کمیونزم رژیم نے اب سے زیادہ افغانوں کو پابندسلاسل کیا ہوا تھا، مگر آخرکار عوام کے خلاف یہی ظلم کمیونزم رژیم کے زوال کا سبب بنا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*