دسمبر 06, 2019

کابل انتظامیہ کے نصف حصے کے منعقدہ جرگے کے متعلق ترجمان کا بیان

کابل انتظامیہ کے نصف حصے کے منعقدہ جرگے کے متعلق ترجمان کا بیان

کابل انتظامیہ کے نصف حصے کے سربرہ اشرف غنی نے09/ثور بمطابق 29/اپریل کو لویہ جرگہ کے نام سےکابل میں ایک نمائشی کانفرنس کا انعقاد کیا تھا،جو آج ایک قراداد پیش کرنے سے  اختتام کو پہنچی،اس کے متعلق ہم درج ذیل نکات کو ضروری سمجھتے ہیں۔

  1. مذکورہ کانفرنس میں مطلق اکثریت ان لوگوں کی رہی،جو گذشتہ اٹھارہ سالوں میں امریکی جارحیت کے اردگرد اعلی اور ادنی عہدوں پر فائز اور یا موجودہ جارحیت کے حامی رہے ، جارحیت کی حمایت کرتے رہے، ڈالری تنخواہیں وصول کرتے رہے ۔اسی لیے ان کا فیصلہ بھی استعمار اور اس کے حامیوں کی حمایت کے بقا کی کوشش ہے۔
  2. مذکورہ کانفرنس کسی صورت میں عوامی اجتماع نہیں تھی۔یہاں تک کابل میں رہائش پذیر سیاستدانوں کی اکثریت اور کابل انتظامیہ کے نصف حصے کے حکام نے اس سے بائیکاٹ کیا تھا۔ لہذا کانفرنس صرف زیادہ اخراجات کو بہانہ ڈھونڈنے ، اپنی ناکامیوں سے عوام کی توجہ ہٹانے، اپنے آپ کو اہم شخصیت ثابت کرنے اور کنارہ کشی سے نکلنے کی خاطر اشرف غنی کی ایک ناکام کوشش تھی۔
  3. بدقسمتی سے جرگے میں تین ہزار سے زائد شرکاء میں سے کسی ایک میں یہ جرائت نہیں رہی، کہ افغان شہریوں پر استعمار کے وحشی حملے، اہل وطن کے گھروں پر رات کے چھاپے ،سویلین تنصیبات اور مقدس اماکین پر بمباری اور نہتے اہل وطن بوڑھوں،بچوں،جوانوں اور خواتین کی شہادتوں کی مذمت کریں،ان کے روکنے کا مطالبہ کریں اور بحران کے حل اور اسے دفع کرنے کے لیے استعمار پر دباؤ ڈال دیں ۔ اسی بات سے جرگے کی حیثیت مزید تر واضح اور روشن ہوگی۔
  4. امارت اسلامیہ نے وقتافوقتا کابل انتظامیہ کے سینکڑوں قیدیوں کو ان کے علاج معالجہ اور زادسفر کے دینے کے بعد رہا کردیا ( جس کی تازہ ترین مثال چندروز قبل صوبہ بادغیس ضلع مرغاب میں سو سے زائد اہلکاروں کی رہائی تھی) ہم نے اس عمل کو اسلامی اخلاق اور حسن نیت کی وجہ سے کیا اور یہی ہماری پالیسی ہے، جو جاری رہیگی۔ ان شاءاللہ
  5. حقیقت یہ ہے کہ افغانستان پر امریکا کا قبضہ ہے۔واضح قرانی نصوص کی رو سے افغان ملت کے ہر مسلمان شخص پر جارحیت کے خلاف جہاد فرض عین ہے۔جب تک جارحیت کا خاتمہ نہ ہوجائے ، حقیقی اور صحیح اور اسلامی نظام کے قیام کے لیے راہ ہموار نہ ہوجائے،جہاد جس طرح رہا، اسی طرح فرض رہیگا اور اس کے توقف اور تاخیر میں کسی کو اختیار نہیں ہے۔ دین اسلام کے مقدس احکام بھی ثابت اور مدون ہیں،جن کی  تفسیر، تعبیر اور شریح ہوچکی  ہے۔کسی کو ان میں  انحرافی تعبیرات کا حق حاصل نہیں ہے۔
  6. جیسا کہ جہاد فرضی عمل اور سب سے اہم عبادت ہے۔ دیگر اوقات کی نبست رمضان اسے جاری رکھنا زیادہ ثواب کا حامل ہے۔رمضان اور رمضان کےعلاوہ امارت اسلامیہ کے مجاہدین نے عام شہریوں کی زندگی سےبہت احتیاط کی ہے اور کررہا ہےاور  کسی صورت  میں عوام کو نقصان نہیں پہنچائے گا۔
  7. جارحیت کے خاتمے کے لیے امارت اسلامیہ کے نمائندے فی الحال امریکی جہت کے ساتھ مذاکرات میں مصروف ہیں ۔امریکی جہت سے گفتگونتیجہ خيز ثابت ہونے کے بعد امارت اسلامیہ داخلی جہتوں سے ملکی مسائل حل کرنے کی خاطر بات چیت اور افہام وتفہیم کریگا۔

جارحیت کےزیرسایہ کابل انتظامیہ سے صلح کی گفتگو بے معنی اور جہادی امیدوں کو ضائع کرنے کا خطرہ ہوتا ہے۔

ذبیح اللہ مجاہد ترجمان امارت اسلامیہ

28/ شعبان المعظم 1440ھ بمطابق 03/ مئی 2019ء

Related posts