مارچ 07, 2021

ایک طرف مذاکرات اور دوسری طرف وحشیانہ جملے

ایک طرف مذاکرات اور دوسری طرف وحشیانہ جملے

تحریر:سید افغان

اس وقت قطر کے دارالحکومت دوحا میں امارتِ اسلامیہ اور افغان سیاسی جماعتوں کے درمیان بین الافغان مذاکرات جاری ہیں-جس کا ایک مرحلہ کامیابی سے اختتام پذیرہواہے اور دونوں فریق باقاعدہ مذاکرات شروع کرنے کے لیے ایک جامع مسودہ اصول تشکیل دینے پر متفق ہوگئے ہیں-جس کی روشنی میں مذاکرات کے اندر آنے والے نشیب وفراز حل وفصل کیے جاتے رہیں گے-اور اب دوسرا مرحلہ شروع ہے جس میں ایجنڈا بنایا جارہاہے اور دونوں فریق کوشش کررہے ہیں کہ موضوعات کاانتخاب کرکے ان چیزوں پر بحث کی جائے جو ملک وملت سے تعلق رکھتا ہو اور اسی حوالہ سے قوم مشکلات سے نبرد آزما ہو-
جبکہ دوسری طرف چند وحشی صفت گماشتے مسلسل اس عمل کو سبوتاژ کرنے کے درپے ہیں-کبھی امراللہ صالح، کبھی حمداللہ محب اور کبھی دیگر لوگ اپنے اقوال اور اعمال سے یہ کوشش کررہے ہیں-18 جنوری کو ایک طرف اشرف غنی کے معاونِ اول امراللہ صالح یہ بیان دیتا ہے کہ افغانستان میں جو بھی جرائم ہوئے ہیں یا ہوتے ہیں وہ سب طالبان کے رہائی پانے والے قیدیوں کا کیا دھرا ہے؛اس لیے طالبان کے قیدیوں کو پھانسی دی جائے-یہ ہرزہ سرائی بس نہیں تھی کہ عین اسی دن ملت کا قاتل اور کابل انتظامیہ کا فیلڈ مارشل رشیددوستم صوبہ فاریاب میں اپنے سپاہیوں سے خطاب کرتا ہے اور کہتا ہے کہ طالبان کسی رحم وکرم کے قابل نہیں ہیں-جتنا تم سے ہوسکے اتنا ہی ان کے ساتھ سختی سے نمٹ جاو!
قطع نظر اس کے کہ اس وقت پورا ملک مذاکرات کی طرف نگاہ اٹھاکر کسی نویدِ صبح کا منتظر ہے اور اس وقت میں ایسی دلخراش باتیں مناسب نہیں ہیں کیا یہ باتیں بذاتِ خود وحشت کی انتہا کی غمازی نہیں کرتی؟کیا یہ باتیں رشیددوستم کی حقیقت کی عکاسی نہیں کرتیں؟
رشید دوستم کی یہ بات بلا شبہ اس کی زندگی کے جد وخال کو نمایاں کرتی ہے-موصوف ہر دور میں بدترین قاتل،ظالم اور خونخوار سے اپنی شہرت برقرار رکھنے والا شخص ہے-روس کے خلاف جہاد سے لے کر آج تک اگر اس کا کوئی کارنامہ ہے تو یہ کہ مسلمانوں کو زندہ درگور کیا -افغانستان کے غیور عوام کو جیلوں میں ٹھونس کر درندوں سے بھی زیادہ بدتر سلوک روا رکھا گیا-روس کی حمایت میں اپنی قوم کو بمباری اور توپ وتفنگ کا نشانہ بنایا-پھر امریکا کی حمایت میں صرف ایک موقع پر ہزاروں افغانوں کو تہ تیغ کیا-عالمی سطح پر وہ ایک ایسا شخص ہے جس نے اپنی قوم کا سب سے زیادہ ناحق خون کیا ہے-انسانی حقوق کو پامال کرنے میں ہمیشہ سے پیش پیش رہے ہیں-
ایسا شخص جو بوڑھوں تک پر جنسی تشدد میں ملوث رہا ہے-مگر یہ کابل انتظامیہ کی غیرسنجیدگی اور قوم وملت سے بے اعتنائی بلکہ شدید جفا ہے کہ ایک تو سودا کے نتیجہ میں اس خونخوار شخص کو فیلڈ مارشل کا عہدہ دیا گیا-جس سے قوم وملت کی تمناؤوں کا خون کیاگیا-پھر عین مذاکرات کے دنوں میں ایسے شریر فطرت شخص سے ایسے بیانات دلوائے جو زخمی دلوں پر نشتر کا کام کرتے ہیں-یہ دو رخا پالیسی درحقیقت کابل انتظامیہ کی کارگردگی پر سوالیہ نشان ہے-کابل انتظامیہ ایک طرف مذاکرات میں کامیابی کے لیے جنگ بندی پر زور دے رہی ہے-مسلسل یہ دہائی دے رہی ہے کہ بہر صورت سیز فائر ہو اور اس سے بڑھ کر وہ الزام پر اتر آتی ہے اور طالبان کو تشدد کا ملزم ٹھراتی ہے-پھر کبھی عالمی فورم پر مطالبہ کرتی ہے کہ طالبان پر دباو ڈالا جائے اور تشدد ختم کرنے پر کاربند کیا جائے-پھر اپنی کارستانیوں اور تشدد کے واقعات کو میڈیا اور دیگر آلات کے زور پر طالبان سے نتھی کرتی ہے-جبکہ دوسری طرف حالت یہ ہے کہ قوم وملت کا ایک خونخوار چہرہ،ظلم وستم میں ریکارڈ یافتہ اور معصوموں کے خون سے آلودہ شخص رشیددوستم کو کھلی چھوٹ دیتی ہے کہ جو جی میں آئے کرتے رہے اور کہتے رہے-اگر چہ اس سے قوم کی امنگیں ماند پڑتی ہو-مایوسیاں جنم لینے کا خطرہ ہو اور خون خرابہ کی شدت کا خدشہ یو-
مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ رشید دوستم اپنی اس جارحانہ باتوں سے کچھ کرےپائے گا-اس کی تو ساری زندگی غلامی کے سایہ تلے گزری ہے اور جو کچھ کیا بھی یے تو اپنے آقاؤوں کی نوازش تھی-اب جبکہ آقاؤوں کا سایہ بھی چھٹ گیا ہے اور خود آقا راہ فرار کو ترجیح دے رہے ہیں تو غلام کیسے ڈٹ سکیں گے؟ البتہ یہ نمائشی باتیں ان کا وطیرہ ہے جن کا انہیں ہی انجام بھگتنا پڑے گا-ان شاءاللہ.

Related posts