جنگی جرائم (دسمبر2018)

 

سید سعید

یکم دسمبر 2018 کو ہرات کے ضلع شین ڈنڈ کے علاقے تیل فروش بازار میں پولیس نے فائرنگ کر کے ایک شہری کو شہید کر دیا۔ اسی دن قابض اور افغان فوج نے غزنی کے ضلع ناوہ کے بازار پر چھاپہ مارا۔ تین نہتے شہریوں کو شہید اور پانچ کو حراست میں لے لیا۔ اس کے علاوہ اٹھارہ گاڑیاں، 45 موٹر سائیکلیں، ایک پٹرول پمپ، ایک گیراج اور ایک آئل ٹینکر کو بھی آگ لگا دی۔ ضلعی سرکاری عمارت، بازار کی جامع مسجد اور متعدد دکانوں کو مسمار کر دیا گیا۔

3دسمبر کو ہلمند کے ضلع نوزاد کے علاقے داورموز میں حملہ آوروں اور اجرتی فوج نے مقامی لوگوں کے گھروں اور بازار پر چھاپہ مارا۔ مقامی لوگوں کے مطابق فوج نے شادی کی تقریب پر بمباری کی، جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت 7 افراد شہید ہوگئے۔ اس کے علاوہ فوج نے ایک ڈاکٹر اور ایک چوکیدار سمیت چار افراد کو حراست میں لے لیا۔ اسی دن صوبہ فراہ کے دارالحکومت کے ائیرپورٹ کے قریب قابض فوج نے مقامی آبادی پر گولہ باری ،کی جس کے نتیجے میں 8 شہری زخمی اور ایک شہید ہوگیا۔ اسی تاریخ کو فاریاب کے ضلع اندخوی کے علاقے سلدوز میں پولیس کی فائرنگ سے ایک نوجوان سیدامین شہید ہوگیا۔ جب کہ غزنی کے ضلع خوگیانو کے علاقے چہار قلعہ، کڈہ، ملا قلعہ، ولی قلعہ اور گاجو خیل پر قابض فوج نے چھاپہ مارا۔ جس کے نتیجے میں پانچ افراد شہید ہوئے، جب کہ متعدد دکانیں بھی لوٹنے کے بعد جلا دی گئیں۔ مزید یہ کہ چھ افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔

4دسمبر کو حملہ آوروں اور زیرو ون یونٹ کے اہل کاروں نے لوگر کے دارالحکومت میں بابوس اور زورہ کے علاقے پر چھاپہ مارا۔ گھروں کے دروازے توڑ دیے۔ گھر گھر تلاشی کے دوران قیمتی چیزیں لوٹ لیں۔ جب کہ حاجی نبی سمیت متعدد شہریوں کے گھروں کو مسمار کر دیا گیا۔ اس کارروائی میں 8 افراد شہید ہوئے۔ اسی دن صوبہ فراہ کے ضلع بالابلوک کے علاقے شیوان میں دشمن نے مشترکہ آپریشن کے دوران تین شہری شہید اور دو زخمی کر دیے۔

5دسمبر کو ہلمند کے ضلع نادعلی کے علاقےلوی ماندہ کے علاقے میں قابض فوج کی بمباری کے نتیجے میں پانچ شہری شہید ہوگئے۔ جب کہ صوبہ خوست کے ضلع نادر شاہ کوٹ کےعلاقے پلوسہ میں کمپاؤنڈ کے اہل کاروں نے چھاپہ مارا، جس میں 5 افراد شہید ہوگئے۔ اگلے دن ہلمند کے ضلع گریشک کے علاقے قلعہ گز میں قابض فوج کے ڈرون حملے میں تین کسان شہید ہوگئے۔

8دسمبر کو صوبہ جوزجان کے ضلع قوشتیپہ کے گاؤں شیربیگ پر قابض امریکی فوج نے ڈرون حملہ کیا، جس میں خواتین اور بچوں سمیت تین افراد شہید ہوگئے۔ جب کہ اگلے دن صوبہ ہلمند کے ضلع موسی قلعہ کےعلاقہ لجہ میں حملہ آوروں نے طالبان کی ایک جیل پر حملہ کیا، جس کے نیتجے میں قیدی تین فوجی اہل کار شہید اور 13 اہل کار زخمی ہوگئے۔

