جنوری 20, 2021

بین الافغان مذاکرات کے شروع ہونے والے دوسرے مرحلہ کے بارے میں ترجمان کا انٹرویو

بین الافغان مذاکرات کے شروع ہونے والے دوسرے مرحلہ کے بارے میں ترجمان کا انٹرویو

ترجمہ:سیدعبدالرزاق

بین الافغان مذاکرات میں بیس روزہ وقفہ کے بعد یہ سلسلہ 6 جنورى کو ایک دفعہ پھر شروع ہوا-اس مرحلہ کا سابقہ دور سے کیافرق ہے؟ اس میں کیاطے کیاجانا ہے؟ یہ اور دیگر امور کے بارے میں امارتِ اسلامیہ کے ترجمان جناب ذبیح اللہ مجاہد صاحب نے 7 جنوری کو ایک انٹرویو میں تفصیلات سے آگاہ کیا ہے-اہمیت کے پیش نظر چند باتیں پیش خدمت ہیں:

بسم اللہ الرحمان الرحیم،حامدا ومصلیا:
جس طرح یہ بات میڈیا میں سب کے سامنے آگئی کہ بین الافغان مذاکرات کاسلسلہ ایک دفعہ پھر شروع ہوا اور چھ جنوری کو دونوں ٹیموں کے درمیان ایک مقدماتی نشست منعقد ہوئی-اس نشست میں دونوں ٹیموں ایک کمیٹی تشکیل دی ہے جس کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ قابلِ بحث موضوعات کو لے کر ان میں کس کو کس نمبر پر رکھنا ہے اور کس کو پہلے زیرغور لانا ہے اور کس کو بعد میں؟ کی ترتیب بنائے گی اور اس طرح سے ایک متفقہ ایجنڈا بنائے گی-اس وقت کمیٹی مصروفِ عمل ہے -کام ختم نہیں ہوا ہے البتہ امید ہے کہ آج یاکل یہ بھی مکمل ہوجائےگا-

اس دفعہ مذاکرات کا جو مرحلہ ہے وہ گزشتہ مرحلہ سے کافی مختلف ہے-گزشتہ دفعہ صرف مذاکرات کے لیے اصول وضوابط طے کرنے تھے جو کیے گئے جن کی وجہ سے مذاکرات میں کافی آسانی ہوگی-مگر اس دفعہ تو اصل موضوعات زیر بحث لائے جائیں گے اور انہیں پر گفتگو ہوگی-

ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ اس دفعہ مذاکرات میں کوئی مشکل اور پیچیدگی درپیش نہیں ہوگی-جب اصول وضوابط اور تمہیدی امور تک میں اختلاف، مشکلات اور پیچیدگیاں آسکتی تھیں تو اس وقت جو اصل مسائل زیربحث ہیں ان چیزوں کا سامنا تو ضرور ہوگا-البتہ ضروری اور مفید یہ ہے کہ مذاکرات بدستور جاری رہیں-کیونکہ اس سے روزانہ کوئی نہ کوئی عقدہ کھلتا رہے گا-روزانہ کچھ نہ کچھ ترقی ہوتی رہے گی-اور مذاکرات کا جاری رہنا خود جانبین کے درمیان اعتماد پیدا کرنے میں ممد رہتا ہے-اس لیے امید کی جاسکتی ہے کہ تمام پیچیدگیوں کے ساتھ پیش رفت ہوگی-

ہمارے لیے تمام مسائل مقصودی اور اولین حیثیت رکھتے ہیں -البتہ پھر بھی اولویت اور اولیت ان مسائل کو ہونا چاہیے جن کے لیے افغان ملت نے قربانیاں دی ہے اور جو ان کے لیے اساس اور بنیاد بلکہ ملی اور اسلامی اقدار کی حیثیت رکھتے ہیں-

بلاشبہ جنگ بندی ایجنڈا کے موضوعات میں سے ہے-لیکن جنگ بندی اسی صورت ممکن ہے جب دو طرفہ اعتماد موجود ہو اور ہمیں یقین ہوجائے کہ جو اہداف اور مقاصد ہم نے جنگ اور جہاد کے ذریعہ حاصل کرنے ہیں وہ ہمیں جنگ کے بغیر بھی حاصل ہونگے-ہمیں یہ بھی احساس ہے کہ جنگ بندی کافائدہ ہمیں بھی ہے اور جنگ کا سب سے زیادہ نقصان بھی ہم ہی کو پہنچتاہے؛کیونکہ ہم ہی جنگ کی پہلی قربانی ہواکرتے ہیں -بلکہ جنگ کی وجہ سے ہم جن مشکلات سے دوچار ہوتے ہیں اس کا جانب مقابل کبھی شکار نہیں ہواہے-اس لیے ہم جنگ بندی چاہتے ہیں مگر اس وقت جب اعتماد بحال ہوجائے-

