جنوری 16, 2021

مذاکرات کے حوالہ سے سیاسی دفتر کے ترجمان ڈاکٹر محمدنعیم کی تازہ گفگتو

مذاکرات کے حوالہ سے سیاسی دفتر کے ترجمان ڈاکٹر محمدنعیم کی تازہ گفگتو

ترجمہ وترتیب:ابومحمد الفاتح

باقاعدہ مذاکرات کی ابتداء کے لیے ہماری بحثیں اس وقت جاری ہیں اور اصول وضوابط طے کرنے کے لیے دونوں ٹیموں کے درمیان وقتا فوقتا بیٹھک ہوتی رہتی ہے-ہمیں امید ہے کہ جلد ہی یہ مرحلہ بھی سرہوجائے گا اور اصول پر اتفاقِ رائے قائم ہوجائے گی-اور جس وقت یہ اتفاقِ رائے قائم ہوجائے گی تو ہم تفصیلات میڈیا کے ساتھ شئیر کریں گے-اب یہ کہ اس اعلان کے لیے کتنا انتظار کرنا پڑےگا؟تو اس بارے میں ہماری تمنا یہ ہے کہ جلد سے جلد ہونا چاہیے-مگر چونکہ یہ مسئلہ کافی پیچیدہ ہے اور جنگ ہمارے ملک میں چالیس سال سے بسیرا کیے ہوئے ہے اس لیے ہمیں حوصلہ کرنا چاہیے اور ہمت سے کام لے کر جلد بازی کی بجائے ٹھنڈے دل سے مسائل کو سمجھنا چاہیے-یہاں بے پناہ مشکلات موجود ہیں اور وہ ایک گھنٹہ ایک دن میں حل نہیں ہوسکتے اس کے لیے مسلسل اور دائمی جدوجہد کرنی ہوگی اور تبادلہ فکر کے نتیجہ میں کوئی حل نکالنا ہوگا جو ظاہر ہے کافی وقت لے گا-

اصول طے ہونے کے بعد ایجنڈا پر بحث ہوگی اور ایجنڈا متعین کرنے کے لیے ہماری کوشش یہ رہے گی کہ وہ بھی جلد از جلد متعین ہوجائے -مگر پھر میں کہتا ہوں کہ چونکہ مشکلات بہت زیادہ ہیں اور مسائل بہت گھمبیر ہیں اس لیے وقت لینے کے امکانات کو مسترد نہیں کیا جاسکتا-حالات کی اسی سنگینی نے ہی تو امریکا کے ساتھ مذاکرات میں ڈیڑھ سال سے زائد عرصہ لیا تھا ورنہ تو عام خواہش کے مطابق تو ایک دودن میں سب کچھ حل ہونا چاہیے تھا-اس لیے وقت زیادہ یا کم گزرنے کے بارے میں وسوسوں میں پڑنے کی بجائے حوصلہ رکھنا چاہیے-

ہم نے امریکا کے ساتھ کیے گئے معاہدہ میں یہ واضح طور پر لکھا ہے کہ جنگ بندی پر گفگتو بین الافغان مذاکرات کاایک اہم حصہ ہوگا -جب دونوں ٹیمیں مذاکرات کی میز پر آمنے سامنے بیٹھیں گی تو وہاں اس پر گفگتو بھی ہوگی اور سیز فائر تک بھی پہونچیں گے-ہم نے اپنی طرف سے بڑے شہروں، اضلاعی مراکز اور فدائی حملے موقوف کیے تھے جس کااعتراف دنیا نے بھی کیا مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ کابل انتظامیہ نے موقع سے استفادہ کرتے ہوئے مسلسل تجاوز شروع کیا جس کے دفاع کا ہم حق رکھتے ہیں-اور ہم نے اپنا دفاع کیا ہیں جس کو وہ تشدد کا نام دے کر ڈھنڈورا پیٹتے ہیں-

