دسمبر 06, 2019

روزنامہ ڈان سے ذبیح اللہ مجاہد کی گفتگو

روزنامہ ڈان سے ذبیح اللہ مجاہد کی گفتگو

 

ترجمہ : ہارون بلخی

نوٹ:یہ انٹرویو پاکستان کے معروف اخبار روزنامہ ڈان کو دیا گیا تھا۔

 

سوال:         کیا آپ اپنے دستور اور منشور کے حوالے سے بتا سکتے ہیں؟

جواب :       اب تک ہمارا مدون اور طبع شدہ دستور نہیں ہے۔ البتہ ہمارے اہداف متعین ہیں۔ ہمارے اہداف افغانستان سے جارحیت کا خاتمہ، اسلامی نظام کا نفاذ، امن و امان کی فراہمی، ملک کی تعمیرنو اور اہل وطن کی  خدمت کرنا ہے۔

سوال:         آپ کے نمائندے شیرمحمد عباس ستانکزئی نے کابل حکومت کے موجودہ آئین کو غلط، مغرب سے کاپی اور  صلح کے حوالے سے ایک رکاوٹ سمجھا ہے۔اس بات کے لیے کون سی دلیل ہے؟اس آئین میں کون سی متعین شقیں ہیں،جنہیں طالبان تسلیم نہیں کرتے۔برائےمہربانی ان کی نشان دہی کیجیے؟

جواب:        ستانکزئی صاحب کی باتیں درست ہیں۔ درحقیقت کابل انتظامیہ کا آئین امریکی جارحیت کے زیرسایہ ان کے مفاد میں مرتب ہوا ہے۔ کوئی ملک بھی اس طرح کا آئین تسلیم نہیں کرے گا،جو طیاروں کے بمباری کے سائے میں کسی ملک کے لیے بنایا گیا  اور اسی ملک پر مسلط کیا گیا ہو۔افغان معاشرہ ایک خالص اسلامی معاشرہ ہے۔ ہمارے لیے آئین اسلامی شریعت کی روشنی میں مرتب ہو کر بعد میں سامنے آئے گا۔ جب ہم نے اسلامی نظام نافذ کردیا۔اس کے بعد ہم موجودہ آئین میں لازمی تبدیلیاں لے آئیں گے۔ تمام غیرشرعی شقوں کی اصلاح کریں گے۔ میں اب  ان شقوں کو یہاں نقل نہیں کرسکتا۔ اس لیے اس آئین کو علما کے تجزیہ کی ضرورت ہے۔جس سے (اسلام مخالف) نواقض کی نشان دہی ہو جاتی ہے۔

سوال:         ستانکزئی نے یہ بھی کہا کہ طالبان علما کی جانب سے مرتب شدہ اسلامی آئین چاہتے ہیں۔ آپ کے آئین میں کیا ہوگا؟آپ کے آئین اور موجودہ آئین کی کن شقوں میں فرق ہوگا اور کیا طالبان ایسے علما کو مدنظر رکھتے ہیں، جو اس طرح آئین لکھیں گے؟

جواب:        جی ہاں! یہ بات سچ ہے۔ہم اس طرح کا آئین چاہتے ہیں، جو شریعت کی ہدایات کے مطابق ہو۔ ہمارے معاشرے میں ایسے علما موجود ہیں، جو استقلال کے حصول کے بعد اکھٹے ہوں گے۔ موجودہ آئین کے مسائل کی نشان دہی کریں گے۔ اس کی جگہ اسلامی شقیں شامل کریں گے۔ چوں کہ اب میں ان علما کے بارے میں بتاسکوں اور نہ ہی ان شقوں کے متعلق، جو شریعت سے متصادم ہیں، اس لیے کہ وہ اُس وقت کے علما کا کام ہے۔

سوال:         طالبان افغانستان کے مستقبل کے سیاسی نظام میں اپنے لیے کون سا کردار دیکھ رہے ہیں اور اس سے طالبان کا کیا مقصد ہے، جو کہا جاتا ہے کہ ہم افغان عوام کا مشترکہ سیاسی نظام چاہتے ہیں؟

جواب:        ہم مستقبل کے سیاسی نظام میں اہم کردار ادا کریں گے۔جس کی فی الحال نشان دہی قبل از وقت ہوگی۔ ‘افغان عوام کے مشترکہ سیاسی نظام’ کا معنی یہ ہے کہ افغانستان کے تمام طبقات کے نمائندے اس نظام میں ہوں گے۔ تمام نمائندے اسلام و ملک اور عوام کی خدمت کریں گے۔ سب لوگ بغیرکسی تنازع کے نظام میں اپنے نمائندوں کو دیکھ لیں گے۔

