جنوری 16, 2021

ملا تاج میر جواد صاحب سے تفصیلی  گفتگو

ملا تاج میر جواد صاحب سے تفصیلی  گفتگو

افغانستان کے اندرونی سیاسی وجہادی حالات، قطر مذکرات، امارت اسلامیہ کی رفاہی وترقیاتی خدمات اور مستقبل کی پالیسی کے متعلق امارت اسلامیہ افغانستان  کے جہادی رہنما  اور رہبری شوریٰ کے رکن محترم ملا تاج میر جواد صاحب سے تفصیلی  گفتگو

امارت اسلامیہ افغانستان کی صفوں میں محترم ملاتاج میر جواد حفظہ اللہ کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ آپ امارت اسلامیہ کی مرکزی رہبری شوری کے رکن اور عظیم جہادی شخصیت ہیں۔ جارحیت پسندوں کے خلاف بڑے معرکوں میں شریک رہے ہیں۔ ان کے غلاموں کے خلاف بھی بڑی کارروائیاں کیں۔ اس کے ساتھ ساتھ دعوتی وادبی میدان میں بھی ان کی بڑی خدمات ہیں۔ امارت اسلامیہ کے دور حکومت میں انہوں نے کئی ذمہ داریاں نبھائی ہیں اور امارت اسلامیہ کی خدمت میں زندگی گذاری ہے۔ کچھ دن قبل شریعت میگزین نے حالیہ جہادی وسیاسی حالات اور امارت اسلامیہ کی ماضی وحال کی خدمات اور مستقبل کی پالیسی کے حوالے ان سے تفصیلی گفتگو کی جو قارئین کے نذر کی جارہی ہے۔
<×><×><×>
سوال:مولوی صاحب سب سے پہلے قطر میں جاری بین الافغان  مذاکرات کے بارے میں قارئین کو آگاہ کریں؟ تازہ صورتحال کیا ہے؟
جواب:  سب سے پہلے شریعت مجلے کے قارئین  ، آپ کی پوری ٹیم  سمیت افغانستان کے مجاہد عوام اور محاذ پر موجود مجاہدین کو  سلام اور نیک خواہشات  پیش کرتا ہوں۔ان تمام خاندانوں سے ساتھ تعزیت کرتا ہوں جن کے پیارے حال ہی میں امریکا اور ان کے کٹھ پتلیوں کے حملوں میں شہید یا زخمی ہوئے ہیں۔ان والدین سے دلی تعزیت کرتا ہوں جنہوں نے اپنے جگر کے ٹکڑے دین مبین کی بقا کی خاطر آگ کے شعلوں میں جھونکا ہے۔اللہ تعالی ان کی شہادتیں قبول فرمائے۔
ماہنامہ شریعت سمیت امارت اسلامیہ کے تمام مجلات مبارک باد کے مستحق ہیں جنہوں نے افغان جہاد کے اس حساس مرحلے میں قلمی اور ابلاغی میدان میں بھی  کفار کو ناکوں  چنے چبوائے ہیں۔
اب آتاہوں آپ کے سوال کی جانب، اب تک دونوں فریق مذاکرات کے لیے ایک متفقہ ایجنڈے کی تیاری میں لگے ہوئے ہیں، بہت سے نکات پر اتفاق رائے ہوچکا ہے جبکہ  کئی نکات پر اب بھی اختلاف برقرار ہے ،امید ہے کہ تمام نکات پر ایک متفقہ ایجنڈا سامنے آئے گا اس کے بعد ہم مذاکرات کے اصل مرحلے میں داخل ہوں گے۔
سوا ل: کیا   مذاکرات کے ذریعے ملک میں امن وامان کا قیام امارت اسلامیہ کی اپنی خواہش ہے یا کوئی غیر ملکی دباؤ؟
جواب :  امارت اسلامیہ کا قیام ہی ملک سے شر وفساد اور انارکی کے خاتمے کے لیے تھا،جب انہوں نے اپنی تحریک شروع کی تو شر وفساد کے خلاف جہاد کیا جس نے افغانوں کی زندگیاں اجیرن بنادی تھیں۔اب بھی ہمارے جہاد کا مقصد ملک سے ان عوامل کا خاتمہ ہے جس نے عام شہری کی زندگی اجیرن بنادی ہے  اور ان کی آزادی اور خودمختاری چھین لی ہے۔  امن وسلامتی کے لیے عوام ترس ر ہے ہیں۔اسی لیے ہماری مسلح جہادی جدوجہد ہو یا سیاسی  ،دونوں اس ملک کے شہریوں کے امن وسکون اور اسلامی نظام کے احیاء کے لیے ہیں۔
