جنوری 20, 2021

کابل میں طلبہ پر چھاپوں اور حراست میں لینے بابت کمیشن کا اعلامیہ

کابل میں طلبہ پر چھاپوں اور حراست میں لینے  بابت کمیشن کا اعلامیہ

کابل میں طلبہ پر چھاپوں اور حراست میں لینے کے بابت کمیشن برائے تعلیم و تربیہ اور  ہائیرایجوکیشن امارت اسلامیہ کا اعلامیہ

کابل انتظامیہ کے وحشی اینٹلی جنس کارندوں نے کابل میں  مقیم دور افتادہ علاقوں سے آنے والے طالب علموں کے ہاسٹلوں اور کمروں پر چھاپہ مار کر تقریبا دو ہزار سے زائد طلبہ کو حراست میں لے لیا ،جن میں  سے اکثریت تاحال لاپتہ ہے۔

کابل وحشی جیل سے رہا  ہونے والے طلبہ نے کہا کہ جب ہمیں لے جایا گیا، ایک دن  اور ایک رات سردی کے شدید موسم میں ہمیں رکھا گیا اور بعض پر تشدد کیا گیا،دیگران کی مارپیٹ کی گئی،جس سے ان کے نفسیاتی حالت پر منفی اثر  پڑا ہے۔

اسی طرح چند عرصہ قبل کابل میں انگریزی اور کمپیوٹر سیکھنے والے صوبہ میدان ضلع چک کے رہائشی طالب علم رحمت گل ولد سپین گل کو کابل شہر کے کمپنی کے علاقے آب رسانی کے مقام پر شہید کیا گیا۔

نیز چند ر وز پہلے صوبہ لغمان ضلع علینگار میں کٹھ پتلی فوجوں نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ ہائی اسکول کے طالب علموں پر اس حال میں فائرنگ کی،جب وہ امتحان  دینے کے بعد گھروں کو لوٹ رہے تھے، جس کے نتیجے میں دو طالب علم سعیداللہ اور عرفان اللہ شہید جب کہ دو زخمی ہوئے۔

ملک اور علم کے دشمن  عناصر بنا کسی خاص اور واضح ہدف  طلبہ پر تشدد آمیز اور ہلاکت خیز حملے انجام دے رہے  ہیں۔

طلبہ، تعلیمی مراکز، مدارس دینیہ، مساجد اور دیگر عوامی تاسیسات و  تنصیبات پر حملوں کی کمیشن برائے تعلیم و تربیت اور ہائیر ایجوکیشن امارت اسلامیہ افغانستان شدید مذمت کرتی ہے اور اسے کسی صورت میں قابل جواز نہیں سمجھتی،بلکہ  اسےصرف وحشت کے اظہار، خوف پھیلانے اور پروپیگنڈہ کرنے کی غرض سے مذموم اعمال سمجھتے   ہیں  اور اس میں کابل انتظامیہ کے اعلی سطح کے عہدید اروں کو شریک سمجھتے ہیں۔جو نہایت بےشرمی سے نہتے طلبہ پر  تشدد کرتے ہیں۔ کمیشن تمام اعلی علمی اور تعلیمی اداروں سے مطالبہ کرتا ہے کہ کابل انتظامیہ کے اس نوعیت کے وحشتوں کی روک تھام کریں۔

کمیشن برائے تعلیم و تربیہ اور  ہائیرایجوکیشن امارت اسلامیہ

23 جمادی الاولی 1442 ھ ق

18 جدی 1399 ھ ش

07  جنوری 2021 ء

Related posts