جنوری 20, 2021

معصوموں پر دھاوا اور اس کا انجام

معصوموں پر دھاوا اور اس کا انجام

تحریر:سیدافغان

30 دسمبر 2020 کی رات کابل سے متصل بلکہ کابل کا جڑواں شہر میدان وردگ میں کابل انتظامیہ کی ظالم اوردرندگی میں ریکارڈ قائم کرنے والی فورسز داخل ہوئی-میدان وردگ کے علاقہ "جلریز” میں داخل ہونے والی اس درندہ صفت فورسز کا مقصد علاقہ میں آپریشن کرنا تھا-آپریشن سے مراد یہ کہ بچوں،بوڑھوں اور خواتین کو اپنی درندگی کی بھینٹ چڑھایاجائیں-بے کسوں، ناداروں اور لاچاروں کا خون کرکے اپنے نام کے ساتھ ہیرو کا لاحقہ لگادیا جائے-رات کی تاریکی میں مظلوموں اور معصوموں کی نیند خراب کرکے ان پر ہاتھ ڈالاجائے-چنانچہ اس دفعہ بھی یہ وحشی اپنی سابقہ گھناونی حرکت دہرانے کے لیے رات کی ظلمت سے استفادہ کرنے لگے-
یہ فورسز اپنے مظالم اور کالے کرتوتوں کی وجہ سے کابل انتظامیہ کے ہاں ایک بلند نام رکھتی ہے-اس کو کابل انتظامیہ سپیشل فورس،کمانڈو اور موت کے سپاہی سے موسوم کرتی ہے اور واقعہ بھی یہی ہے کہ ظلم میں یہ سپیشل،مظلوم کے خلاف کمانڈو اور لاچار طبقہ کے لیے موت ہی ہے-مگر قسمت کی بات ہے کہ اس دفعہ ان کے آتے ہی ملک وملت کے شیردل سپاہی،اسلام کے جانباز اور سرفراز دستے،اللہ کے لشکر ، اپنی قوم کے ہمدرد اور غمخوار اور امارتِ اسلامیہ کے سرفروش ان کے لیے گھات لگا کر بیٹھے تھے-یہ وحشی اور درندہ فورس چونکہ ہروقت ٹینکوں اور جہازوں کی مدد سے کارروائی کرتی ہے اور اپنا سامنا ہمیشہ ضعیفوں سے کراتا ہے جو ان کی درندگی کے سامنے اپنی بے بسی ہی کااظہار کرتے ہیں اس لیے یہ بھی کھل کر اور بڑے اطمینان سے اپنی وحشت کامظاہرہ کرتی ہے مگر اس دفعہ ان کاسامنا وقت کے موسی کے لشکر سے ہوا تو ان کے چھکے چھوٹ گئے-
گھات لگائے مجاہدین نے ان کی اس گھمنڈ کو خاک آلود کردیا-قبل اس کے کہ وہ کسی پر ہاتھ ڈال دے اور کسی درندگی کا اظہار کردے اسلام کے سپاہیوں نے چہار طرف سے انہیں گھیرے میں لیا اور طاقت ومادیت کی دلدل میں پھنسی اس مخلوق کو کھڈے لائن کیا زمین بوس کردیا-پچیس افراد کو موقع پر ہی موت کے گھاٹ اتاردیا-بے شمار افراد کو زخمی حالت میں چھوڑدیا-درندوں کاوحشی سپہ سالار لاپتہ ہوکررہ گیا-متعدد ٹینکوں اور ہتھیاروں کو مجاہدین نے غنیمت بناکر ہتھیالیا اور سبق دیا کہ جو بھی کوئی ایسی حرکت کرےگا اور اپنی قوم کے خلاف برسرِ پیکار ہوگا تو اس کاانجام یوں ہی ہوگا-اور قوم کے بچے انہیں اس طرح چھوڑیں گے-
اس واقعہ سے نہ یہ کہ مسلمانوں کے دل ٹھنڈے ہوجاتے ہیں اور زخمی جذبات کو تسکین ملتی ہے بلکہ ان وطن فروشوں اور غلاموں کو سبق بھی ملتاہے کہ جو اپنوں سے ہی جفا کرے گا تو پھر اپنوں ہی کی تیغ سے چھلنی کردیاجائےگا ان شاءاللہ-

Related posts