جنوری 20, 2021

افغان عوام کو اشرف غنی کے اقتدار کی بقا سے امن زیادہ اہم ہے

افغان عوام کو اشرف غنی کے اقتدار کی بقا سے امن زیادہ اہم ہے

آج کی بات

بین الافغان مذاکرات کا دوسرا دور آئندہ چند روز میں قطر کے دوحہ میں شروع ہوگا۔ ایک ایسے وقت میں کہ افغان عوام ان مذاکرات کے نتائج کا شدت سے انتظار کر رہے ہیں اور مستقبل میں پر امن زندگی ان مذاکرات پر منحصر ہے، دوسری طرف ایوان صدر کے اعلی حکام ایسے بیانات دے رہے ہیں جو امن اور مفاہمت کی روح کے مخالف ہیں۔
اشرف غنی اور ان کی ٹیم کے اہم رہنماوں نے صوبہ ننگرہار کے دورے کے دوران اپنے اقتدار کو دوام دینے پر زور دیا اور قیام امن کے اس امکان کو مسترد کردیا جس سے ان کے اقتدار کا سورج غروب ہوگا۔
اس سے پہلے جب بھی ایوان صدر کے اعلی حکام نے مذاکرات کے عمل میں رکاوٹیں کھڑی کرتی تھیں تو اس کی وجہ یہ بتائی جاتی کہ وہ مذاکرات کے عمل میں تاخیری حربے اس لئے استعمال کرتے ہیں تاکہ وہ ان حربوں کے ذریعے اپنے اقتدار کو برقرار رکھ کر اپنی مدت پوری کریں۔
دوسری طرف افغان عوام کا موقف ہے کہ اشرف غنی کی حکمرانی سے زیادہ امن افغانستان اور قوم کے لئے اہم اور ضروری ہے۔ اشرف غنی کے اقتدار نے افغانستان کو غربت ، بدحالی ، ہلاکتوں ، بدنامی اور مسائل کے سوا کچھ نہیں دیا۔ ان کے دور اقتدار میں ملک کے مختلف حصوں میں بمباری ، چھاپے اور سفاکانہ آپریشن کیے گئے۔ متعدد گھروں ، بازاروں ، مقدس مقامات اور عوامی افادیت کے حامل مقامات کو تباہ کردیا گیا اور ہزاروں شہری شہید اور زخمی ہوئے۔
افغان عوام نہیں چاہتے کہ اس ناجائز حکومت کا تسلسل برقرار رہے۔ افغانستان اس سے بہت اونچا اور معزز ہے کہ جس پر اس طرح کی بے بنیاد اور مغرب زدہ گروپ اس پر حکومت کرے۔ اس کے برعکس افغان عوام کو امن کی اشد ضرورت ہے۔ اس قوم نے کئی دہائیاں بدامنی اور جنگ میں گزاری ہیں۔ انہوں نے ملک کی آزادی اور پرامن اسلامی نظام کے لئے بڑی قربانیاں دی ہیں، اب وقت آگیا ہے کہ عوام کی مرضی کے مطابق ایک آزاد اور خودمختار نظام قائم کیا جائے۔ ایوان صدر کی جانب سے اقتدار کو طول دینے پر زور دینا مسئلہ کا حل نہیں بلکہ مذاکرات کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش ہوسکتی ہے۔
آخر میں یہ کہنا ضروری ہے کہ یہ ملک کسی فرد ، گروپ یا سیاسی گروہ کی نجی ملکیت نہیں ہے جو حق حکمرانی محفوظ رکھے اور امن کی قیمت پر بھی اقتدار ترک کرنے پر راضی نہ ہو۔ ہم سمجھتے ہیں کہ حقیقی امن اور مسائل کا حل اسی وقت ممکن ہے جب اس ملک کو تمام طبقات کا مشترکہ گھر سمجھا جائے۔ تمام سیاسی جماعتیں ایک ایسے نظام پر اتفاق کریں جو افغانستان کے مسلمان عوام کے عقائد اور مذہبی اقدار سے ہم آہنگ ہو جو ایک صحیح شرعی نظام ہے۔

Related posts