نومبر 18, 2019

عام شہریوں کاقتل عام اوردنیا کی دردناک خاموشی

عام شہریوں کاقتل عام اوردنیا کی دردناک خاموشی

ماہنامہ شریعت کا اداریہ

گزشتہ کچھ ہی عرصے سےغاصب امریکی فوج اورکابل ادارے کے غلام مسلح افراد نے وطن عزیز میں رات کے وقت چھاپہ مار کارروائیوں اوربمباریوں پر جتنا زوردیاہے اوراس کے نتیجے میں جو عام شہری شہیدہورہے ہیں شائد اس کی مثال گزشتہ اٹھارہ سالہ دورمیں نہ ملے ۔

عام شہریوں کی قتل عام کے اکثر واقعات چونکہ پوشیدہ نہیں رہ سکتے اس لئے    ملکی ذرائع ابلاغ مجبورا  ان خبروں کو شائع کرتے ہیں ،انہی ذرائع کی توسط سے ہی دنیا ان واقعات  اورافغانستان میں جاری کارروائیوں سے آگاہ ہوجاتی ہے لیکن افسوسنا ک بات یہ ہے کہ اب تک پوری دنیا خاموش ہے اوراس حوالہ سے نہ توعالمی برادری کی طرف سے اورنہ ہی عالمی اداروں کی جانب سے کسی قسم  کا کوئی رد عمل سامنے آرہاہے ۔

ہاں ! ملکی  ذرائع ابلاغ اورمختلف چینلز کی طرف سے منعقد کئے گئے گول میز کانفرنسز میں تمام غیرجانبدار تجزیہ کاراب حکومت پر پہلے سے زیادہ غصہ نکال رہے ہیں اورحکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے واشگاف الفاظ میں  کہتے ہیں کہ ان تمام تر کارروائیوں میں صرف عام شہری ،بوڑھے بچے ، خواتین ،سکول ،مدارس اوریونیورسٹی کے طلباء اور اساتذہ نشانہ بنتے ہیں ۔ گھر،مساجد،سکولز، بازار ،ہسپتال یہاں تک کہ رفاہی اداروں کے دفاتر پر بمباری کی جاتی ہے اورانہیں جلاکر ختم کردیاجاتاہے ۔ اوریہ ایک یادو دن کی بات نہیں بلکہ ہر دوسرے تیسرے دن چھاپوں اور بمباریوں میں درجنوں بے گناہ عام شہری قتل ہورہے ہیں ۔آج 27مئی کو یہ سطورلکھتے ہوئے خبروں میں سن رہاہوں کہ امریکی فوجیوں اورکٹھ پتلی فوج نے مشترکہ کارروائی میں صوبہ پکتیکا کے ضلع برمل میں چارخواتین اورسات بچوں سمیت اٹھارہ شہریوں کوشہیدکردیاہے اورگزشتہ دن ایک رپورٹ میں پڑھا تھا کہ امریکی اورکٹھ پتلی فوج نے ننگرہار ،پکتیکا اورہلمند میں بچوں اورخواتین سمیت  انیس افراد کو شہید کردیاہے ۔

قوم کے خلاف وحشت وسربریت میں اضافہ کا اصل سبب  سیاسی اور جنگی میدان میں امارت اسلامیہ کی پہلے سے زیادہ کامیابی وکامرانی ہے جس کا اعتراف پوری دنیا کررہی ہے، کابل اور غاصب افواج اپنی شکست کابدلہ افغان شہریوں سے لے رہے ہیں ۔

کابل کا کٹھ پتلی ادارہ اور امریکہ ان دونوں محاذوں میں امارت اسلامیہ کی پیش قدمی اور کامیابی کو پوشیدہ رکھنے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں لیکن کامیاب نہیں ہورہے ، پوری دنیا گواہ ہے کہ افغانستان کے دارالخلافہ کابل میں انتہائی حساس مقامات  پرامارت اسلامیہ کی طرف سے کامیاب حملے ہورہے ہیں جن میں افغان حکومت اور امریکہ کو بہت زیادہ مالی اورجانی نقصانات پہنچ رہے ہیں جنہیں دشمن باجود ہرقسم کی کوشش کے چھپانے پر قادرنہیں ۔دیگرصوبوں کی حالت بھی یہی ہے ، الفتح آپریشن کے  اعلان کے بعد انتہائی کم وقت میں امارت  اسلامیہ  نے درجنوں اضلاع  اوروسیع علاقوں کو دشمن کے ناپاک وجود سے پاک کیا اوردشمن کے قائم کردہ کئی چیک پوسٹوں اور عسکری مراکز کواپنے قبضہ میں کرلیاہے اورآئے دن دشمن کو جانی ومالی نقصانات سے دوچارکررہاہے الحمدللہ ۔

