مارچ 07, 2021

ظالموں کا انجام

ظالموں کا انجام

تحریر:ابومحمدالفاتح

امریکا اور امارتِ اسلامیہ کے درمیان تاریخی معاہدہ ہونے کے بعد کابل انتظامیہ کی تاج وتخت ڈگمگانے سے انہوں نے ایک نیا پروپیگنڈا شروع کردیا-یہ پروپیگنڈا دراصل اپنے کالے کرتوت اور اندر سے اپنی قوم کے ساتھ چھپی دشمنی کے انتقام کو چھپانے کی بنیاد پر تھا-چونکہ انتظامیہ کا وطیرہ رہا ہے کہ اپنی قوم اور ملت سے دشمنی میں ہمیشہ پیش پیش رہی ہے اور کسی جگہ موقع نہیں گنوایا ہے -اس لیے معاہدہ کی ٹھنڈی فضاء میں موقع بموقع کارروائیاں کرتی رہی-پھر اپنی کارروائیوں کو طالبان سے نتھی کرتی رہی-بایں حیثیت کہ کسی جگہ اپنی فوج نما بھیڑیئے اتارتی اور وہاں اتارنے کی وجہ یہ بتاتی کہ دہشت گردوں کی پیش قدمی روکنے کے لیے ہم نے کارروائی کرنی ہے-
چنانچہ اس بنیاد پر انتظامیہ مسلسل جگہ جگہ اپنی وحشتوں کی کارستانیاں بپا کرتی رہی-گھر اجھاڑنے سے لے کر بے گناہ اور معصوم جانوں کو بے دردی سے لینے کے درپے ہوجاتی تھی-بچوں کو خون میں لت پت کردیتی تھی-خواتیں کی عزت وناموس چاک کرنے کے ساتھ انہیں زندہ درگور کرنے سے دریغ نہیں کرتی تھی-
یہ سلسلہ جب مزید تیز ہوا اور کابل انتظامیہ اپنے اس کالے کرتوت کو چھپانے کے لیے بے معنی پروپیگنڈے کا سہارا لیتی نظر آئی تو امارتِ اسلامیہ نے زبانی اور تحریری ردعمل کے ساتھ کچھ عملی اقدام بھی مناسب سمجھا اور ہمیشہ کی طرح قوم کی عزت اور جان وایمان کی دفاع کے لیے کچھ حرکت مناسب سمجھی-چنانچہ اسی بنیاد پر زمینی سطح پر کابل انتظامیہ کی ہر پیش قدمی کو ایمانی قوت سے روکے رکھا-کابل انتظامیہ جب یہاں پسپا ہوئی تو وحشت کا ایک اور انداز اپناتے ہوئے اپنی وہ تیار کردہ ظالم کمانڈو (جسے انہوں نے سخت ترین ظلم ووحشت کی بنیاد پر سپیشل فورس کا ایوارڈ دے رکھا ہے)کی مدد سے فضائی حملے کرکے زمین پر ہوا سے اترنے اور پھر وہاں ظلم کا جھنڈا گاڑنے کا سلسلہ شروع کیا-جس سے قوم وملت کو شدید اور گہرے زخم لگے-اور ہر طرف غم وغصہ اور کربناک کیفیت پیدا ہوگئی- صرف قندہار کے ضلع ارغنداب کے اندر بیس سے زائد بے گناہ افراد کو بے دردی سے بمباری کا نشانہ بناکر شہید کردیا-
اس پر امارتِ اسلامیہ نے بھی اپنی قوم کے ساتھ اس بدترین وحشت کا انتقام لینے کا عزم کیا اور 16 جنوری کو قندہار کے اندر اس وحشی کمانڈو کے مرکز پر حملہ کردیا اور اپنے تین شیردل،بہادر،جوانمرد،باوفا اور ملک وملت کے غیور فرزندان کو بھیج کر ان سے نمٹنے کا فیصلہ کرلیا-یہ تین جانباز اور سرفروش دشمن کے مرکز میں گھس کر قوم کے ان قاتلوں کو سزائے عبرت دی-اور ثابت کردیا کہ یہ قوم بے سہارا ہے اور نہ ہی کسی پروپیگنڈے سے متاثر ہوکر قوم کے یہ غیور بیٹے دفاع سے پیچھے ہٹیں گے-اور اس کے ساتھ ہی قوم کے ہر فرد کاسینہ ٹھنڈا ہوگیا اور اپنے قاتلین کو یہ رسوا و ذلیل دیکھ کر کلیجے ٹھنڈے کرتے رہے-

Related posts