دسمبر 11, 2019

جنگی جرائم (اکتوبر2018)

جنگی جرائم (اکتوبر2018)

 

سیدسعید

یکم اکتوبر 2018 کو صوبہ کاپیسا کے کے ضلع نجراب کے علاقے افغان درہ میں زیرو وَن بریگیڈ نے چھاپے کے دوران ایک عورت سمیت دو افراد کو شہید اور سات خواتین کو زخمی کر دیا۔ اسی طرح فاریاب کے ضلع پشتون کوٹ کے علاقے یکہ توت میں فوج کی فائرنگ سے تین شہری شہید، جب کہ پانچ دیگر افراد زخمی ہو گئے۔

2اکتوبر کو ننگرہار کے ضلع شیرزاد کے علاقے توتو لوڑ میں قابض امریکی اور افغان فوج کے چھاپے کے دوران پانچ افراد شہید ہوئے۔ 4 اکتوبر کو قندھار کے ضلع معروف کے علاقے خوگیانو شارخیل میں شادی کی تقریب پر حملہ آوروں نے بمباری کی، جس میں چار خواتین شہید اور گیارہ افراد زخمی ہوئے۔ اگلے دن ہلمند کے ضلع مارجہ کے علاقے کرو چارائی اور تریخ ناور میں قابض امریکی فوج کی بمباری میں چار افراد شہید ہوئے۔

5اکتوبر کو صوبہ میدان وردگ کے ضلع نرخ کے علاقے تیتمور درہ میں قلعہ سنگی کے مقام پر زیرو وَن پولیس اہل کاروں نے تین افراد کو شہید کر دیا۔ اگلے دن صوبہ فاریاب کے ضلع قیصار کے علاقے شاخ میں فوج نے ایک گاڑی پر فائرنگ کی، جس میں سوار چار افراد شہید ہوگئے۔ اسی دن پکتیا کے ضلع گردی چیڑی کے علاقے سوری خیل میں فوج نے بازار پر گولہ باری کی۔ اس میں متعدد دکانیں تباہ اور 9 افراد شہید، جب کہ 5 زخمی ہوئے۔

7اکتوبر کو پکتیکا کے ضلع یحیی خیل کے علاقے ملاباغ میں پولیس کی فائرنگ سے سلیم اللہ ولد میرزا شہید ہوا۔ جب کہ 9اکتوبر کو ہلمند کے ضلع گریشک کے علاقے نہرسراج اور جانگل بازار پر قابض امریکی اور افغان فوجیوں نے چھاپہ مارا۔ جس میں تین افراد شہید کر دیے گئے۔ اگلے دن ہلمند کے ضلع نادعلی کے علاقے گل آغا بازار میں قابض امریکی اور افغان فوج کے ساتھ طالبان کی جھڑپ کے بعد حملہ آوروں نے علاقے پر شدید بمباری کی، جس میں خواتین اور بچوں سمیت 12 افراد شہید، جب کہ چار زخمی ہوئے۔ اس کے علاوہ لوگوں کو بھاری مالی نقصان بھی ہوا۔

10اکتوبر کو صوبہ فراہ کے ضلع خاک سفید کے علاقے دیوال سرخ میں پولیس اہل کاروں نے ایک بزرگ شخص شاگل اکا کو حراست میں لے لیا اور جیل میں پانچ دن بعد شہید کر دیا۔ اسی دن فاریاب کے ضلع چہلگزی میں قابض فوج کے طیاروں نے بمباری کر کے دو بچوں سمیت تین افراد کو شہید اور دو بچوں کو  زخمی کر دیا۔ اگلے دن ہلمند کے ضلع گریشک کے علاقے میرمندآب میں جارحیت پسندوں اور اجرتی فوج کی مشترکہ کارروائی کے دوران خواتین اور بچوں سمیت 10 افراد شہید، جب کہ 11 افراد زخمی ہوئے۔