سوال:         کیا طالبان نے عبوری حکومت کے حوالے سے مذاکرات کیے ہیں۔ اگر کیے ہیں تو طالبان کے نزدیک حکومت کس طرح ہوگی اور کون کون سے کام کرے گی؟

جواب:        جی نہیں! عبوری حکومت کے حوالے سے گفتگو نہیں ہوئی اور یہ ہماری تجویز نہیں ہے۔

سوال:         ستانکزئی صاحب نے یہ بھی کہا ہے کہ طالبان صلح اور حقوق نسواں کے لیے وفاداررر ہیں گے۔ مگر اسی حالت میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ بیرونی ثقافت، ڈرامے اور فلمیں خواتین کو افغان روایات توڑنے کی تعلیم دے رہی ہیں، لہذا ان کے خلاف قدم اٹھایا جائے گا۔ اس تناظر میں افغان خواتین اور حقوق نسواں کے اداروں کی جانب سے خدشات سامنے آئے ہیں کہ ممکن ہے طالبان دوبارہ اس زمانے میں چلے جائیں،جو بیس سال پہلے تھا۔  لہذا آپ خواتین کے لیے معاشرے میں کون سا کردار دیکھ رہے ہیں؟

جواب:        جناب ستانکزئی کی بات درست ہے۔ ہمارا معاشرہ ایک اسلامی معاشرہ ہے۔ ہم خواتین اور مردوں کے لیے وہ حقوق اور زندگی گزارنے کا طریقہ کار چاہتے ہیں،جس کی نشان دہی اسلامی شریعت کرے گی۔اس عظیم ہدف کے لیے افغان عوام نے بیس لاکھ شہدا کا  نذرانہ پیش کیا ہے۔ البتہ ماضی میں جو مسائل سامنے آئے تھے، وہ تمام حقائق نہیں تھے۔ اکثر حصوں میں پروپیگنڈے ہوئے تھے۔ کچھ مسائل بھی تھے۔اس کی وجہ یہ تھی کہ ہم نئے آئے ہوئے تھے یا تب ہم جو کر رہے تھے، وہ تب کے معاشرے کی ضرورت تھی، اس سے پہلے  بہت وسیع جنگیں اور فساد گزر چکے تھے۔ اس کی  دوبارہ اصلاح میں کچھ ضرورت تھی۔اب حالات بدل چکے ہیں۔ عوامی آگاہی کی  سطح بلند ہوئی ہے۔ کافی تجربات حاصل ہوچکے ہیں۔ اس کے بعد مردوں اور خواتین کے حقوق کی فراہمی میں کوئی مسئلہ نہیں آئے گا۔ ان شاءاللہ

سوال:         جب کہ طالبان دوحا اور ماسکو میں امن مذاکرات کررہے ہیں تو افغانستان میں حملوں میں کیوں شدت لائی گئی ہے؟

جواب:        دوحا میں ہم امریکا کے ساتھ گفتگو میں مصروف ہیں، مگر اب تک کسی ایسے نتیجے پر نہیں پہنچے، جس کے نتیجے میں امریکا اور اس کے داخلی حامیوں پر حملے نہ کیے جائیں۔ ماسکو کانفرنس میں بھی اس طرح کا کچھ طے نہیں ہوا۔جس سے ہماری جنگ اور فوجی دباؤ کو بندش کا سامنا کرنا پڑے۔ ہم جنگ پر مجبور ہے۔دشمن بھی ہم پر حملے  کر رہا ہےاور ہم بھی اس کے خلاف لڑ رہے ہیں۔

سوال:         کیا یہ غیراخلاقی بات نہیں کہ طالبان کابل حکومت سے گفتگو نہیں کرتے۔ افغان امن کا فیصلہ امریکا کے ساتھ ہو رہا ہے تو اس صورت میں وہ فیصلہ افغانستان میں کس طرح نافذ العمل ہو سکے گا؟

جواب:        کابل انتظامیہ کےساتھ بات چیت کرنے میں کچھ مسائل ہیں۔ اگر ہم کسی حکومت کے نام سے کابل انتظامیہ سے گفتگو کریں تو اس کا معنی یہ ہوگا کہ ہم اس مزدور انتظامیہ کو ایک قانونی افغان انتظامیہ کے طور پر تسلیم کرتے ہیں۔ جب کہ وہ استعماری طیاروں کی بمباری کی قوت پر ہم مسلط کی گئی ہے۔ لہذا اس طرح ہم باغی کہلائیں گے۔ نتیجۃ ہمیں مزاحمت نہیں کرنی چاہیے۔لہذا ایسے حالات میں کوئی بھی غیرملکی مسلط شدہ نظام کو تسلیم نہیں کرتا۔ ہمارے فیصلے ضرور نافذالعمل ہوں گے،جنہیں افغان عوام اور  ہمارے مجاہدین چاہتے ہیں۔