آج 27مئی کی ایک خبر ہے کہ امارت اسلامیہ کے مجاہدین کی جانب سے 26صوبوں میں دشمن کے بڑے بڑے مراکز اورچیک پوسٹوں پر 52چھوٹے بڑے کامیاب حملوں  کے نتیجے  میں 103 فوجی اور پولیس اہلکارمارے گئے جبکہ 70 اہلکارزخمی ہوئے ۔ اور اس سے ایک دن قبل مختلف صوبوں میں مارے گئے فوجیوں کی تعداد86 رہی ۔اس کے ساتھ ہی ہلمند کے ضلع نوزاد میں مجاہدین نے ایک امریکی  اپاچي ہیلی کاپٹر بھی مارگرایا ، ہیلی کاپٹراوراس میں سوار 13امریکی فوجی مکمل طورپر جل کرخاکسترہوگئے ۔

عسکری میدان کے ساتھ ساتھ امارت اسلامیہ کی سیاسی ترقی اورکامیابی ہماری توقعات سے بھی زیادہ ہے ۔امریکیوں کے ساتھ امارت اسلامیہ کی نتیجہ خیز بالمشافہ مذاکرات ،ماسکوکانفرنس،باقی دنیا سے امارت اسلامیہ کے مضبوط سفارتی تعلقات،دنیا کے بڑے سیاستدانوں  کا قطر میں قائم امارت اسلامیہ کے  دفتر کا مسلسل دورہ ،دوحہ قطرمیں امریکیوں کے ساتھ کامیاب مذاکرات کی چھٹی کامیاب قسط اور اہم موضوعات پر اتفاق نے کابل ادارے کو مکمل طورپر دیوار کے ساتھ لگادیاہے۔

آج پوری دنیا کی توجہ امارت اسلامیہ کی طرف ہے اورامریکی قوم سمیت کوئی بھی ملک کابل ادارے کی باتو ں پر کان نہیں دھرتا  بلکہ سب اسے وقت کا ضیاع  سمجھتے ہیں۔

آج نہ کابل کی طرف غیرملکیوں کے دھڑادھڑ دورے ہیں ،نہ افغانستان میں جاری اس جنگ کو مزید طول دینے کے لئے مختلف کانفرنسز کا انعقاد ہے جس میں اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ بڑی خوشی سے شرکت کرنے جاتے اور پھر کئی ماہ تک ان کانفرنسز کی کامیابیوں پر جگالی کرتے رہتے  اورنہ ہی امریکہ اور نیٹومیں شامل ممالک کی جانب سے افغانستان میں مزید فوج بھیجنے کے اعلانات اوروعدے سننے کو مل رہے ہیں ۔

بزدل  امریکیوں اوران کے کاسہ لیس غلاموں کو امارت اسلامیہ کی یہ  سیاسی کامیابیاں ہضم نہیں ہورہی ہیں اورساتھ ہی وہ طالبان کی طرف سے  کئے جانے والے کمرتوڑحملوں سے بچنے اورمقابلہ کرنے کی طاقت بھی  مکمل طورپرکھوبیٹھے ہیں اس لئے  وہ اپنی شکست کابدلہ افغان شہریوں سے لے رہے ہیں اورراتوں کو گھروں پر چھاپے  مارکر بچوں ،بڑوں ،مردوں،خواتین اوربوڑھوں کو بلاامتیازبڑی بے دردی کے ساتھ شہیدکررہے ہیں اورصبح اعلان کرتے ہیں کہ ہم نے اتنے اتنے طالبان کو ماردیاہے ۔حالانکہ ان کی ہررات کی جانے والی دہشت گردی کے بعد صبح لوگ ان کے خلاف مظاہرے کرتے ہیں ، شہیدہونے والوں کی لاشیں بازاروں اور سڑکوں پہ لاکر رکھ دیتے ہیں  لیکن ان کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی ، زیادہ سے کچھ کہیں تو یہ کہ ہم تحقیقات کریں گے اوربس ۔

عجیب  بات یہ ہے کہ وہ مغربی دنیا جو خود کو انسانی حقوق کی علمبردار سمجھتی ہے  اوراپنے ممالک میں بدامنی کے ایک چھوٹا سا واقعہ پیش آنے پر  پوری دنیا کو سرپر اٹھالیتے ہیں لیکن یہاں اس قد ربڑی وحشت وسربریت پر نہ صرف یہ کہ خاموش ہے بلکہ مالی اورسیاسی تائید کی وجہ سے اس وحشت وسربریت میں ایک طرح سے شریک بھی ہیں ۔

