افغان عوام کی عید کو کس نے ماتم میں بدل دی ؟

ہفتہ وار تبصرہ

عیدالفطر امت مسلمہ کا وہ متبرک اور مقدس خوشیوں کا جشن ہے،جس سے اللہ تعالی اپنے خصوصی انعام کے طور پر  رمضان المبارک کےمہینے کے روزے رکھنے کے بعد مسلمانوں کو نوازتا ہے۔ ان ایام میں مسلمان اپنے آپ اور دیگران کو خوش رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ عید کی خصوصی عبادات انجام دیتے ہیں۔ ایک دوسرے کی احوال پرسی اور مبارک باد کے لیے جاتے ہیں اور عاطفہ، صلہ رحمی اور شفقت کی طرح عظیم اعمال اور  عالی اخلاق سے اس مبارک دن کو مناتے ہیں۔

افغان مظلوم ملت جو گذشتہ چار دہائیوں سے اضطراب اور جنگی صورت حال سے دوچارہے، سال کے کافی شب وروز غم اور ماتم میں بسر کرتے ہیں۔عید کی طرح خوشیوں کی مناسبت اس لیے افغان عوام کے لیے خصوصی اہمیت کا حامل ہے،کہ اس دن کم از کم غم کی جگہ خوشی کا احساس کرسکے۔بچے، خواتین اور نوجوان عید کی خوشیوں کا مزہ لےسکے،ایک دوسرے کی احوال پرسی  اور خصوصی تقریبات کیساتھ خوشی کے اس موقع کو منائیں۔

مگر امسال ہمارے دین اور عوام کے دشمنوں نے لاچار ہموطنوں سے  عید کے دن کی عارضی خوشی کو بھی چھین لی۔ عید سے ایک دن قبل مغرب کے وقت امریکی ڈرون طیارے نے صوبہ پکتیکا ضلع چاربران میں عوام کی گاڑی کو نشانہ بناتے ہوئے تباہ کردی اور اس میں سوار خواتین اور بچوں سمیت سات افراد شہید ہوئے۔ اسی رات جارح امریکی و کٹھ پتلی قاتلوں نے صوبہ غزنی ضلع گیرو کے بازار پر چھاپہ مار کر عوام کی 13 گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں کو نذآتش ، متعدد دکانوں کو تباہ  اور عید کے لیے سودا سلف کرنے والے افراد پر تشدد کرتے ہوئے انہیں بازار سے فرارہونے پر مجبور کردیا۔

عید کی رات کی طرح عید کا پہلا دن بھی امریکی و کٹھ پتلی افواج کی وحشت کا شاہد رہا، عید کے پہلے دن صوبہ پکتیکا ضلع چاربران کے علیزئی اور داؤدخیل گاؤں میں امریکی ڈرون طیاروں نے ان شہریوں پر بمباری کی، جو نماز عید کی ادائیگی کے بعد گھروں کو لوٹ رہے ہیں۔اس بمباری کے دوران 8 شہری شہید ہوئے۔ عید کے دوسرے دن رات ہی کے وقت جارح امریکی و کٹھ پتلی فوجوں نے صوبہ میدان ضلع جلریز کے چانی خیل گاؤں پر چھاپہ مار کر والد اور دوبیٹوں سمیت 10 افراد کو شہید ،چند کو گرفتار اور علاقے میں درجنوں دکانوں کو تباہ کردیا۔پکتیکا اور میدان کی وحشت ناک کاروائیوں کی طرح دشمن کی افواج نے عید کے ایام میں ملک کے دیگر علاقوں میں بھی اسی نوعیت ظالمانہ حملے انجام دیے،جس کے نتیجے میں 30 سے زائد شہری شہید جب کہ متعدد زخمی ہونے کے علاوہ عوام کو بھاری مالی نقصان بھی پہنچا۔

عید کی خوشیوں کے ایام میں استعمار اور اس کے غلاموں کے ان حملوں نے ثابت کردیا، کہ یہ افواج کسی دینی، انسانی، قانونی  اصول کے  پابند نہیں ہے۔ افغان عوام کے اقدار کو کوئی اہمیت نہیں دیتا۔ عوامی سکون، صلح اور امن وامان کو صرف نعرے کے طور پر استعمال کررہا ہے اور عملی میدان میں حتی عید کے مبارک ایام میں بھی عوام سے خوشیوں کو چھین لیتے ہیں  اور ان کے خوشی کے ایام کو غم و ماتم میں بدل دیتے ہیں۔

امارت اسلامیہ نے عید کے مبارک ایام میں افغان عوام کو خوشی اور اطمینان کے تمام شرائط مہیا کیے تھے اور بھرپور کوشش یہ رہی کہ افغان مصیبت زدہ عوام ان مبارک ایام کو شان وشوکت سے منائیں۔ عید میں انجام دیے جانیوالے جرائم  بزدل دشمن کی وحشت و ظلم کی واضح مثال کو امارت اسلامیہ  ناقابل معافی جرم سمجھتی ہے۔ افغان عوام اور عالمی برادری کو بتلاتی ہے کہ دشمن کے صلح اور فائربندی کے نام نہاد نعروں سے دھوکہ میں نہ پڑیں،بلکہ عملی طور پر مشاہدہ کریں کہ استعمار اور اس کے کٹھ پتلی کس حدتک افغان عوام کی خوشیوں، صلح اور امن وامان کے دشمن ہیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*