مارچ 07, 2021

شک خود کو ہے یا ایجاد کرنا ہے

شک خود کو ہے یا ایجاد کرنا ہے

تحریر:سیدافغان

13 جنوری کو کابل انتظامیہ کا سربراہ کابل کے اندر ایک تقریب میں خطاب کرتے ہوئے اپنے اقتدار کی اہمیت اور بزعم خویش آئندہ آنے والے خطرات سے مخاطبین کو آگاہ کررہاتھا-خطاب کا زیادہ حصہ اپنے قتدار کی اہمیت جتلانے پر مشتمل تھا-بیچ میں ایک جگہ موصوف نے ایک بڑا دعوی کردیا بلکہ اگر یوں کہا جائے کہ خلجان پیدا کرنے اور افغان عوام کو ایک دفعہ پھر بہکانے اور ورغلانے کی کوشش کی تو بے جا نہیں ہوگا-
موصوف کا کہنا تھا کہ دوحا معاہدہ پر مجھے کئی تحفظات ہیں اور اس معاہدے پر مجھے بہت سارے شکوک اور شبہات ہیں-میں نے زلمے خلیل زاد سے(جو امریکی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ اور امریکی وزارتِ خارجہ کے خصوصی ایلچی ہے)کئی دفعہ کہا ہے کہ وضاحت کرے مگر وہ مسلسل ٹالتے رہے-
موصوف کا مقصد ان باتوں سے اس کے علاوہ اور کیا ہوسکتا ہے کہ قوم میں انتشار اور افتراق پیدا کرکے اس عظیم الشان معاہدے سے بداعتمادی کی فضاء پیدا کردے جو تاریخ میں مسلمانوں اور افغانوں کے نام فخریہ کارنامہ کی حیثیت سے رقم ہوچکا ہے-اس کی وجہ یہ ہے کہ جس وقت طالبان اور امریکا کے درمیان مذاکرات چل رہے تھے تو خود کابل انتظامیہ کے سب ترجمان اور دیگر بلند رتبہ عہدیداران کہہ رہے تھے کہ زلمے خلیل زاد ہر پل کی خبر ہمیں بتارہاہے اور مذاکرات کی مجلس میں چلنے والی گفتگو ہم سے شئیر کرتا ہے-
خود اشرف غنی بھی بار بار یہی کہتا رہا بلکہ قوم کو بھی اطمینان دیتا رہا کہ مجھ سے چھپ کر کچھ نہیں ہورہا -جو کچھ دوحا میں امارتِ اسلامیہ اور امریکا کے درمیان ہورہاہے اس کا ایجنڈا،وہاں چلنے والی گفت وشنید اور کیے گئے فیصلوں کی کاپیاں باقاعدہ ہمیں ارسال کی جارہی ہیں-
پھر اس پر مزید یہ کہ اشرف غنی ہی کا دباو کہہ لے یا درخواست تھی کہ امریکی جہت مسلسل جنگ بندی کا مطالبہ کرتی رہی اور اس کو مضوعِ سخن بنانے کا اصرار کرتی رہی-بلکہ جا بجا وہ یہ بھی خواہش ظاہر کرتی رہی کہ کسی نہ کسی سیشن پر کابل انتظامیہ کو بھی کچھ نہ کچھ نمائندگی دی جائے-
پھر جب معاہدہ ہونے کو تھا اور اس پر دستخط ہونے کو کچھ دیر ہی باقی تھی تب بھی بقول کابل انتظامیہ کے ترجمانوں کے پورا کا پورا مسودہ ان کے سامنے پیش کیا گیا تھا اور ایک ایک بات پر بریف دینے کے لیے بذاتِ خود زلمے خلیل زاد وہاں پہنچ گیا تھا –
معاہدہ دستخط ہونے کے بعد تو پھر ابہام کے لیے کوئی جگہ نہ رہی-جو کچھ دستخط ہواتھا اس کا تو حرف حرف دنیا کے سامنے آگیا-اشرف غنی کیا ایک معمولی درجہ کا خواندہ آدمی بھی اس کے پڑھنے اور سمجھنے پر قدرت رکھتاہے اور معاہدے کا ایک ایک جز دیکھ سکتا ہے-
معاہدہ کے اندر جو شقیں تھیں اس پر خود اشرف غنی سے عمل کروایا گیا-پانچ ہزار قیدیوں کی رہائی نہ چاہتے ہوئے بھی ان سے کرائی گئی-بین الافغان مذاکرات کے لیے ان سے ٹیم بنوائی گئی-پھر اس ٹیم نے اسی دوحامعاہدہ کے تحت بارہ ستمبر 2020 کو بین الافغان مذاکرات کے لیے باقاعدہ انٹری کی-پھر دو مہینے کی طویل گفت وشنید میں باقاعدہ مذاکرات شروع کرنے کےلیے خود اشرف غنی اور دیگر افغان سیاسی جماعتوں کی نمائندہ ٹیم کے اتفاق سے اصول یہ طے پایا کہ بین الافغان مذاکرات اسی دوحا معاہدہ کے تحت رہیں گے-
یہ معاہدہ اب ایک بین الاقوامی معاہدہ کی شکل اختیار کرچکا ہے-اقوامِ متحدہ کے پلیٹ فارم سے یہ منظور ہوچکا ہے-دنیا کے اکثر وبیشتر ممالک نے اس کی توثیق کی ہے-دنیا بھر میں افراد،جماعات اور ملکوں کی سطح پر اس کی تحسین وتائید ہوچکی ہے-مسلم وغیر مسلم برادری اس کی جلد عملدرآمد کے لیے چشم براہ ہے-افغان قوم اسی کی راہ تک رہی ہے-خود معاہدے کی نصف سے زیادہ شقیں کارآمد ہوکر عمل کے لباس سے آراستہ ہوچکی ہیں-معاہدہ کو اب ایک سال کا کثیر عرصہ ہونے کو ہے-ایسے میں اشرف غنی کی یہ بے تکی بات بلا شبہ بے اعتمادی اور بداعتمادی کے لیے ہے-
مگر یہ بھی اپنی جگہ حقیقت ہے کہ بد اعتمادی تو معاہدہ پر نہیں البتہ خود اشرف غنی پر اور اس کی اقتدار کے لیے رسہ کشی پر ضرور پیداہوئی ہے اور اس میں اضافہ ہوتا رہے گا-اور قوم اس مسلط کردہ غلام کی حقیقت خود اسی کی زبانی سنے گی-

Related posts