دسمبر 11, 2019

پارلمینٹ کے نام سے شرمندگی کا تماشہ

پارلمینٹ کے نام سے شرمندگی کا تماشہ

ہفتہ وار تبصرہ

ہرحکومت اور انتطامیہ معمول کے مطابق اپنی عوام کے ارادے کا نمائندہ سمجھی جاتی ہے۔ اپنی ملت اور ملک کے مفادات، حیثیت اور وقار کے تحفظ کی عظیم ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ جن امور اور پروگراموں کو قانون کی رو سے تنفیذ کی ذمہ داری حکومت کو راجع ہو، اس صورت میں اسے نبھا دے کہ ملکی سطح پر عوام کے حقہ حقوق محفوظ اور عدالت برقرار ہوجائے اور عالمی سطح پر ملک اور عوام کی سربلندی اور نیک نامی کا باعث بن جائے۔  وہ حکام جو کسی ملت اور ملک کی رہبری کا دعوہ کرتےہیں، مگر ان میں ملت کی رہبری اور نمائندگی کی استطاعت نہ ہو، وہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر اپنی ذمہ داریوں کو نہیں نبھا سکتے  اور ناکامی کے باوجود  ملت کے لیے شرمندگی و رسوائی کا سبب بنتا ہے۔ ایسی حکومت کو کسی قانون میں یہ حق حاصل نہیں ہے کہ اپنی ناجائز اور غاصبانہ حاکمیت کو جاری رکھے۔

افغانستان میں بیرونی استعماری کی جانب سے نصب شدہ بدعنوان انتظامیہ ایسی ایک ناکام، رسوا اور فاسدہ حکومت کی زندہ مثال ہے،جس نے اب تک کرپشن، بدعنوانی، غصب، غبن، جنگی جرائم اور دیگر ناجائز امور میں عالمی ریکارڈ کو حاصل کرکےتاحال  اسے  برقرار رکھا ہوا ہے۔

مثال کے طور پر اگر اس مزدور انتظامیہ کے ایک شعبے( مقننہ قوہ یا  پارلیمان) پر عادلانہ نگاہ ڈالی جائے۔ تین سال تک پارلیمانی الیکشن میں تاخیر ہوا  اور سابقہ اراکین نے قانونی جواز کے بغیر اپنے کام کو جاری رکھا، اس کے بعد الیکشن عمل کا آغاز،  چند مہینوں کے متنازع الیکشن مہم،انتخابات کے دن عوام کا ملک گیر بائیکاٹ، نمائشی الیکشن کا انجام ہونا، دھاندلی کے ہزاروں شکایتیں، مگر اس کے ساتھ الیکشن کے نام سے شرمندگی کا سلسلہ ختم نہیں ہوا،بلکہ مکمل سات مہینے تک ووٹنگ کی گنتی کا عمل  جاری رہا اور اس کے ساتھ منسلکہ تنازعات نےلیا۔ سات ماہ کے بعد الیکشن کے نتائج کا اعلان کردیا گیا۔اس کے فورا بعد پارلیمینٹ کے چیئرمین کے عہدے کا تنازع اٹھا، جو کئی ہفتے گزرنے کے باوجود ختم نہیں ہوا۔

کٹھ پتلی انتظامیہ کی پارلیمینٹ کے چیئرمین کے عہدے پر تنازعات نے کونسی شکل اختیار کرلی ہے  اور کس حالت و کیفیت میں ذرائع ابلاغ میں منعکس ہورہا ہے،اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ دلخراش شرمندگی اور رسوائی ہے۔ یہ شرمندگی ہمارے اس مدعا کو ثابت کررہا ہے کہ استعمار کے رحم وکرم پر صدارتی محل کے حکمران اس باوقار ملت کے نمائندے اور حقیقی حکمران  ہیں اور نہ ہی ان معنوی اور اخلاقی ظرفیت کے حامل ہیں،جن سے اس قابل رشک ملک اور معزز عوام کی نمائندگی کرسکے۔

امارت اسلامیہ ایک بار پھر افغان ملت کو بتلاتی ہے کہ موجودہ مختلف بحرانوں، قتل عام، فسادات اور دیگر شرمندگیوں سے نجات کا واحد طریقہ ان بیرونی اور داخلی عوامل کا محوہ کرنا ہے،جس نے افغان ملت اس برے دن سے روبرو کیا ہے۔ اسی طرح عالمی برادری اور اہل وطن کے لیے اس بات کا اعلان کرتی ہے کہ پارلیمانی شرمندگی کی طرح کٹھ پتلی انتظامیہ کے دیگر برے اعمال سربلند افغانستان کی نمائندگی نہیں کرسکتے اور ملک کے ناخلف شہریوں کے یہ منحوس کردارافغان معزز ملت پر سونپ دی جائے۔ ان شرمندگیوں کی ذمہ داری ان غاصبوں کو راجع ہیں، جنہوں نے ان نااہل غلاموں کو سامنے لایا ہے  اور اپنے مفادات کے حصول کے لیے   ان سے فائدہ اٹھارہا ہے۔

Related posts