مذاکرات ہم نے شروع ہی اسی لیے کیے ہیں تاکہ نتیجہ خیز ثابت ہو-اس لیے اگر دونوں فریق اخلاص اور سچائی کے ساتھ اس سلسلہ کو آگے بڑھائے تو نتیجہ سامنے بھی آسکتا ہے مگر اگر جانب مقابل اپنے معمول کے مطابق رکاوٹیں ڈالتی رہے اور وقت ضائع کرنے پر تلی رہے تو پھر ہم بھی مجبور ہونگے کہ مذاکرات کی بجائے متبادل راستہ اختیار کرے-

یہ اصول پوری دنیا میں رائج ہے اور سب واقف ہے کہ اگر مذاکرات بے نتیجہ ہو اور باتوں اور گفت وشنید سے مسائل حل نہ ہو تو طبعی بات ہے کہ پھر زورآزمائی ہوگی اور جنگ کے آپشن کو آزمایا جاتاہے-گزشتہ دوعشروں سے ہم امریکا سے اسی لیے برسرِ پیکار تھے کہ وہ ہمارے ساتھ مذاکرات کے لیے آمادہ نہیں تھا-اور جب آمادہ ہوا تو جنگ میں بھی کمی آئی-اسی طرح اگر بین الافغان مذاکرات میں مسائل گفت وشنید سے حل نہ ہو پھر بہرحال متبادل آپشن استعمال کیا جائے گا-

ہم نے ہمیشہ کوشش کی ہے کہ ہماری کارروائیوں میں کسی عام باشندے کو، اس کے املاک کو نقصان نہ پہنچے اور یہ کوشش اب بھی جاری ہے-میڈیا اگر سچائی کے ساتھ غیرجانبداری سے تحقیقات کرلے بلکہ وہ حقیقی اور مثبت رپورٹنگ کرلے تو سب پر عیاں ہوجائے گا کہ ہماری کارروائیوں میں انتہائی کم نقصان پہنچاہے اور جہاں پہنچابھی ہے تو بالکل غیرارادی اور غیر قصدی طور پر پہنچا ہے-اور جانبِ مقابل کا وطیرہ یہ رہاہے کہ ملکی باشندوں کو وہ ہمیشہ نشانہ بناتے ہیں-گھروں پہ چھاپے مارت ہیں-بمباری کرتے ہیں اور بلاوجہ انہیں تنگ کرتے ہیں-ہم اپنی طرف سے یہ یقین دہانی کراتے ہیں کہ عوام کے نقصان کاسد باب ہمارے ہاں ایک مسلم شرعی فریضہ ہے جس کی ذمہ داری ہم پر عائد ہوتی ہے-اور اسی لیے ہمیں اعلی قیادت کی طرف سے یہی ہدایت اور احتیاط کا حکم ملتاہے جس کا جانبِ مقابل میں فقدان ہے-

مذاکرات کے رواں مرحلہ میں ایسے مسائل ضرور موجود ہیں جنھیں گھمبیر کہا جاسکتا ہے جیسے نظام کی نوعیت کا مسئلہ،نظام کے دائرہ کار کا مسئلہ،نظام کے دوام اور بقاء کا مسئلہ-مگر جب مذاکرات مسلسل جاری ہونگے تو انہیں گھمبیر نہیں کہاجائےگا؛کیونکہ آخر ہم سب افغانیت میں متحد ہیں-افغانستان ہم سب کا مشترک گھر ہے-اس کے مفادات ہم سب کے مشترک مفادات ہیں-البتہ اسلامی اہداف اور اقدار کے لیے بھی اشتراک کا ہونا ضروری ہے جو اس وقت نہیں ہے-ہم نے اسلام کے لیے عظیم قربانیاں دی ہیں-ہمارے بلند اسلامی اہداف ہیں جبکہ جانبِ مقابل اسلامی اقدار اور اہداف کی کوئی اتنی اہمیت ہے اور نہ ہی اس کےلیے وہ اتنے سنجیدہ ہیں جتنے عام افغان قوم اسے اہمیت اور سنجیدگی کا حامل سمجھتی ہے-

