جنوری 20, 2021

سکاٹ میلر وزیر دفاع کے کردار میں

سکاٹ میلر وزیر دفاع کے کردار میں

ہفتہ وار تبصر

پیر کےروز( 11 جنوری 2021ء ) صوبہ بلخ میں 209 ویں شاہین کور کےمرکز میں کور کمانڈر کے تبادلے کی تقریب منعقد ہوئی۔خودمختار ممالک اور سالم حکومتوں میں عام طور پر اس طرح تقریبات میں وزیر دفاع، چیف آف آرمی اسٹاف یا قومی سلامتی کونسل کے سربراہ کے مانند اعلی فوجی حکام شرکت کرتے ہیں۔ مگر مزار شریف میں اس تقریب کے سب سے اعلی مہمان امریکی افواج کے کمانڈر جنرل سکاٹ میلر تھے۔

امریکی جنرل سکاٹ میلر کی جانب سے  افغانستان میں اس طرح اہم تقاریت کا انعقاد کرنے سے ظاہر ہورہا ہے کہ کابل انتظامیہ کی وہ بات بےبنیاد ہے،جو پروپیگنڈے کے طور پر امریکی اثر ورسوخ سےاپنی خودمختاری  کے نجات کا دعوہ کررہا ہے اور پھر اسی بنیاد پر جارحیت کے خلاف شروع ہونے والے جہاد اور عوامی جدوجہد  کے جواز پر  انتقاد کررہا ہے۔

جب غاصبوں کا جنرل وزیر دفاع کا کردار نبھاتے ہوئے  اعلی فوجی حکام کی برطرفی اور نصب وتعیناتی کی سطح پر  اقدامات اٹھا رہا ہے، اس کا مطلب یہ ہےکہ اشرف غنی انتظامیہ جس طرح رسد اور فنڈنگ کی حد تک غیرملکی گروہوں سے وابستہ ہے،اسی طرح اس کے اہم سیکورٹی اور فوجی  اقدامات  کو انجام دینا بھی غاصب افواج کے کنٹرول میں ہے  اور استعمارکی مرضی ہے، جو چاہے اسے انجام دیتا ہے۔

اس بارے میں اہم ترین بات یہ ہے کہ امریکی فریق ،چندغیرملکی اور ملکی گروہ ہمیشہ امارت اسلامیہ پر انتقاد کر رہا ہے کہ دوحہ معاہدے کے بعد فوجی کاروائیوں میں کمی نہیں لائی گئی ہے۔ حالانکہ دوحہ معاہدہ میں امارت اسلامیہ نے  ایسے وعدے کا اظہار نہیں کیا ہے۔مگر بذات خود امریکی فریق  جارحیت کے خاتمہ کے سلسلے میں افواج کی تعداد  میں کمی کے مانند اپنی فوجی کاروائیوں، فضائی حملوں اور سکاٹ میلر کے ناجائز اقدامات کی طرح جارحانہ اعمال کا خاتمہ کرتے ، اب تک ماضی کی طرح سرگرم عمل ہے، ایسے اعمال ہمارے مایہ ناز ملک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی توہین سمجھے جاسکتے ہیں۔

امارت اسلامیہ ایک بار پھر اپنے اس مؤقف کا اعلان کررہا ہے ،  افغان مسئلہ کی اصل وجہ بیرونی جارحیت ہے۔ اس ضمن میں استعمار اور اس کے حامیوں کی ذمہ داری ہے کہ جارحیت کے اختتام کی راہ میں اپنی ذمہ داری پوری کریں۔

امارت اسلامیہ ہموطنوں اور امن پسند قوم سے مطالبہ کرتی ہے کہ پروپیگنڈے کی بجائے موجودہ صورتحال اور واضح حقائق کو مدنظر رکھیں۔ خودمختاری کا دعوہ کرنیوالی کابل انتظامیہ کے پروپیگنڈوں کی بجائے حقائق کو دیکھا جائیں، جب  غاصبوں کا جنرل اعلی، کور کمانڈروں کی سطح تک اعلی فوجی حکام کی برطرفی اور نصب و تعیناتی کے اقدامات  انجام دیتے ہیں،اس کا مطلب یہ ہے کہ ماضی کے مانند حالت میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ اب تک وہی جارحیت اور وہی استعمار ہے۔ تمام سول اور فوجی امور استعمار کے کنٹرول میں ہے اور یہاں کابل انتظامیہ کے حکام اعتراف کررہا ہے کہ ہم امریکہ کی حفاظت کی خاطر فرنٹ لائن میں کھڑے ہیں۔

Related posts