مغرب کی شرمناک خاموشی سے زیادہ قابل صدافسوس اقوام متحدہ کی خاموشی ہے ۔

آپ دیکھیں  2002 میں اقوام متحدہ  نے افغانستان میں ملکی نقصانات کو روکنے اور دیگرانسانی حقوق کی پاسداری  کے لئے  (یوناما)  کے نام سے دفترقائم کیا ،اگرچہ اس دفتر سے وقتافوقتا اس حوالے سے اواز اٹھائی گئی ہے  ،رپورٹس بھی شائع کئے  لیکن افسوس کہ اقوام متحدہ  کی یہ رپورٹس غیرجانبداری پر مبنی نہیں ہیں ۔ اس لئے ہم کہتے ہیں کہ ملکی نقصانات کو روکنے  پر توجہ دی گئی ہے اورنہ اس حوالے سے کوئی عملی قدم اٹھایاگیاہے ۔

افغانستان میں جاری اس جنگ کے دورخ ہیں ایک طرف نیٹو ،امریکہ اور کابل حکومت ہے تو دوسری طرف امارت اسلامیہ افغانستان ہے ، سب یہ مانتے ہیں کہ ملکی نقصانات رات کے چھاپوں ،بمباریوں اورتوپوں کی بھاری گولہ باری کی وجہ سے پیش آتے ہیں جوکہ امریکیوں اورکابل ادارے کے اہلکاروں کی کارستانیاں ہیں لیکن یوناما کے چارماہی ،ششماہی اور سالانہ رپورٹس میں اس طرف کوئی اشارہ نہیں ہوتا ۔یوناما اپنی ہررپورٹ کی تیاری میں بیرونی غاصب قوتوں اورکابل ادارے کو نظرانداز کردیتاہے اوریوں ظاہرکرتاہے جیسے یہ سب نقصانات طالبان کے حملوں کی وجہ سے ہورہے ہیں حالانکہ طالبان  نہ گاؤں پر بمباری کرتے ہیں ، نہ رات کو گھروں پر چھاپے مارتے ہیں اور نہ شہروں پر توپوں سے گولہ باری کرتے ہیں ۔

دورنہ جائیں  بلکہ جب سے امارت اسلامیہ نے الفتح آپریشن کا اعلان کیاہے تب سے کوئی مائی کالال دکھائے کہ طالبان نے کسی شہری کو قتل کیاہو ،یاافغانستان کے کسی کونے سے عوام کی طرف سے  طالبان کے بارے میں شکایت کی گئی ہو جبکہ کابل ادارے کے اہلکاروں کے خلاف آئے روز مظاہرے اوراحتجاج ہوتے ہیں ۔

امریکہ دنیا کے کسی بھی ادارے کو یہ اجازت نہیں دیتا کہ  امریکی فوجیوں کے جنگی جرائم سے متعلق تحقیقات کرے ،اس لئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ یوناماکی تیارکی جانے والی رپورٹس بھی امریکی دباؤ میں تیارکی گئیں ہیں جوافسوس کا مقام ہے ۔امریکہ نے اپنی بدمعاشی کی بدولت اقوام متحدہ کی ساکھ اورحیثیت کو خاک میں ملادیاہے ۔

اقوام متحدہ اورخصوصا سلامتی کونسل کو چاہئے کہ اب امریکی دباؤسے باہرنکلیں ۔ سلامتی کونسل کو چاہئے کہ اپنی ذمہ داریاں اچھے طریقے سے نبھائے  اورافغانستان میں ملکی نقصانات کی روک تھام کے لئے مضبوط اقدامات کرے۔

امارت اسلامیہ تیار ہے  کہ ملکی نقصانات کی روک تھام اوراس حوالہ سے آزادانہ تحقیقات کے لئے ہرادارے کے ساتھ تعاون کرے اوراس ہدف کے حصول کے لئے انہیں ہر گاؤں لے جایا جائے  جب تک کہ اصل مجرم معلوم نہ ہواوراس مکروہ چہرہ دنیا کے سامنے اشکار نہ ہو۔

لیکن یہ مسلم اوریقینی بات ہے کہ امریکی غاصبین اورکابل ادارہ کبھی بھی کسی بھی ادارے کو یہ اجازت نہیں دیں گے کہ وہ آزادانہ اورغیرجانبدارانہ تحقیقات کرے اس لئے کہ اس طرح سے ان کی ذلت ورسوائی یقینی ہے ۔

یہی وجہ ہے کہ ہم پوری مہذب دنیا سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس وحشت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں اور اپنی اپنی حکومت پر دباؤ ڈالیں کہ وہ امریکہ کی حمایت اور کٹھ پتلی ادارے کی سرپرستی سے ہاتھ کھینچ لے اورافغانوں کواپنی تقدیر اپنے ہاتھ سے لکھنے کے لئے آزاد چھوڑدے ۔

Related posts