جنوری 20, 2021

یکطرفہ الزامات کی انتہاء

یکطرفہ الزامات کی انتہاء

تحریر:سیدافغان

2 جنورى 2021 کو امریکی وزیر خارجہ مائیک پمپیو نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ہمارے اور طالبان کے معاہدہ کو نو مہینے مکمل ہورہے ہیں اور اس پوری مدت میں طالبان نے معاہدہ سے سرمو انحراف نہیں کیا ہے اور کسی بھی موقع پر خلاف ورزی نہیں کی ہے-
جبکہ دوسری طرف انہیں دنوں کابل انتظامیہ نے معاہدہ کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے جگہ جگہ بمباریاں کی ہے-وہ قیدی جو دوحامعاہدہ کی بنیاد ہر رہا ہوئے تھے انہیں ایک تو بے دردی سے بہیمانہ قتل کرڈالا ہے اور پھر انہیں میڈیا پر داعشی گماشتے ظاہر کرکے اپنی ذمہ داری سے بڑے پرفریب انداز میں سبکدوشی کی ہے-
اس کے ساتھ کابل انتظامیہ نے ملک کے طول وعرض میں مختلف آپریشنز شروع کیے ہیں جن کی سرپرستی اور پشت پناہی امریکی لڑاکا طیارے کررہے ہیں اور امریکی افواج کی جانب سے فضائی مدد ہروقت ساتھ رہتی ہے -جن میں تازہ صورتحال قندہار کے ضلع ارغنداب کی ہے-جہاں کابل انتظامیہ زمین پر اپنے ٹینک اور جنگی ساز وسامان سے آگے بڑھنے کی کوشش میں لگی ہے-جبکہ فضاء سے ان کی حمایت امریکی افواج اپنے لڑاکا طیاروں سے کررہی ہیں جو معاہدہ کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے-
کابل اور دیگر شہروں کے اندر صحافیوں اور سماجی کارکنوں پر کابل انتظامیہ نے زمین تنگ کررکھی ہے-آئے دن کسی نہ کسی صحافی اور سماجی شخصیت کو بالواسطہ یا بلاواسطہ قتل کررہی ہے-تعلیمی مراکز پر حملے کررہی ہے-تعلیم سے منسلک بچوں کی جان لے رہی ہے جو معاہدہ کی کسی شق سے ہم آہنگ نہیں ہے اور کھلی مخالفت ہے-
ساتھ ہی ان نو مہینوں میں امریکی جانب سے متعدد دفعہ بلاوجہ مظلوموں اور معصوموں پر بمباریاں کی گئی ہیں اور قوم وملت کی جانوں کا بے تحاشا ضیاع کیا گیا ہے-جو دوحا معاہدہ سے بدترین انحراف ہے-
مگر اس ساری صورتحال کے باوجود طرفہ تماشایہ ہے کہ میڈیا اور چند خودغرض حلقے طالبان کو مورد الزام ٹھراتے ہیں-کسی جگہ کوئی بھی واقعہ ہوجائے اور اس کے پیچھے کوئی بھی عامل ہو مگر میڈیا پہلے ہی لمحہ میں اس کو طالبان سے جوڑتے ہیں اور کوشش یہ ہوتی ہے کہ کسی نہ کسی طرح اس کے تانے بانے وہیں سے جوڑدے-
ابھی جس وقت امریکی وزیرخارجہ طالبان کی نیک نیتی اور ان کی وفاداری اور عہد پر استقامت کا اعتراف کررہاہے عین اسی وقت کابل انتظامیہ کا ایک بہت ہی اہم اور اعلی عہدیدار اور افغان سیاسی جماعتوں کی مذاکراتی ٹیم کاسربراہ معصوم ستانکزئی پہلے تو تمام کارستانیاں طالبان کے سر تھوپتا ہے اور پھر کہتا ہے کہ یہ سارے مسائل طالبان کے ساتھ مذاکراتی میز پر اٹھائیں گے-
عین اس وقت جبکہ پوری دنیا کابل انتظامیہ اور امریکا کی کھلی خلاف ورزیوں کا بچشمِ خود مشاہدہ کررہی ہے اشرف غنی کے معاونین اور ترجمان بالخصوص امراللہ صالح طالبان کے ساتھ ہر ناگوار واقعہ کو نتھی کرکے ہر طرف سے وار کررہے ہیں-
آخر شرم نام کی بھی کوئی چیز ہوتی ہے-کب تک یہ حقائق کو یوں ہی دباتے جائیں گے؟کب تک یہ اس پروپیگنڈے کی آڑ میں اپنا اقتدار بچاتے رہیں گے؟
یہ یک طرفہ الزامات اور منفی پروپیگنڈوں میں کتنا ہی گہرائی تک جائے اور کتناہی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کرے مگر حق کا اصول یہ ہے کہ دبنے سے دبتانہیں ابھرجاتا ہے-

Related posts