جنوری 20, 2021

سیاسی دفتر کے ترجمان ڈاکٹرمحمدنعیم صاحب کی گفتگو

سیاسی دفتر کے ترجمان ڈاکٹرمحمدنعیم صاحب کی گفتگو

ترجمہ وترتیب:ابومحمدالفاتح

قطر کے دارالحکومت دوحا میں ہونے والے بین الافغان مذاکرات میں وقفہ اور دوسرے مرحلہ کی ابتداء،ایجنڈا اور دیگر خدشات وواقعات کے بارے میں امارتِ اسلامیہ کے سیاسی دفتر کے ترجمان جناب ڈاکٹر معمدنعیم صاحب نے سیرحاصل گفتگو کی ہے،اہمیت کے پیش نظر چند نکات پیش خدمت ہیں:

مقررہ وقت پر مذاکرات کے لیے ہم آمادہ ہیں ہماری طرف سے اس بارے میں کوئی مشکل نہیں ہے-اور ہم امید رکھتے ہیں کہ جانب مقابل کی طرف سے بھی کوئی پس وپیش نہیں ہوگی-

کابل انتظامیہ کے سربراہ کی یہ بات کہ انہوں نے اپنی ٹیم کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ آئندہ مذاکرات کو آئین اور افغانستان کے موجودہ دستور کی بنیاد پر آگے بڑھائے بالکل نامناسب ہے-ہم سمجھتے ہیں کہ طرزالعمل اور اصول پر دونوں جانب سے جو محنت ہوئی ہے اور دونوں ٹیموں نے ان کو مرتب کرنے اور اتفاقِ رائے بنانے میں محنت کی ہے اشرف غنی کی یہ بات ان تکالیف اور محنتوں پر پانی پھیرنے کے مترادف ہے-جب ایک دفعہ اصول مرتب ہوگئے اور اتفاق رائے سامنے آگئی تو اس کے بعد ہدایات جاری کرنا اور نئی بنیادیں مقررکرنا انتہائی نامناسب اور اپنی ٹیم اور اس مذاکراتی سلسلہ کی بے احترامی ہے-

ایجنڈا میں کونسے موضوعات شامل کرنے ہیں اور مذاکرات میں کن موضوعات پر بحث کرنی ہے؟یہ دونوں ٹیموں کے اتفاق سے طے کیا جائےگا-یک طرفہ طور پر اپنی ترجیحات اور خوہشات و فرمائشیں پیش کرنا نہ صرف یہ کہ نامناسب ہے بلکہ جو پیش کرتا ہے اور ان موضوعات کو میڈیا پر لاتا ہے خود اس کی حیثیت پر داغ آجاتا ہے-

اقتدار کسی بھی حیثیت میں ہمارا مسئلہ کبھی رہا نہیں ہے-بنیادی طور پر ہمارے دوبڑے مقاصد ہیں جن سے تمام مسائل حل ہوسکتے ہیں-ایک یہ کہ ملک سے تمام بیرونی قوتوں کا صفایا کیا جائے-دوسرا یہ کہ ملک کے نشیب وفراز میں بسنے والے افراد نے جو قربانیاں دی ہیں اور جس مقصد کے لیے ہرطرح کی تکالیف اور مصائب برداشت کی ہیں ان کی تمناؤوں کو برلانے کے لیے ایک ایسا اسلامی نظام قائم کیا جائے جس میں ان کی تمام قربانیوں کا مقصود حاصل ہوجائے-

ہم اپنی طرف سے قوم کو اطمینان دلاتے ہیں کہ جتناجلدی ہوسکے ہم ممکنہ حد تک مذاکرات کو کم وقت میں نتیجہ تک پہنچانا چاہتے ہیں-مگر ظاہر ہے مشکلات آئیں گے اور پیچیدگیوں کا سامنا ہوگا اس کے لیے ہماری کوشش رہے گی کہ مذاکراتی میز پر ہی حل ہوجائے اور آسانیاں لائی جائیں-

پاکستان کا سفر مذاکرات سے کوئی تعلق نہیں رکھتا-مذاکرات میں وقفہ آنے سے پہلے پاکستان نے ہمیں رسمی طور پر دعوت دی تھی-مگر چونکہ ہم مذاکرات میں مصروف تھے اس لیے اس دعوت کو فی الفور قبول نہ کرسکے-جب وقفہ آیا تو ہم نےموقع سے استفادہ کرتے ہوئے سفر کیا-
عالمی اصول یہ ہے کہ جب کسی ملک کی قیادت کسی دوسرےملک کا سفر کرتی ہے تو اس ملک میں اپنے ملک کے باشندگان سے ملاقاتیں بھی کرتی ہے اور ان کے دکھ دردمیں شرکت کرتی ہے اس لیے اگر امارتِ اسلامیہ کی قیادت نے پاکستان میں کسی سے ملاقات کی ہے تو اس کو اچھالنے کی ضرورت نہیں ہے-

ہمارے خلاف اکثر منفی پروپیگنڈے استعمال کیے جاتے ہیں -ہماری قیادت اور بالخصوص امیرالمؤمنین حفظہ اللہ نے ہمیشہ اپنے پیغامات میں مجاہدین کو تاکید کی ہے کہ عوامی املاک اور وہ جگہیں جو بیت المال میں شامل ہیں ہمیشہ محفوظ رہنی چاہیے-اور جہاں پر کچھ ایسے واقعات پیش آئے ہیں جن میں عوامی املاک یا سرکاری املاک کو نقصان پیش آیا ہو وہاں درحقیقت پروپیگنڈے سے کام لیا گیا ہے-پھر استعمار کی وجہ سے عام لوگوں کا ذھن یہ بنا ہے گویا ہر سرکاری عمارت وغیرہ استعمار ہی کی پیداوار ہے اور اس پر ہاتھ ڈالنا موجبِ ثواب ہے -یہ نظریہ اگرچہ غلط ہے مگر اس شعور کو بیدار کرنے کے لیے استعمار کا خاتمہ ضروری ہے-

Related posts