گھاس کھاتی فوج اور جنگی جرائم

آج کی بات

 

کابل کٹھ پتلی انتظامیہ نے گزشتہ دن اعلان کیا کہ اشرف غنی نے نئے سال کے لیے جنگی حکمتِ عملی منظوری پر دستخط کر کے اسے منظور کر لیا ہے۔ کٹھ پتلی انتظامیہ کے عہدے دار ایک ایسے وقت میں جنگی منصوبوں کی منظوری دے رہے ہیں، جب امریکا جنگ کے خاتمے کے لیے طالبان سے مذاکرات کی میز پر بیٹھا ہوا ہے۔ اسی کٹھ پتلی انتظامیہ کے کرزئی سمیت کسی سابق عہدے دار طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لیے قطر جا رہے ہیں۔ کابل انتظامیہ کا ایسے وقت میں جنگ کی آگ کو مزید بھڑکانا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ کابل ادارے کے جنگ کے ساتھ ذاتی مفادات وابستہ ہیں ۔ یہ لوگ اس ملک کی تباہی کے لیے ترسے ہوئے ہیں۔ یہ لوگ 18 سال تک امریکا کو اپنے ہم وطنوں کے قتل عام میں مدد دیتے رہے ہیں۔

افسوس کا مقام یہ ہے کہ کٹھ پتلی انتظامیہ کی جنگی کارروائیوں کا زیادہ تر ہدف عام شہری ہوتے ہیں۔ کابل فوج طالبان کا سامنا کرنے سے کتراتی ہے۔ طالبان کا نام سن کر اس کی روح کانپنے لگ جاتی ہے۔ کابل فوج کی جانب سے طالبان کے تمام تر حملوں کا بدلہ نہتے شہریوں سے لینا اس کاشیوہ بن گیا ہے۔ شاید وہ یہی سمجھ رہے ہوں کہ اس قسم کی وحشیانہ کارروائیوں سے عوام جہاد کا نعرہ لگانا بند کر دیں گے۔ جس سے وہ مزید وقت کے لیے اقتدار کے مزے لوٹ سکیں گے۔ یہ ان کی غلط فہمی ہے۔ انہیں عوام کے ایک ایک خون کے قطرے کا حساب دینا ہوگا۔

گزشتہ پانچ دنوں کے دوران کٹھ پتلی انتظامیہ اور فوج نے امریکی جارحیت پسندوں کے ساتھ مل کر مختلف آپریشنز کے نتیجے میں درجنوں افغان شہریوں کا خون بہایا ہے۔گزشتہ دن صوبہ فاریاب کے ضلع قیصار میں شاخ نامی علاقے میں ایک گاؤں پر بمباری کی گئی، جس سے کئی گھر صفحہ ہستی سے مٹ گئے۔ اس میں درجنوں افراد شہید ہوئے ۔جن میں 9 افراد کا تعلق صرف ایک خاندان سے تھا۔ یہ شہید افراد 5 بچے،2 خواتین اور 2 مرد تھے۔ اسی طرح کابل قندھار شاہراہ پر ضلع قرہ باغ کے علاقے ‘ملا نوح بابا’ میں ایک اسکول پر کابل فوج نے مارٹر تو پ کا گولہ پھینکا، جس میں 4 طلبا اور ایک استاد شہید، جب کہ 15 طلبا زخمی ہوگئے۔اس کے علاوہ پکتیکا کے ضلع نکہ کے گاؤں عاشقی میں 12 افراد کو چھاپے کے دوران نہایت بے دردی سے شہید کیا گیا۔ چھاپے میں ہر شخص کو گھر سے نکال کر ان کے سروں میں گولیاں ماری گئیں۔ ہلمند، غزنی اور پکتیا میں بھی گزشتہ چند دنوں کے دوران امریکی اور ان کے کاسہ لیسوں کے مشترکہ آپریشنز کے نیتجے میں 26 شہری شہید ہوئے ہیں۔

کابل فوج ایسے وقت میں جنگ کا اعلان کر رہی ہے، جب کہ سیاسی انتظامیہ اپنی فوج کے ساتھ انتہائی غیرانسانی رویہ اپنائے ہوئے ہے۔حتی کہ متعدد چوکیوں میں تعینات فوجیوں کو کئی ماہ سے خواراک فراہم نہیں کی گئی۔ اب وہ اپنی بھوک مٹانے کے لیے گھاس کھانے پر مجبور ہیں۔ جب کہ ان کے اعلیٰ افسران امریکی ڈالروں میں کھیل رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے جانوروں کی طرح گھاس کھانے والی فوج سے انسانیت اور رحم کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ افسوس کہ یوناما جیسا بین الاقوامی ادارہ بھی ان کے جرائم پر پردہ ڈال رہاہے۔شہریوں کو پہنچنے والے نقصانات اور جنگی جرائم کا احتساب بھی امریکا کے مفادت کی نذر ہو رہا ہے۔ امید ہے یہ ادارہ اپنی بین الاقوامی ساکھ برقرار رکھنے کے لیے انسان دوستی کے نعرے کو عملی جامہ پہناتے ہوئے افغانستان کے مظلوم عوام کے پے در پے حملوں میں شہادتوں کا نوٹس لے گا اور اپنی خاموشی ترک کرے گا۔

ایک تبصرہ

  1. یوناما سے انصاف پسندی کی طرف داری اور ظلم کی مخالفت کی توقع رکھنا وقت اور توانائی کا ضیاع ہے۔گھاس کھانے والی فوج واقعتاً قابلِ رحم ہے۔مگر ڈالرز کھانے والے بدتر از خنزیر ہیں۔ان خبیثوں کو مجاہدین نبٹ لیں گے۔انشاءاللہ

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*