مارچ 07, 2021

تم کس نظریہ کی بات کرتے ہو؟

تم کس نظریہ کی بات کرتے ہو؟

تحریر:سیدعبدالرزاق

8 جنوری کو کابل انتظامیہ کے سربراہ اشرف غنی نے ایک امریکی چینل (سی این این) کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ میں اقتدار صرف اس شخص کو حوالہ کرسکتاہوں جسے قوم منتخب کرے-اس کے علاوہ میں اقتدار سے کسی صورت ہاتھ دھونے کے لیے تیار نہیں ہوں -ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ افغان قوم اب طالبان کے نظریہ اور فکر سے بیزار ہے اب ان پر طالبان اپنی سوچ کبھی مسلط نہیں کرسکتے-
موصوف اس انٹرویو کے دوران شدید مایوسی کا شکار تھا-لگتا تھا اسے اپنے آقاؤوں سے بے پناہ جفا دکھائی دے رہی ہے-اور گویا اب اسے یقین ہوچلاہے کہ غیروں کاسایہ سر سے جلد ہی اٹھنے والاہے اس لیے آخری کوشش کے طور پر انہیں متوجہ کرنے لیے ہاتھ پاوں مارا جارہاہے-جس کے لیے بے بنیاد الزامات اور پروپیگنڈوں کی بھرمار نظر آرہی ہے-پھر موصوف اسی دوران یہ بھی واضح کرتا ہے کہ اس کے ہاں قوم کی اہمیت ہے اور نہ ہی قوم وملک کے مفادات اور نظریات کی-موصوف کے ہاں روئے زمین پر سب سے زیادہ اہمیت کی حامل چیز صرف اور صرف اقتدار ہے جس کی ہوس اسے پاگل پنے تک پہنچاکر رہ گئی ہے-اس کی شدید بلکہ واحد اور آخری خواہش یہی ہے کہ کسی طرح اس کا اقتدار قائم اور دائم رہے اگر چہ اس کے بدلہ میں قوم کا بچہ بچہ خون میں لت پت رہے-اگر چہ اس کے لیے ملک کا چپہ چپہ لٹتارہے-اگر چہ انسانیت دم توڑتی رہے-
اب یہاں دیکھا جائے تو بڑی عجیب کیفیت سامنے آجاتی ہے-ایک طرف موصوف یہ کہتا ہے کہ اقتدار صرف اسے حوالہ کیا جائےگا جس کو قوم منتخب کرے-جبکہ خود موصوف کی حالت یہ ہے کہ قوم کی ادنی نمائندگی بھی اسے حاصل نہیں ہے-خود انہیں کی اعداد وشمار کے مطابق چالیس ملین کی آبادی میں سے زور زبردستی،دھونس دھمکی اور ہرطرح کے حربے آزمانے کے بعد دوملین حق رائے دہی کا استعمال ہوچکا ہے-جن میں موصوف عالمی بدترین دھاندلی کے باوجود ایک ملین ووٹ بھی نہیں ملے ہیں -ایسے میں موصوف کس منہ سے قوم کے انتخاب کا لفظ زبان پر لاتا ہے؟
پھر موصوف طالبان کے نظریات اور ان کے دور کے حالات کو تنقید کا نشانہ بناتا ہے اور کہتا ہے کہ قوم اسے برداشت نہیں کرے گی-اب خداجانے موصوف کن نظریات کی بات کرتا ہے؟ کیا موصوف اس آزادی کو ہدف تنقید بنارہاہے جو طالبان کی بدولت پہلے بھی ہر افغانی شہری کو ملی تھی اور اب بھی ان کے جہاد اور انتھک محنت اور بے پناہ قربانیوں کی وجہ سے قوم کو ملی ہے اور سینہ تان کر چلتی ہے؟یاپھر اپنے اس کارنامے کی داد وصول کرنا چاہتا ہے جس کی بدولت قوم پر خدا کی وسیع زمین تنگ ہوکر دنیا میں قیامت کا سماں بندھ گیا؟اور جس کی بدولت باعفت خواتین کو بے پردہ کیا گیا؟ اور جس کی برکت سے مملکتِ افغانستان کا گوشہ گوشہ لہو لہان ہوگیا؟ اور جس کی بنیاد پر دین اور ایمان کی بنیادیں ہل گئیں؟اور جس کے پاداش میں یہ غیور قوم غیروں کی غلامی پر مجبور ہوگئی؟
کیا موصوف طالبان کے اس قائم کردہ امن کو غلط قرار دے رہاہے جس کے ہوتے ہوئے ھلمند سے قندوز اور ننگرہار سے بلخ کے سنگلاخ وادیوں میں ایک آدمی تنہا سفر کرتا اور کسی ماں نے ایسا بیٹا جنا نہیں تھا جو اس مسافر کو ٹیڑھی آنکھ سے دیکھتا -یا پھر اپنی پیدا کردہ اس بدامنی کو متعارف کرانا چاہتا ہے جس میں کابل یعنی دارالحکومت کے اندر سرکاری عمارات سے چند میٹر کے فاصلہ پر دن دہاڑے سربازار لوگوں کی جانوں اور مالوں کا ستیاناس کیا جاتا ہے اور اس کا کوئی پرسانِ حال نہیں ہوتا؟
کیا موصوف طالبان کی اس ہمدردانہ پالیسی سے نالاں ہے جس کی بنیاد پر افغانستان کی ہرخاتون اپنا حق وصول کرنے کے لیے کسی دباو سے گھبرانے کا سوچ بھی نہیں سکتی تھی-یا پھر اپنے دور کی ان کارستانیوں کاخراج تحسین وصول کرنا چاہتا ہے جن کی رو سے وطنِ عزیز کی باآبرو خواتین اپنے حقوق کی وصول یابی کے لیے عصمت فروشی تک کی محتاج بن گئیں؟
پتہ نہیں موصوف کن نظریات کی بات کرتا ہے؟ اس داستان کو اگر ہم شروع کریں تو موصوف اس کوچہ سے بڑا بے آبرو ہوکر نکلے گا-مگر موصوف کی مجبوری یہ ہے کہ غلامی کا حق کس طرح اداء کرسکے؟ اسی لیے تو وہ بہکاوے دیتے ہیں مگر یہ بہکاوے اب سراب ہی ہونگے ان شاءاللہ-

Related posts