سوال:         کیا طالبان فائربندی اور بین الافغان بات چیت کے خلاف ہیں۔ اگر ایسا ہے تو کیوں؟

جواب:        جب تک امریکی دراندازی باقی رہے گی، فائربندی اور بین الافغان گفتگو کا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا۔ اس لیے کہ امریکی جارحیت نے تمام گفتگو کو بے فائدہ کر رکھا ہے۔ تمام اختیارات امریکی استعمار کے پاس ہیں۔  ہمارے رہنماؤں پر بمباری اور حملے ہوتے رہتے ہیں۔ اس صورت حال میں فائربندی اور بین الافغان ڈائیلاگ کے لیے ہمیں موقع نہیں ملتا۔ ہمیں سب سے پہلے بیرونی جارحیت کو ختم کرنا چاہیے۔ ہم اس کے بعد اپنے داخلی مسائل حل کرنے کے لیے فارغ ہو سکیں گے۔

سوال:         وہ کون سے افغان رہنما ہیں، جو موجودہ حکومت میں کام کر رہے ہیں یا نہیں کر رہے، مگر طالبان ان سے ملنا چاہتے ہیں؟

ہم ہر اس شخص کے ساتھ بات کر سکتے ہیں، جو ہمارا مخالف رہا ہو۔ مگر اب کابل انتظامیہ میں کام نہیں کرتا۔البتہ  جو فرد موجودہ نظام میں سرکاری عہدوں پر فائز  اور نظام کا حصہ ہے،اس سے بات چیت نہیں کر سکتے۔ البتہ تمام مخالف فریقوں سے گفتگو کرنا  تنازع کے حل اور صلح کے بہتر نتائج کے لیے ضروری ہے۔ اس میں افغان عوام کی بہتری ہے۔

سوال:         طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے میں پاکستان نے کردار ادا کیا ہے؟

جواب:        امریکا کے ساتھ بات چیت کا ارادہ ہمارا اپنا ہی تھا۔ ہم نے جارحیت سے پہلے بھی امریکا سے کہا تھا کہ جنگ کے بجائے ہمارے ساتھ مذاکرات کریں۔ اس کے بعد 2013 کو ہم نے گفتگو کے لیے دوجا میں سیاسی دفتر قائم کیا۔اسی لیے کہ امریکا اور ہمارے درمیان بات چیت ہو۔ مگر تب امریکا مذاکرات نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اب امریکا نے مذاکرات کی حامی بھری ہے۔ لہذا ہم بھی گفتگو کے عمل میں شریک ہو گئے ہیں۔ ہمیں امریکا کے ساتھ بات چیت کرنے یا کرانے میں کسی ملک کا کوئی ذرہ بھر کردار شامل نہیں ہے۔ یہ ہمارا اپنا ماضی کا موقف ہے۔

سوال:         اگر طالبان افغانستان کی سیاست میں داخل ہو جائیں تو پاکستان کو کس نگاہ سے دیکھیں گے؟

جواب:        پاکستان ہمارا ہمسائیہ ملک ہے۔ پاکستان روس خلاف جہاد کے زمانے میں مہاجرین کے لیے سب سے بہترین جگہ رہی ہے۔ حتی کہ افغانی اسے اپنا دوسرا گھر سمجھتے ہیں۔ ہم مستقبل میں پاکستان کےساتھ ایک برادر اور ہمسائیہ ملک کے طور پر پیش آئیں گے۔ ہم باہم برابری کی سطح کے احترام سے بھرے تعلقات کے خواہاں ہیں۔ اسی طرح دیگر پڑوسی ممالک کے ساتھ بھی معاملہ ہوگا۔

سوال:         طالبان کی جانب سے القاعدہ رہنماؤں کی حمایت ایسا عمل تھا، جو ان کی حکومت کے خاتمے کا سبب بنا۔ اگر ایک بار پھر طالبان برسراقتدار  آ جائیں تو کیا طالبان پھر بھی اس طرح کی جماعتوں اور گروپوں کو جگہ دیں گے؟

جواب:        امارت اسلامیہ کے دوراقتدار میں غیرافغان مجاہدین کی حفاظت اور انہیں ٹھکانہ دینے بارے معاملہ یہ ہے کہ جو مجاہدین روس کے ساتھ جہاد کے زمانے میں افغانستان آئے تھے اور یہاں ہمیں میراث میں ملے تھے، ان کے ساتھ تعاون ایک مذہبی ضرورت اور روایتی مطالبہ تھا۔ اب  ان میں سے کوئی ایسا شخص یہاں نہیں ہے۔ جسے پناہ دینے کی ضرورت ہو۔ البتہ ہم نہایت صراحت سے کہتے ہیں کہ امارت اسلامیہ افغانستان کی سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہونے دے گی۔

بشکریہ ماہنامہ شریعت

Related posts