مجاہدین سے بھاگ کر کہاں جاؤ گے

آج کی بات

 

تقریبا ایک ہفتے سے مجاہدین صوبہ بادغیس کے مختلف اضلاع میں دشمن کے فوجی اڈوں اور چوکیوں پر حملے کر رہے ہیں۔ جن کے نتیجے میں درجنوں چوکیاں فتح اور اہم علاقے دشمن کے کنٹرول سے نکل گئے ہیں۔ درجنوں فوجیوں نے پسپائی اختیار کی اور ضلع بالامرغاب میں پڑوسی ملک ترکمانستان کی سرحد پر پہنچ کر وہاں محصور ہو گئے ہیں۔ کابل انتظامیہ کی صوبائی کونسل کے ڈپٹی سربراہ افضلی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بادغیس کی صورت حال حکومت کے کنٹرول سے نکل چکی ہے۔ بادغیس کے زیادہ تر علاقوں پر طالبان کا کنٹرول ہے۔ حکومت کے کنٹرول میں صرف دارالحکومت قلعہ نو باقی ہے۔ انہوں نے کہا کہ طالبان نے بالامرغاب میں فرنٹ لائن میں موجود فوجیوں کو شکست دی ہے۔ بلا شبہ وہ صوبائی دارالحکومت پر بھی کنٹرول حاصل کر لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بادغیس میں موجود فوجیوں کے حوصلے پست ہیں۔ اب تک درجنوں فوجی ہلاک، زخمی اور درجنوں اہل کار ترکمانستان کی سرحد پر پہنچ گئے ہیں۔

دوسری جانب امارت اسلامیہ کے ترجمان جناب قاری یوسف احمدی نے بھی ایک وضاحتی بیان جاری کیا ہے۔ اس کے مطابق مجاہدین نے بادغیس کے ضلع بالامرغاب میں وسیع پیمانے پر کارروائیوں کے نتیجے میں 2ہزار گھروں پر مشتمل علاقے ‘مورچاق’ پر کنٹرول حاصل کیا ہے۔ تین فوجی اڈوں اور کئی چوکیوں سے اجرتی اہل کار فرار ہو گئے ہیں۔ سو سے زائد اہل کار ترکمانستان کی سرحد پر پہنچ گئے۔ وہ بارڈر عبور کرنا چاہتے ہیں، مگر ترکمن فوج نے انہیں اجازت نہیں دی۔ وہ وہیں محصور ہو گئے، جن میں سے 42 اہل کار سرنڈر ہو گئے۔ قاری یوسف احمدی نے کہا کہ طالبان نے ان محصور اہل کاروں سے کہا ہے کہ وہ ہتھیار ڈال دیں، تاکہ وہ ہلاکت سے بچ جائیں۔ اب تک تقریبا پچاس کے قریب فوجیوں نے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔ توقع ہے مزید فوجی بھی سرنڈر ہو جائیں گے۔

بادغیس ملک کے مغرب میں واقع ایک پہاڑی اور خشک میوہ جات سے مالا مال صوبہ ہے۔ اس کا مغربی حصہ ہرات، مشرقی حصہ فاریاب، شمالی سرحد ترکمانستان اور جنوبی حصہ صوبہ غور سے منسلک ہے۔ 23000مربع کلومیٹر رقبے پر واقع یہ صوبہ چھ اضلاع پر مشتمل ہے۔ سیاسی مبصرین اور تجزیہ کاروں کے مطابق بادغیس کے مضافات میں امارت اسلامیہ کی کامیاب کارروائیوں کے نتیجے میں کابل انتظامیہ کے سیکڑوں فوجیوں کی پسپائی نے ثابت کر دیا کہ وہ امریکی فوج کے انخلا کی بازگشت سے خوف زدہ اور حواس باختہ ہیں۔ سیکڑوں فوجی خود کو محفوظ نہیں سمجھتے ہیں۔ اس لیے پڑوسی ملک میں پناہ لینے کے لیے وہاں فرار ہو گئے تھے۔ اگر امریکا نے عملی طور پر اعلان کیا کہ وہ افغانستان سے فوج کو واپس بلائے گا تو کابل انتظامیہ کی اجرتی فورسز کا انجام کیا ہوگا، یہ افغان فوج کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔

اب بھی وقت ہے وہ اپنے سابقہ اعمال پر ندامت کا اظہار کریں۔ صلیبی جارحیت پسندوں کی جارحیت اور کابل انتظامیہ کے دفاع اور تحفظ سے دست بردار ہو جائیں۔ اپنی قوم کا ناحق خون بہانے سے توبہ کریں۔ یہی واحد راستہ ہے کہ جو انہیں دنیا کی ذلت و مصیبت اور آخرت کے عذاب سے بچا سکتا ہے۔

ایک تبصرہ

  1. Muhammad Aamir Dilshad

    Great job. you are lions of Allah and Prophet Muhammad P.B.U.H

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*