11دسمبر کو ہلمند کے ضلع گریشک کے علاقے شورہ پر قابض فوج نے بمباری کی، جس میں ایک کسان شہید اور ایک زخمی ہوگیا۔ اسی دن قندھار کے ضلع نیش میں فوج کی گولہ باری سے دو بچے شہید ہوگئے۔ اگلے دن غزنی کے ضلع قرہ باغ کے دیہات ولی داد قلعہ، کنڈہ لغ، چاکر اور لوگر پر دشمن نے چھاپہ مارا اور چھ افراد شہید کر دیے۔ جب کہ 13دسمبر کو قابض اور اجرتی فوج نے کنڑ کے ضلع شیگل کے علاقے چوگام، برغنڈ اور سوکنو پر چھاپہ مارنے کے بعد وحشیانہ بمباری کی، جس میں 65 شہری شہید ہوگئے۔ درجنوں گھر مسمار کر دیے گئے۔ کنڑ کے صوبائی حکام نے بھی اس واقعہ کی تصدیق کی اور جھوٹا دعوی کیا کہ اس کارروائی میں چند طالبان بھی مارے گئے۔ اسی طرح پکتیا کے ضلع سیدکرم کے علاقے کاریز میں قابض امریکی فوج کے ڈرون حملے میں دو شہری شہید اور ایک زخمی ہوگیا۔ جب کہ ہلمند کے ضلع سنگین کے علاقے سرہ گودر پر امریکی ڈرون طیارے نے حملہ کیا۔ جس میں چار شہری شہید ہوگئے۔ اگلے دن غزنی کے ضلع رشیدان میں قابض اور اجرتی فوج نے مشترکہ کارروائی کے دوران دو شہریوں کو شہید اور دو ڈاکٹروں کو حراست میں لے لیا۔

15دسمبر کو صوبہ فراہ کے ضلع خاک سفید کے علاقے خوشکاوہ میں امریکی ڈرون طیارے نے دو موٹر سائیکل سواروں پر حملہ کیا۔ جس میں وہ شہید ہوگئے۔ اسی دن ہلمند کے ضلع گرمسیر میں امیر آغا بازار پر قابض اور اجرتی فوج نے چھاپہ مارا۔ اس دوران دکانوں سے قیمتی چیزیں لوٹنے کے بعد بازار پر وحشیانہ بمباری کی گئی۔ جس سے دکان داروں کو کروڑوں روپے کا نقصان ہوا۔ اگلے دن غزنی کے دارالحکومت میں گورنر کے محافظوں نے ضلع مقر کے باشندے اسلم الدین کو شہید کر دیا۔ ہلمند کے دارالحکومت لشکرگاہ کے علاقے کاریز میں پولیس نے ایک دینی مدرسے پر چھاپہ مارا۔ مدرسے کے ناظم مولوی محمد شفیق کو گرفتار کرنے کے بعد تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جس کے باعث وہ دم توڑ گئے۔ اسی دن لوگر کے دارالحکومت سے ضلع چرخ کی سڑک پر قابض فوج کے ڈرون طیارے نے ایک گاڑی پر میزائل داغا، جس میں سوار چھ افراد موقع پر شہید ہوگئے۔

17دسمبر کو ننگرہار کے ضلع شیرزاد کے علاقے مرکی خیل میں قابض امریکی فوج کی بمباری میں گیارہ افراد شہید ہوگئے۔ صوبہ خوست کے ضلع باک کے علاقے کوٹکیو میں دشمن نے فوجی آپریشن کے دوران گھروں کے دروازے بموں سے اڑا دیے۔ اس کارروائی میں چار افراد شہید ہوئے، جب کہ 15 افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔ اسی طرح 19دسمبر کو صوبہ فراہ کے ضلع بکوا کے علاقے غوریان میں قابض امریکی فوج کے ڈرون حملے میں ایک شخص شہید اور اسی ضلع کے علاقے چربک میں بھی ڈرون حملے میں ایک شخص شہید ہو گیا۔ اگلے دن صوبہ پکیکا کے ضلع سروبی کے علاقے خان زمان میں قابض امریکی فوج کے ڈرون حملے میں ایک بچی سمیت دو افراد شہید ہوگئے۔ جب کہ جارحیت پسندوں اور اجرتی فوج نے غزنی کے ضلع شلگر کے بازار، معاش، میری، جمال قلعہ اور حبیب گودل دیہات پر چھاپہ مارا۔ قابض فوج نے متعدد مکانات جلا دیے اور متعدد مکانوں کو بارودی مواد سے تباہ کیا۔ اس کے بعد حاجی سلطان اکا کے گھر پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں ایک خاتون اور دو بچوں سمیت چار افراد شہید ہو گئے۔