ہماری کوشش یہ رہے گی کہ جتنا جلدی ممکن ہو یہ مرحلہ بھی سرکرلیا جائے؛کیونکہ جس طرح میں نے پہلے عرض کیا کہ جنگ کی سب سے پہلی قربانی ہم ہی ہیں-ہمیں ہی زیادہ مشکلات کاسامنا کرنا پڑتا ہے-مگر یہ راستہ یک طرفہ ہے ہی نہیں-اس میں دوطرفہ سنجیدگی کی ضرورت ہے -تو اگر جانبِ مقابل خواہ مخواہ کی باتوں میں وقت ضائع کرتا رہے اور رخنے ڈالتارہے پھر تو لازمی بات ہے کہ وقت لگے گا-

ہم نے کبھی اس وجہ سے مذاکرات میں تاخیر اور تعطیل نہیں لائی ہے کہ امریکا جلدی انخلاء کرلے -کیونکہ امریکا کے ساتھ ہم نے ایک وقت متعین کردیا ہے جس کی پاسداری اسے لازم ہے چاہے بین الافغان مذاکرات وقت پر ہو یاتاخیر کے شکار ہو-اور اس کے لیے باقاعدہ دوحامعاہدہ کی تحریری شکل موجود ہے-البتہ جانبِ مقابل نے ہمیشہ ہرکام کو امرکا سے نتھی کرنے کی کوشش کی ہے-کبھی امریکی انتخابات کی راہ تکتے رہے تو کبھی اپنے ڈھونگ انتخابات کے بہانے مذاکراتی عمل کو ٹالتے رہے-

ہم نے امریکا کے ساتھ جو معاہدہ کیا ہے خود امریکا اعتراف کررہاہے کہ امارتِ اسلامیہ کی طرف سے کوئی خلاف ورزی نہیں ہوئی ہے-جبکہ امریکا کی طرف سے متعدد دفعہ خلاف ورزی ہوئی ہے -ابھی حالیہ دنوں میں متعدد صوبوں میں بے جا بمباری کی ہے-ہمارا ان سے مستقل رابطہ ہے جس پر ہم نے انہیں سخت تنبیہ کی ہے اور ردعمل کا اعلان بھی کیا ہے-

جو ٹارگٹ کلنگ جاری ہے اس کے بارے میں یہ وضاحت ضروری ہیں کہ ایک وہ افراد ہیں جو ہمارے خلاف برسرِ پیکار ہیں تو ان کو مارنا بے شک ہمارا مقصد اور ہماراہی منصوبہ ہے-کیونکہ یہ وہی لوگ ہیں جن کے ہاتھوں میں اب بھی ہمارے خلاف ہتھیارہیں اور وہ ہمارے خلاف مسلسل آپریشن کرتے ہیں -ہم پر بمباری کرتے ہیں اس لیے انہیں مارتے ہیں اور مارتے رہیں گے –
دوسرے وہ افراد ہیں جو عام سیاسی شخصیات ہو علمائے کرام ہو یاصحافی ہو تو ان کے قتل کی ہم سخت مذمت کرتے ہیں اور ان کی ٹارگٹ کلنگ ہم سے جوڑنا محض ہمارے خلاف پروپیگنڈا ہے جس کاسہارا دشمن ہروقت لیتا ہے-

کابل انتظامیہ کی عادت رہی ہے کہ جب بھی انہیں اپنے مقاصد کے حصول میں ناکامی اور شرمساری کاسامنا ہو تو وہ ہروپیگنڈا کاسہارا لے کر ایک نئی بحث چھیڑدیتی ہے تاکہ اس موضوع سے لوگوں کی توجہ ہٹ جائے-اسی لیے وہ رہائی پانے والے ہانچ ہزار قیدیوں کے خلاف ہرزہ سرائی کرتی ہے اور پھر ان کو نشانہ بناتی ہے تاکہ انہیں ابھارا جاسکے مگر ایک تو وہ سالوں بھر جیل میں رہے ہیں اور جیل کے ان گنت اور بے تحاشا مظالم سے وہ مختلف بیماریوں میں مبتلا ہیں جن کے علاج میں وہ مصروف ہیں-پھر ہم نے خود انہیں اپنے علاج اور تندرستی صحت ہر مامور کیا ہے اور ہر طرح کی کارروائی میں شرکت سے منع کیا ہے-

Related posts