امارت اسلامیہ افغانستان اپنے فیصلوں میں مکمل طور پر خود مختار ہے  ،ہم کسی کے دباؤ میں آکر فیصلہ نہیں کرتے اگر یہ ممکن ہوتا تو امریکا کے ساتھ جنگ کی نوبت نہ آتی ۔ ہم ان کے دباؤ میں آکر ان کے اشاروں پر چل رہے ہوتے۔
سوال: کابل انتظامیہ کی مذاکراتی ٹیم جمہوریت، آزادی اظہار رائے اور خواتین کے حقوق جیسے نعروں کو ” ریڈ لائن ” قرار دے چکی ہے  آپ کے خیال میں امارت اسلامیہ   مذاکرات کے دوران ان امور پر کہاں تک بحث کرے گی؟
جواب: دراصل افغانستان میں جاری جنگ میں ایک اہم اور مشترک نکتہ جو ایک صدی سے چلا آرہا ہے وہ غیروں کے افکار اور نظریات اور نظام کو زبردستی افغان قوم پر مسلط کرنا ہے۔ہماری رائے یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو غیروں کے کلچر،طرزمعاشرت،فکر اور نظام جیسے کمیونزم،سیکولرزم وغیرہ پر ان کا اتنا زیادہ اصرار درست نہیں ہے۔
امارت اسلامیہ افغانستان میں صرف اسلامی نظام حکومت کی خواہاں ہے ۔ کیوں کہ اسلام ہی واحد نظام حیات ہے جس میں بنی نوع انسان کے تمام مسائل کا حل پوشیدہ ہے۔اسلام ہی ہے جوایک فرد اور معاشرے کو ایک دوسرے پر ظلم وزیادتی سے روک کر ایک فلاحی معاشرے کی تشکیل  کرتا ہے۔
اسی طرح اسلامی نظام میں ملک کے  ہر فرد  کو اصول اور شرائط کے ساتھ اظہار رائے کی مکمل  آزادی  کا حق حاصل ہے۔یہ اصول اور شرائط صرف اس وجہ سے ہیں تاکہ اس آزادی کو صرف حق کے اظہار اور اپنے حقوق کی آواز کے لیے استعمال کیا جائے نہ کہ دوسروں کے استحصال یا کسی مسلمان کے عقائد یا کسی شخصیت کی بے حرمتی کے لیے۔ اسی طرح جو حقوق اسلام نے خواتین کو دیے ہیں اگر انہی کی روشنی میں  اس مذاکراتی ٹیم کے حقوق کا مطالعہ کیا جائے تویہ لوگ خواتین کے حقوق کامطالبہ نہیں بلکہ خواتین کے حقوق غصب کر رہےہیں۔کیوں کہ یہ لوگ خواتین کو معاشرےمیں حاصل اس کے مقام اور کردار سے دور لے جارہے ہیں۔
سوال: اشرف غنی اور اس کی ٹیم اپنے نظام حکومت کو خطے کے ممالک کی نسبت زیادہ اسلامی قرار دیتی ہے۔آپ کیوں ان کے جمہوری اسلامی نظام کو اسلامی نظام تسلیم نہیں کرتے؟
جواب: اسلامی نظام اس نظام کو کہا جاتا ہے جس میں حاکمیت اعلیٰ االلہ جل جلالہ  کی ذات کو قرار دیا جائے  اور قانون سازی  میں ماخذ اور مصدر صرف اسلامی شریعت ہو  اور بس ۔ اسلام مخالف کوئی قانون پاس اور لاگو نہیں ہوگا ۔اب جو بھی ملک یا حکومت اپنے قوانین میں ان دو باتوں کو پورا کرے وہی اسلامی نظام کہلائے گا۔ کابل انتظامیہ  کے آئین میں حاکمیت اعلیٰ، اللہ جل جلالہ کی ذات نہیں بلکہ یہ حق عوام کو دیا گیا ہے، ا س آئین کی پہلی شق کے  چوتھے مادے میں یہ وضاحت  موجود ہے۔