دسمبر 11, 2019

افغان عوام عارضی نہیں بلکہ پائیدار امن چاہتا ہے

افغان عوام عارضی نہیں بلکہ پائیدار امن چاہتا ہے

 

ہفتہ وار تبصرہ

حالیہ دنوں میں ایک بار پھر عبوری جنگ بندی کی افواہیں اور مطالبے زور پکڑ رہی ہیں۔ اس حال میں کہ استعمار اور اس کے داخلی حواریوں نےافغان عوام کے قتل عام کو جاری رکھا ہوا ہے۔ ہر رات اوسطا 30 سے زائد نہتے عوام چھاپوں، بمباری اور ڈرون حملوں میں شہید ہورہے ہیں۔مگر غلام ذرائع ابلاغ اس خاموش عمدی قتل کو  کوریج دینے کے بجائے امارت اسلامیہ سے عید میں جنگ بندی کے مطالبے کی شہ سرخیاں  اوران کی  تمام نشرات اسی نکتے پر گردش کررہی ہیں۔

دشمن کے نشراتی مبلغین بار بار اس بات کو دہرا رہے ہیں کہ عید میں سیزفائر اس لیے ضروری ہے کہ اس دوران افغان عوام کی زندگی محفوظ رہ سکے۔ انہیں ہم بتانا چاہتے ہیں کہ فی الحال عام شہریوں کے نقصانات کے اصل اور سب سے بڑی وجہ تمہاری بمباریاں، وحشناک کاروائیاں، ڈرون حملے ، چوکیوں اور فوجی مراکز سے بھاری ہتھیاروں کا بےدریغ استعمال ہے۔اگر درحقیقت تمہیں افغان شہریوں کی جان ومال کے تحفظ کا اندیشہ ہو، تو اپنی وحشناک اور عوام قاتل فوجی پالیسی کا ازسرنو جائزہ لے لو۔ عوام کے گھروں پر چھاپے مت مارو۔عوام کے مکانات، مسجدوں اوربازاروں کو مسمار مت کرو،نہتے نوجوانوں، بوڑھوں اور بچوں کو قتل مت کرو اور انہیں لوٹنے سے گریز کرو۔

اگر امارت اسلامیہ کے مجاہدین کے حملوں میں مارے جاتے ہیں، وہ صرف کابل انتطامیہ کی فوجیں اور سیکورٹی اہلکار ہیں۔ یہ  کہ تم اپنی جاری وحشت کیساتھ ساتھ مجاہدین سے فائربندی کا مطالبہ کررہے ہو، تو اس سے ظاہر ہورہا ہے کہ عوام کی جان و مال کی تمہیں فکر نہیں ہے، بلکہ صرف اور صرف اپنی افواج اور سیکورٹی اہلکاروں کی زندگی بچاتے ہو، وہ سیکورٹی اہلکار جنہیں مجاہدین کی الفتح آپریشن کے تابڑتوڑ حملوں نے جنون میں مبتلا کی ہے، روزانہ مجاہدین وسیع علاقوں پر قبضہ جمارہا ہے اور فوجیوں کو بھاری نقصان پہنچا رہا ہے۔

فائربندی اور صلح کے حوالے سے امارت اسلامیہ کا مؤقف بہت واضح ہے ، وہ یہ افغان عوام کا مطالبہ اور ضرورت کسی عبوری اور نمائشی فائربندی یا عبوری صلح نہیں ہے، بلکہ عوام کا مطالبہ یہ ہے کہ چالیس سالہ جنگ  اختتام پذیر ہوجائے اور افغان مصیبت زدہ ملت پائیدار صلح کے نعمت کا مزہ چھکے۔پائیدار صلح کے سامنے سب سے بڑی رکاوٹ بیرونی جارحیت ہے،اسی لیے امارت اسلامیہ جارحیت کے خاتمہ کو ایک مبرم اور حیاتی ضرورت کے طور پر پیش کرتی ہے اور  اپنے ہر اعلامیے اور مذاکرات کے اجلاس میں اسی مطالبے پر اصرار کررہی ہے۔

اس کے علاوہ اگر بات مذہبی ایام کے احترام اور شہری نقصانات کے روک تھا م کی  ہو، تو امارت اسلامیہ کے مجاہدین نے ہمیشہ عید کے مبارک ایام میں غیراعلانیہ طور پر اپنے جہادی سرگرمیوں اس طرح منظم کیں، کہ عوام تسلی سے خوشی کے ایام  منائیں۔ شہری نقصانات کے روک تھام کے حوالے سے امارت اسلامیہ نے اپنی انتھک جدوجہد کی ہے،جس کے نتیجے میں مجاہدین کے حملوں میں شہری نقصانات کی اعداد وشمار صفر تک پہنچنے والی ہے اور اس میں قابل توجہ کمی آچکی ہے۔

افغان ملت کو مطمئن رہنا چاہیے اور یقین رکھیں کہ امارت اسلامیہ ان کے تحفظ، صلح اور سکون کے لیے بہت پابند  اور جدوجہد کررہی ہے کہ یہاں اجنبی جارحیت اور جنگ کے تمام اسباب ختم ہوجائے، وطن عزیز کی خودمختاری، ملکی سالمیت اعادہ اور افغان ملت اپنے ملک میں خودمختار اور استقلال کیساتھ حقیقی اورپائیدار صلح کے نعمت سے مستفید ہوجائے۔  ان شاءاللہ وہ دن قریب تر ہے۔ وما ذالک علی اللہ بعزیز

Related posts