قندہار شہر ہو یا ہلمند ہمیں اس کی مثالیں نہ دی جائیں کہ ایک طرف بڑے شہروں پر کارروائیاں موقوف کرنے کا کہتے ہو اور دوسری طرف علانیہ یہاں شہروں پر حملے جاری رکھے ہوئے ہو-کیونکہ ہم دفاعی حالت میں ہیں اور دفاع کا مطلب یہ نہیں کہ جس جگہ دشمن کارروائی کرے اسی جگہ ہم ردعمل بھی دکھائیں-بلکہ ہم بھیردعمل وہاں دکھائیں گے جہاں ہمیں آسانی ہو-ہلمند میں ہم نے صرف وہاں کارروائی کی ہے جہاں دشمن نے ہمارے مقبوضہ علاقوں کو یرغمال بنایا تھا اور جیسے ہم نے اپنے علاقے اپنے گھیرے میں لے لیے تو اسی وقت یہ اعلان بھی کیا کہ ہم اس سے آگے نہیں جائیں گے-مگر جانبِ مقابل روزانہ بمباری کرتی ہے ابھی کل ہی ہلمند اور قندہار میں بمباری ہوئی ہے -اس پر ہم مجبور ہوتے ہیں کہ ردعمل دکھائیں اور ردعمل کے لیے مقام کاانتخاب پھر ہم اپنی مرضی سے کریں گے-

کابل شہر کے اندر یونیورسٹی پر حملہ ایک بہت ہی دردناک حملہ ہے اور امارتِ اسلامیہ نے نہ صرف یہ کہ اس سے براءت کااعلان کیا ہے بلکہ شدید مذمت بھی کی ہے اور انتظامیہ کی طرف سے اس پر ہرزہ سرائی محض ایک الزام اور افتراء ہے اور ان کا مقصد نفرت پھیلانا ہے-حملہ کو آڑ بناکر مذاکرات کے خلاف نعرے لگوانا،تصاویر کے ساتھ نازیبا جملے لکھنا اور اس جیسے دیگر اقدامات محض پروپیگنڈا ہے اور ایسا پہلی دفعہ نہیں ہوتا گزشتہ بیس سال سے یہ گورکھ دھندا جاری ہے اور اب دنیا بھی ان چالوں کو اس حد تک سمجھ چکی ہے کہ اس پر مزید گفتگو بھی مناسب نہیں ہے-

کابل انتظامیہ چونکہ استعمار کی پروردہ ہے اور استعمار کے سایہ تلے اس کی بقاء ہے اب وہ سمجھتی ہے کہ جب استعمار کا خاتمہ ہوگا اور اجنبی قوتیں افغانستان چھوڑ کر چلی جائیں گی تو ان کی بقاء خطرے میں پڑے گی-اس لیے وہ تعلیمی سینٹرز، دینی مراکز،مساجد،صحافیوں اور دینی عالموں کو نشانہ بنارہے ہیں-وہ بوکھلاہٹ میں مبتلا ہیں اور بوکھلاہٹ میں وہ کسی جرم سے دریغ نہیں کرتی-

امریکی سفیر یہ شوشہ نہ چھوڑے کہ طالبان تشدد میں اضافے سے باز آئے اور عوام کو مارنا چھوڑدے-اسے اگر عوام کی اتنی فکر ہے تو وہ بتائے کہ گزشتہ بیس سال سے عوام کی جان ومال اور عزت وناموس سے کون کھیلتا رہا؟ عوام پر فضاء سے بمباری کون کرتا رہا؟ گولیوں سے چھیلنی کرتا رہا؟یہ جنگ کس نے کھڑی کی ہے؟ اس کی بنیاد نے کس نے رکھی ہے؟
جس تشدد کی کمی کا وہ گلا پھاڑ کر چیخ وپکار کرتے ہیں وہ تمام اطراف سے ہونی چاہیے-اگر وہ بمباری کریں گے-چھاپے ماریں گے ناحق لوگوں کو ماریں گے تو ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے نہیں بیٹھ سکتے-

Related posts