اسی طرح قانون سازی میں اسلام کے ساتھ وضعی قوانین بھی شامل کیے گئے ہیں۔قانون سازی میں اسلام کو واحد ماخذ کے طور پر نہیں لیا گیا۔ ساتویں مادے میں  کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی قوانین اور اعلامیوں کا بغیر کسی شرط کے ماننے کا وعدہ کیا گیا ہے۔ان اعلامیوں میں واضح طور پر اسلام مخالف  مواد موجود ہے۔ جس کی واحد مثال ارتداد کوجائز قراردینا ہے۔
اسی طرح اسلام نے جو صفات ایک زعیم کے لیے مقرر کی ہیں وہ کابل انتظامیہ کےسربراہ میں بالکل نہیں ۔ان کے آئین میں کہیں بھی ” اسلامی شریعت” کا لفظ نہیں ملےگا۔ بلکہ ہر جگہ اسلام ذکر کیا گیا ہے۔ کیوں کہ ان کے نزدیک اسلام کا ایک الگ مفہوم  ہے۔یہ لوگ اسلام کو صرف اخلاقیات،روح عقل اور ضمیر تک محدود سمجھتےہیں۔ان کے آئین میں موجود مادے 1، 2، 3، 35، 45، 54 اور 63 میں صرف اسلام کے بارے میں کچھ مواد ہے۔اس کے عبارات پیچیدہ ہیں ۔ان میں کوئی بھی ان میں مادوں میں کسی میں بھی وہ اصول بیان نہیں ہوئے جو شریعت کے عین مطابق ہوں۔
کابل کی کٹھ پتلی انتظامیہ غیر ملکی جارحیت کی ہی پیداوار ہے۔ یہ ان اعمال کا مرتکب ہوا ہے جس کی رو سے اسلامی شریعت میں ان کے ساتھ جہاد جائز اور ان کا قتل واجب  ہے۔کیوں کہ ان لوگوں نے افغانستان کی جہادی سرزمین پر فحاشی ،فتنہ اور فساد کے لیے راہ ہموار کی ہے،مسلمانوں کا خون مباح سمجھتے ہیں۔افغانستان کے طول وعرض میں اپنے مسلمان بھائیوں کے خلاف کفار کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں۔ کفار کی سیکورٹی کو اپنے سیکورٹی اور دفاعی فورسز کی ذمہ داری قرار دیتے ہیں اور اس پر فخر بھی کرتے ہیں۔اس لیے اس قسم کے نظام کو ہر گز اسلامی نہیں کہا جاسکتا اور نہ اس قانون کو اسلامی قانون کہا جاسکتا ہے۔کابل انتظامیہ اپنی حکومت کے اسلامی ہونے کو جو دعویٰ کرتی ہے وہ محض عوام کو ورغلانے کے لیے ہے۔
سوال : کابل کے ایوانوں میں اب ” بازگشت بہ سابق قبول نیست” (ماضی کی جانب مڑنا قبول نہیں )کا بیانیہ سامنے آرہا ہے ۔ جس سے ان کا مطلب ماضی کی امارت اسلامیہ ہے جسے یہ قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔امارت اسلامیہ کا اس بارے میں موقف کیا ہے؟
جواب: اگر بازگشت بہ سابق کو اس معنی میں لیا جائے کہ عصر حاضر کے سائنسی علوم سے استفادہ نہ کیا جائے تو اس کے ہم بھی مخالف ہیں۔لیکن  اگر یہ لوگ اس جملےکا یہ مطلب لے رہے ہیں کہ ہم اللہ کے احکامات کو ترک کریں جو اللہ جل جلالہ نے آج سے 14 سو سال قبل بنی نوع انسان کی فلاح وبہبود کے لیے نازل فرمائے ہیں۔تو اس قسم کے بازگشت بہ سابق کے حامی اور طرفدار ہیں اور یہ ہمارے ایمان اور عقیدے کا حصہ ہے۔
ہم اللہ کے احکامات کو جمہوریت جیسی انسانی عقل کی اختراعی نظام پر ترجیح نہیں دے سکتے ۔اگرکسی کا عقل اللہ جل جلالہ کے احکامات کی حکمت جاننے سےقاصر رہتا ہے تو یہ اس عقل کی کمزوری ہے۔نہ اللہ کے احکامات کی ۔
