جنوری 20, 2021

دفاعِ افغانستان یا……؟

دفاعِ افغانستان یا……؟

تحریر:ابومحمد الفاتح

یکم جنوری کو کابل کی سیاسی جماعتوں کی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ معصوم ستانکزئی نے اپنے ایک بیان میں امارتِ اسلامیہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا "کہ اگر طالبان نے تشدد کو اسی طرح جاری رکھا اور کمی نہ لائے تو ہم مجبور ہونگے کہ افغانستان کا دفاع کریں-”
یہاں یہ واضح رہے کہ معصوم ستانکزئی اشرف غنی کے دستِ راست اور گزشتہ دو دہائیوں میں کابل انتظامیہ کے مختلف اعلی عہدوں پر فائز رہا ہے-جن میں این ڈی ایس جیسی خونخوار اور بھیانک استخبارات کی سربراہی بھی شامل ہے-اس پورے دوران موصوف ایک ایسی نام نہاد اور کٹھ پتلی حکومت کا حصہ تھے جو اپنا پورا کام امریکی سربراہی میں سرانجام دیتی تھی-جس کی ذمہ داری کا تعین بھی امریکا کرتا تھا اور معزولی کا فرمان بھی وہی سے صادر ہوتا تھا-موصوف نے گزشتہ دودہائیاں ایک ایسے افغانستان میں گزارے ہیں جہاں اس ملک کے دفاع کو تار تار کردیا گیا تھا-ایسا افغانستان جس میں اپنے شہریوں کو تو کھلم کھلا گھومنے پھرنے کی اجازت نہیں تھی مگر امریکا سمیت نیٹو اتحاد میں شامل تمام ممالک کی افواج نہ صرف آزادانہ گھومنے پھرنے کی مجاز تھیں بلکہ اس مظلوم ملک کے باسیوں کی زندگی اور موت کا اختیار بھی ان کے ہاتھ میں تھا-ایسا افغانستان جہاں صبح شام گوشہ گوشہ میں بیرونی مداخلت کار بمبار کرکے بچوں، جوانوں، بوڑھوں اور خواتین کو خون میں لت پت کرتے تھے-ایسا افغانستان جہاں پردہ دار خواتین کی عزتوں کو دن دیہاڑے سربازار جارحیت پسندوں کی جانب سے لوٹا جاتاتھا-ایسا افغانستان جہاں ہزاروں کیلومیٹر دور سے آئے ہوئے سرغنہ غنڈے افغانوں کے گھروں میں گھس کر بے تحاشا ظلم وستم کیا کرتے تھے-ایسا افغانستان جس میں چادر محفوظ تھی اور نہ ہی چاردیواری-ایسا افغانستان جہاں فضاء بھی بارودی شعلے برسارہی تھی اور زمین بھی بیرونی غاصبین جہنم کے کرتوتوں سے جہنم بنی تھی-مگر کمال کی بات یہ ہے کہ موصوف اور اس کے وہ تمام ہمنوا جو تشدد تشدد کی دہائی دیتے رہتے ہیں میں سے کسی نے دفاع کانام تک نہیں لیا-
مگر اب جبکہ امارتِ اسلامیہ کے سرفروش مجاہدین اور جانباز سپاہیوں نے قوتِ ایمانی اور فولادی عزم سے امریکا سمیت تمام بیرونی مداخلت کاروں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا اور انہیں مذاکرات کی میز پر حاضر کرکے خود ان سے ہی اعترافِ شکست لکھوالیا-اور مظلوم ملت کو سکھ کاسانس لینے کا موقع فراہم کیا تو معصوم ستانکزئی جیسے لوگوں کو دفاع افغانستان یاد آیا-
سوال یہ ہے کہ آخر وہ دفاع کس سے کریں گے؟ اور کس لیے کریں گے؟ جن کی وجہ سے قوم وملک کا چپہ چپہ لہولہان ہے اور جن سے دفاع کرنا ضروری تھا ان کے تو موصوف جیسے لوگ غلام بنے رہے-پھر اب یہ جملے چہ معنی دارد؟
بغیر کسی گہرے سوچ کے حالات وواقعات کو سامنے رکھتے ہوئے یہ بات نظر آتی ہے کہ غلامی کے دنوں ان صاحبان کو بڑا کروفر حاصل تھا-اپنی قوم کے خون میں ہاتھ رنگین کرکے یہ لوگ نام کے اعلی سے اعلی مراتب تک جاپہنچتے تھے-آقاؤوں کی ہر بات پر لبیک کہہ کر جیبوں کے منہ بھرنے کی وجہ سے بند نہیں ہوتے تھے-مگر اب مسئلہ یہ ہے کہ ایک جانب آقاؤوں کی توجہ کٹ رہی ہے-دوسری جانب جیبوں کی تہیں خالی ہورہی ہیں-تو تیسری جانب قوم ان کے کیے کا حساب مانگ رہی ہے؛اس لیے یہ دفاع کا لیبل لگاتے ہیں تاکہ آخری سازش کے طور پر کچھ نہ کچھ بچاہی لیں -مگر ان کی یہ آرزو بھی زمین بوس ہی ہوگی ان شاءاللہ-

Related posts