اکتوبر 16, 2019

امارت اسلامیہ کی سیاسی اور عسکری برتری

امارت اسلامیہ کی سیاسی اور عسکری برتری

آج کی بات

 

امارت اسلامیہ نے عسکری میدان میں ثابت کر دیا ہے کہ دشمن مجاہدین کے خلاف جتنی بھی طاقت کا استعمال کر لے۔ تاہم شکست اور ناکامی اُس کا مقدر ہے۔ امارت اسلامیہ اللہ تعالی کی مدد پر یقین رکھتی ہے۔وہ  اپنے مجاہد عوام کی حمایت سے جدوجہد کر رہی ہے۔ امارت اسلامیہ کی عسکری جدوجہد ملک کے مشرق سے مغرب اور شمال سے جنوب تک جاری ہے۔ افغانستان میں آباد تمام برادر اقوام اور قبائل امارت اسلامیہ کے کاز کی حمایت کر رہے ہیں۔ وہ امارت اسلامیہ کی قیادت میں قابض فوج اور کابل انتظامیہ کے خلاف مقدس جہاد میں مصروف ہیں۔ ملک کے کونے کونے میں مجاہدین ہر گزرتے دن کے ساتھ مضبوط ہو رہے ہیں۔ وہ وسیع علاقوں پر اپنا کنٹرول قائم کر کے غنیمتیں حاصل کر رہے ہیں۔ عام لوگ افغانستان بھر میں مجاہدین کی حمایت میں اجتماعات منعقد کر رہے ہیں، یہ عوامی حمایت کی ایک مثال ہے۔

غیرجانب دار بین الاقوامی تحقیقی مراکز کے اعداد و شمار اور دشمن کے اعتراف کے مطابق افغانستان کے نصف سے زائد حصے پر امارت اسلامیہ کا کنٹرول ہے۔ کابل سمیت جن شہروں میں جہاں مجاہدین کا کنٹرول نہیں ہے، اس کے باوجود وہ وہاں ہر وقت حملہ کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔ امارت اسلامیہ عسکری سرگرمیوں کے ساتھ سیاسی جدوجہد بھی کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں امارت اسلامیہ کے سیاسی دفتر کے رہنماؤں نے مختلف ممالک کے دورے کیے ہیں۔ بین الاقوامی کانفرنسوں میں حصہ لیا ہے۔ مختلف حلقوں اور شخصیات کے ساتھ ملاقاتیں کی ہیں۔ مختلف اجلاسوں اور کانفرنسوں میں اپنا اصولی موقف دنیا کے سامنے پیش کیا ہے۔ خطے اور دنیا کو یہ یقین دلایا ہے کہ ہم افغانستان کی سرزمین پر کسی بیرونی قوت کو ٹھہرنے کی اجازت دیں گے اور نہ ہی دوسروں کے معاملات میں ہم مداخلت کا حق رکھتے ہیں۔

امارت اسلامیہ نے افغان عوام کی حقیقی نمائندگی کا حق ادا کرتے ہوئے اپنے حقوق کے لیے عسکری سرگرمیوں کے ساتھ سیاست اور دعوت کے ذریعے بھی اپنی جدوجہد کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ امارت کے اعلامیوں اور بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ ہر ممکن طریقے سے آزادی اور لاکھوں شہداء کی امنگوں کے مطابق اسلامی نظام نافذ کرنے کے لیے جدوجہد جاری ہے۔ دشمن نے امارت اسلامیہ کو صفحہ ہستی سے مٹانے یا کم از کم کمزور کرنے کے لیے ہر قسم کے ظلم و جبر کا سہارا لیا۔ امارت اسلامیہ کو بدنام کرنے کے لیے منفی پروپیگنڈا کیا گیا۔ امارت اسلامیہ کا وجود ختم ہوا اور نہ ہی عوام نے اس سے اپنا رشتہ توڑا۔

گزشتہ ہفتے ماسکو میں منعقدہ کانفرنس میں شریک مختلف افغان سیاست دانوں نے امارت اسلامیہ کے موقف کی حمایت کی، جس سے ثابت ہوتا ہے امارت اسلامیہ ایک مضبوط ملی، اسلامی تحریک کا نام ہے، جس کی فوجی اور سیاسی قوت سے انکار ممکن نہیں ہے۔

Related posts