انسان کی اجتماعی زندگی میں اس کی تخلیق کا مقصداور زمین پر اس کے کردار کی نوعیت کے بارے میں عقل کے فلسفے کبھی بھی مستقل نہیں رہے بلکہ ہروقت انسانی خواہشات کے مطابق تغیر پذیری کی حالت میں ہوتے ہیں۔یہ تغیر کسی منطق کی محتاج نہیں ہوتی بلکہ نفس اور ہوس کے تابع ہوتی ہے۔
اب کٹھ پتلی  ادارے کی 19 سالہ کارکردگی کا حاصل ہے ہی کیا جس کو وہ عوام کے سامنے پیش کر سکیں۔ان کی کارکردگی اور کرتوتوں کو اگر اسلامی شریعت کی نگاہ سے دیکھا جائے تومعلوم ہوگا کہ فحاشی ، فتنہ اور فساد کے علاوہ  انہوں نے ملک کو کچھ نہیں دیا۔جو دربدری ان لوگوں کی وجہ سے ہوئی ہے ہم ان کے ازالے کی کوشش کریں گے۔ وہ تما م امور جو اسلامی شریعت سے متصادم نہ ہوں ان کی بھرپور حوصلہ افزائی کی جائے گی۔
سوال : طالبان کس قسم کا اسلامی نظام نافذ کرنا چاہتے ہیں؟ پاکستان، سعودی عرب، ایران یا مصر کی طرح؟کچھ لوگ یہ سوال بھی اٹھارہے ہیں کہ اسلامی نظام  ایک فقہ کانام نہیں، آپ یہ بتائیں کہ اماررت اسلامیہ کس قسم کا اسلامی نظام چاہتی ہے؟
جواب: اسلامی شریعت کے مطابق اسلامی نظام  حکومت کی اپنی تعریف اور اصول  اور قسمیں ہیں۔اس قسم کے سوالات وہ لوگ اٹھا رہے ہیں جو اسلامی نظام حکوت کے بارے میں  شریعت کے احکامات سے لا علم ہیں اور دوسری جانب وہ  ہماری سادہ لوح عوام کو اسلامی نظام کے بارے میں شکوک وشبہات میں ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ہم دنیامیں موجود اسلامی حکومتوں اور ان کے نظام کا مطالعہ شریعت  کی روشنی میں کرتےہیں۔ہم اشخاص،تنظیموں اور مختلف ممالک کے نظام حکومت کے مطابق اپنی اسلامی نظام کی نوعیت پیش نہیں کرتے بلکہ ہمارا نظام اسلامی شریعت کے اصولوں کے عین مطابق ہوگا  اور بس۔ ہم  عوام کے بہتر مفاد میں اس فقہ  کو نافذ العمل کریں گے جو سب سے بہتر ہو۔
سوال : کچھ لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ امارت اسلامیہ کی حکومت کے دوران افغانستان کی مثال ایک قبرستان کی سی تھی جہاں لوگوں کو بنیادی حقوق حاصل نہیں تھے؟اور اس کا موازنہ ماضی کی شاہی حکومتوں سے کرتےہیں۔
جواب:امارت اسلامیہ  ایک  حقیقی اسلامی حکومت کی مثال تھی۔ جس کی زعامت کا انتخاب 1500 سے زائد علماء کرام نے کیا تھا اور اب بھی ان  کی زعامت علماء کرام ہی منتخب کرتےہیں۔ایک خودمختار شوریٰ اس وقت موجود تھی جو اب بھی موجود ہے جن کے ارکان اہل حل وعقد کی صفات سے  بہرہ ور ہیں۔زعیم کے انتخاب میں ان تمام صلاحیتوں کو دیکھا جاتا ہے جو کسی اسلامی نظام کے ایک سربراہ کے لیے ضروری ہونی چاہیے۔ انتخاب کی بنیاد صرف شریعت اور شوری ہے۔امارت اسلامیہ نے اسلام کے احکامات کے عین مطابق ایک آئین تشکیل دیا تھا۔لیکن افسوس امریکی حملے نے اسے مزید پنپنے نہ دیا۔