14اکتوبر کو ہلمند کے ضلع سنگین کے علاقے چاروان قلعہ میں اسٹیشن کے مقام پر قابض امریکی اور افغان فوجیوں نے چھاپہ مارا، جس پر مجاہدین نے حملہ کیا۔ فریقین کے درمیان جھڑپوں کے بعد دشمن کے کمانڈوز نے بجلی گھر میں پناہ لی اور وہاں موجود بجلی گھر کے چھ ملازمین کو شہید کر دیا۔ جب کہ تین ملازمین، دو دکان داروں اور ایک کسان کو حراست میں لے لیا۔ اسی دن فاریاب کے ضلع شیرین تگاب کے علاقے اسلام قلعہ، تاش قلعہ، فیض آباد اور کوہ صیاد کے علاقوں میں طالبان کے ساتھ جھڑپ کے بعد دشمن نے علاقے پر شدید وحشیانہ بمباری کی۔ اس میں پانچ گھر تباہ، خواتین اور بچوں سمیت 12 عام شہری شہید اور متعدد زخمی ہوگئے۔

16اکتوبر کو قندھار کے ضلع میوند کے علاقے اوزبار میں ملکی اور غیرملکی فوجیوں نے چھاپے کے دوران 6 شہریوں کو شہید کر دیا۔ جس میں بڑے پیمانے پر مکینوں کو مالی نقصان بھی ہوا۔ جب کہ 6 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ اسی طرح قابض امریکی اور افغان فوج نے مشترکہ کارروائی میں صوبہ میدان وردگ کے ضلع چک کے علاقے سیبکی بازار میں 300 دکانوں سے قیمتی اشیاء لوٹنے کے بعد اندھی بمباری کی گئی، جس میں پانچ افراد شہید ہوگئے اور تین کاریں تباہ ہوگئیں۔

19اکتوبر کو قندھار کے ضلع تختہ پل کے گاؤں ْعلی زوٗ پر دشمن کے چھاپے میں تین شہری شہید ہوئے، جب کہ سات افراد کو گرفتار کیا گیا۔ اسی طرح 23اکتوبر کو ننگرہار کے ضلع رودات کے علاقے کابل کیمپ اور ٹویل پر حملہ آوروں اور اجرتی فوج نے چھاپہ مارا۔ جس میں خواتین اور بچوں سمیت 8 شہری شہید ہوئے۔

25اکتوبر کو قندوز کے ضلع چہاردرہ کے علاقے منگٹی میں حملہ آوروں کی بمباری میں تین خواتین شہید اور دو بچے زخمی ہوئے۔ اسی طرح 27اکتوبر کو صوبہ قندھار کے ضلع میوند کے علاقے گرماوک پر حملہ آوروں اور کٹھ پتلی فوج نے چھاپہ مارا۔ جس میں 6 شہری شہید ہوئے، جب کہ 9 افراد کو گرفتار کر لیا۔

29اکتوبر کو پکتیکا کے ضلع نکی کے مین بازار، صدیق، نورک، سرہ قلعہ اور بازک گاؤں پر جارحیت  پسندوں اور اجرتی فوج نے مشترکہ کارروائی کے دوران چھاپہ مارا۔ فوج نے چالیس دکانوں کو آگ لگا دی۔ جب کہ ڈاکٹر زکیم سمیت تین افراد کو شہید اور پانچ کو زخمی کر دیا۔ اسی طرح خوست کے ضلع سپیری کے مضافات میں پولیس اہل کاروں نے آندھا دھند فائرنگ کر کے پانچ شہریوں کو شہید اور دس افراد کو زخمی کر دیا۔ جب کہ حملہ آوروں اور اجرتی فوج نے صوبہ غزنی کے ضلع واغظ کے علاقے سربلند قلعہ میں مولوی موسی خان کے دینی مدرسے پر چھاپہ مارا۔ جس میں سات طالب علم شہید ہوگئے۔ اگلے دن قندھار کے ضلع خاکریز کے علاقے لام میں حملہ آوروں اور افغان فوجیوں نے چھاپے کے دوران ایک سفید ریش شخص کو شہید کر دیا۔ دس دکانوں کو تباہ اور لوگوں کی گاڑیاں نذرآتش کر دی گئیں۔

ذرائع: بی بی سی۔ آزادی ریڈیو۔ افغان اسلامک پریس۔ پژواک۔ خبریال۔ لر او بر۔ نن ڈاٹ ایشیا اور دیگر ویب سائٹس۔

Related posts