20دسمبر کو صوبہ فراہ کے ضلع بکوا کے علاقے سرحد میں قابض فوج کے ڈرون حملے میں چار افراد شہید اور ایک زخمی ہو گیا۔ جب کہ اگلے دن فاریاب کے ضلع پشتون کوٹ کے علاقے یکہ توت پر امریکی ڈرون حملے میں ایک عالمِ دین مولوی عبدالباسط اور ان کے ساتھی شہید ہوگئے۔ اسی صوبے کے ضلع خیبر کے علاقے میرزاکہ میں بھی دشمن کے ڈرون حملے میں دو شہری شہید ہو گئے تھے۔ جب فراہ کے ضلع پشت کوہ کے مضافات میں امریکی طیاروں کے ڈرون حملے میں تین افراد شہید ہوگئے۔ ضلع پشترود کے علاقے گنہکان میں بھی امریکی ڈرون حملے میں تین افراد شہید ہوگئے۔ اگلے دن قندھار کے ضلع شاولی کوٹ کے علاقے چغیان میں قابض امریکی اور افغان اجرتی فوج کی مشترکہ کارروائی میں ایک خاندان کے چار افراد شہید اور تین خواتین زخمی ہو گئیں۔ اسی گاؤں میں تین افراد کو اں کے گھروں سے نکال کر شہید کر دیا گیا۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے اس کارروائی میں لوگوں کو بڑے پیمانے پر مالی نقصان بھی ہوا اور فوج چھ افراد کو گرفتار کر کے ساتھ لے گئی۔

24دسمبر کو صوبہ قندھار کے ضلع شاولیکوٹ کے علاقے باختو دیفال میں رات کو قابض امریکی فوج نے چھاپے کے دوران ایک شخص کو شہید اور 18 افراد کو حراست میں لے لیا۔ اسی دن صوبہ ہلمند کے ضلع کچکی کے علاقے بابا میں جارحیت پسندوں نے مقامی آبادی اور بازار پر وحشیانہ بمباری کی، جس کے نتیجے میں 7 نہتے شہری شہید ہوگئے۔ جب کہ 27 دسمبر کو صوبہ خوست کے ضلع صبریو کے بازار پر مشترکہ دشمن نے حملہ کیا۔ دشمن نے متعدد دکانوں کو بارودی مواد سے اڑا دیا اور حضرت نور نامی ایک شخص کو شہید کر دیا۔ اسی طرح صوبہ ننگرہار کے ضلع حصارک کے علاقے دوآب میں اتحادی فوج نے چھاپے کے دوران چار شہریوں کو شہید اور چار افراد کو گرفتار کر لیا۔

29دسمبر کو مشترکہ فوج نے صوبہ میدان وردگ کے ضلع سید آباد کے علاقے پٹھان خیل میں ایک دینی مدرسے کے گیارہ طلبا کو شہید کر دیا۔ جب کہ اگلے دن پکتیا کے ضلع زرمت کے علاقے مموزو اور سورکی پر قابض امریکی اور افغان اجرتی فوج نے چھاپے کے بعد وحشیانہ بمباری کی۔ جس کے نتیجے میں قبائلی رہنما حاجی نعیم کا گھر مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا۔ اس حملے میں حاجی نعیم، ان کے دو بھائی، تین بیٹے اور دو ہمسایہ شہید ہوئے۔ عینی شاہدین کے مطابق اس حملے میں عام شہریوں کا ایک پٹرول پمپ، ایک مسجد اور متعدد دکانیں مکمل طور تباہ کر دی گئی ہیں۔ جس کے خلاف علاقہ مکینوں نے لاشوں کو گورنر ہاؤس کے سامنے رکھ کر شدید احتجاج کیا اور مطالبہ کیا کہ ان پر جرم ثابت کیا جائے یا قاتلوں کو سزا دی جائے۔ اسی دن صوبہ ہلمند کے ضلع مارجہ کے قاسم بازار پر جارحیت پسندوں اور افغان فوج کے چھاپے کے دوران متعدد دکانیں تباہ ہوئیں۔ جب کہ عام شہریوں کی گاڑیوں کو بھی جلا دیا گیا۔ دو افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔

ذرائع: ‘بی بی سی، آزادی ریڈیو، افغان اسلامک پریس، پژواک، خبریال، لراوبر، نن ڈاٹ ایشیا اور دیگر ویب سائٹس’۔

 

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*