جنوری 20, 2021

فضائی حملوں سے امن کی امیدیں دم توڑتی ہے

فضائی حملوں سے امن کی امیدیں دم توڑتی ہے

ہفتہ وار تبصرہ

امارت اسلامیہ افغانستان اور ریاستہائے متحدہ امریکا کے درمیان قطر میں جارحیت کے خاتمہ کے معاہدے کے تقریبا دس مہینے گزر رہے ہیں۔ اس معاہدے سے افغان مسئلہ ایک نئے مرحلے میں داخل ہوا اور اس طویل تنازعہ کے حل کی امیدیں پھوٹ پڑیں ۔

قطر میں طے پانے والے معاہدے کا ایک اہم نکتہ یہ تھا کہ غاصبوں کی بمباریوں  اور کارروائیوں کو روکا جائے،جس کے بدلے امارت اسلامیہ بھی بیرونی غاصبوں کو موقع فراہم کریگی، تاکہ پرامن اور تسلی سے افغانستان سے اپنے انخلا کے سلسلے کو مکمل کریں۔

امارت اسلامیہ، اسلامی اخلاق کے ہدایات کا پابند ہے اور وعدے پر وفا  کو ایک عظیم مذہبی اور اخلاقی اصول سمجھتی ہے، گذشتہ دس مہینوں میں امارت اسلامیہ نے معاہدے کی پاسداری ثابت کردی ہے اور ایسی کوئی مثال موجود نہیں ہے، جس نے معاہدے کو نقصان پہنچایا ہو۔ یہ وہ حقیقت ہے،جس پر حالیہ دنوں میں ریاستہائے متحدہ امریکا کے وزیر خارجہ مائیک پمپیو نےبھی اعتراف کیا۔

مگر مخالف فریق کی جانب سے بار بار ایسے اعمال انجام ہوئے ،جو معاہدے سے متصادم ہے۔  ان میں سے حالیہ دنوںملک کے مختلف صوبوں میں مقامی آبادیوں پر امریکی فضائیہ کی بمباریاں اور ان کے تعاون سے کابل انتظامیہ کی افواج کےبڑے بڑے حملے، وہ  افعال ہیں، جو معاہدے سے متصادم ہیں ۔

اس طرح تباہ کن اعمال نہ صرف دوحہ میں طے شدہ معاہدے کو توڑنے کے خطرے سے روبرو کرتا ہے، بلکہ افغان مسئلے کے حل میں  ہونے والی پیشرفت کو  بھی للکارتا ہےاور اس راہ میں موجود امیدوں کو مایوسی میں بدل دیتی ہے۔

تمام اہل دانش سمجھتے ہیں  کہ افغانستان میں بیرونی غاصبوں کی جانب سے طاقت آزمائی کا 20 سالہ تجربہ ناکام اور  تباہ کن تھا۔ 20 سالہ ناکام تجربات کے بعد  اب ملکی اور بین الاقوامی اتفاق رائے اس پر  ہے کہ افغان مسئلہ دوحہ معاہدے کی بنیاد پر پرامن طریقے سے حل ہوجائے۔ چوں کہ امریکی فریق ایک بار پھر فضائی حملوں سے طاقت کی نمائش کررہی ہے،ایسا معلوم ہورہا ہے کہ ناکام تجربات کو دہرانے سے اب تک عبرت حاصل نہیں کیا ہے۔

ہم مخالف فریق (امریکہ) کو بتاتے ہیں کہ اس طرح یک جانبہ اقدامات انجام دینے سے اقوام کی زندگی اور مفاہمت کی امیدوں کا  مذاق مت اڑائيں۔ جنگ کا نقصان یک طرفہ نہیں ہے، بلکہ جنگ جاری رہنے سے دونوں فریق کے خون بہتے ہیں۔ امریکی حکام کو گذشتہ 20 سالہ ناکارہ بننے والے تجربات دوبارہ نہیں دہرانا چاہیے،جس سے  انہوں نے ناکامی، نقصانات اور  رسوائی کے علاوہ اور کوئی نتیجہ اخذ نہیں کیا۔

ماضی  کی نسبت اب  امارت اسلامیہ کئی گنا  برتر سیاسی اور فوجی پوزیش میں ہے، ایک ذمہ دار فریق کے طور پر ہمیشہ جدوجہد  کررہی ہے کہ مسئلے کے حل میں اپنا کردار ادا کریں۔ امارت اسلامیہ کا یہ مؤقف کبھی بھی کمزوری کی علامت نہیں ہے، بلکہ خوداعتمادی، عوام کی امنگوں کا احترام اور اخلاقی برتری کی علامت ہے۔  مخالف فریق کو بھی ان حساس اور حیاتی موضوعات سے اسی طرح ذمہ دارانہ  رویہ اختیار کریں۔

Related posts