ہماری حکومت میں ایک کابینہ اور ریاست الوزراء موجود ہوتی تھی جو ایک حکومت کی طرح تھی اور اپنی قوم کی ہر ممکن خدمت کرتی تھی۔تمام مناصب پر افراد کی تقرری اہلیت کی بناء پر کی جاتی تھی۔صوبوں اور ضلعی سطح پر عوام سے رابطے اور ان کی شکایات سننے کے لیے خصوصی کمیشن کام کرتے تھے ہرصوبے میں علماء کی ایک شوریٰ موجود رہتی  تھی جو لوگوں کے مسائل سنتی اور انہیں شریعت کی روشنی میں حل کرتی تھی۔
امیرالمومنین رحمہ اللہ نے عوام کے ساتھ  طالبان مسئولین کا سلوک معلوم کرنے کے لیے ایک خفیہ سسٹم وضع کیا تھا جو ہر صوبے میں فعال ہوتا تھا اور جس مسئول کی کارکردگی شریعت کے خلاف ہوتی اس کے بارے میں شریعت کے مطابق فیصلہ کیا جاتا ۔تعلیمی اور معاشی میدان میں ممکنہ وسائل سے اپنی حدتک  عوام کی خدمت جاری تھی۔اس وقت نوجوانوں کو تفریح کے مواقع بھی میسر تھے  اور انہیں شریعت کے دائرہ کار  میں رہتے ہوئے ہر قسم کی تفریح کی نہ صرف اجازت تھی بلکہ حکومت اس کی حوصلہ افزائی بھی کرتی تھی۔ خواتین کی جبری شادی ، دشمنی کے بدلے میں خواتین د ینا جیسے تمام غیر اسلامی رسومات  پر پابندی لگا دی گئی۔
اب فیصلہ آپ کریں کہ اس قسم کے نظام حکومت کا شاہی حکومت سے موازنہ کیوں کر ممکن ہوسکتا ہے۔جس شاہی حکومت کے تمام فیصلوں کا اختیار صرف ایک خاندان کے پاس تھا، زعامت اور دوسرے اعلیٰ مناصب موروثی حیثیت رکھتے تھےاور ان میں سے اکثریت عوام کے مسائل سے لاعلم اپنی عیاشی اور کرسی کی فکر میں لگے ہوتے تھے۔اقتدار میں بقاء کی خاطر آستین میں سانپوں کو پال کر ملک کو متعدد بحرانوں کا شکار کیاگیا۔کبھی مشرق کی ڈکٹیشن لیتے تو کبھی مغرب کی کاسہ لیسی میں اپنی امان تلاش کرتے اور مختلف شیطانی فکروں کے لیے افغانستان میں زمین سازی کرتے رہے۔
اس قسم کے پروپیگنڈے سے دشمن کا ہدف صرف اور صرف مذاکرات کے ذریعے افغان مسئلے کے حل کا راستہ روکنا ہے۔بین الافغان مذاکرات میں عدم اعتماد کی فضاء پیدا کرنا ان کا اصل مقصد ہے۔اسلامی نظام کے خلاف لوگوں کے اذہان میں شکوک وشبہات پیدا کرنا  دراصل ان کی اسلام سے دشمنی ہے۔اس سے یہ لوگ عوام میں اپنا مقام کھودیں گے اور مزید ذلیل اور رسوا ہوجائیں گے۔
یہ لوگ وہ دن کیوں بھول گئے جب امارت اسلامیہ نے علاقائی اور لسانی عصبیت  کا خاتمہ کیا ۔ جب کابل شہرکھنڈرات کا منظر پیش کر رہاتھا اور 60 ہزار سے زیادہ شہری باہمی لڑائیوں کی نذرہوگئے، لوگوں کے مال وجان سے یہ جنگجو کھیلتے رہے۔ لوگوں کے سروں میں کیل ٹھونک دیے جاتے۔رقص مردہ کے نظارے ہوتے رہے[لاشیں رکھ کر اس کے پاس مخصوص رقص کیا جاتا]اس  صورتحال میں امارت اسلامیہ نے کس طرح ملک کوٹکڑے ہونے سے بچاکر باہمی لڑائیوں کا خاتمہ کیا اور ملک کو مثالی امن سے بہرہ ور کیا۔ یہی لوگ ان حکومتوں میں بڑے عہدوں پر فائز تھے۔ اب بھی امریکی چھتری تلے کفار کے تلوے چاٹ رہے ہیں۔انہیں اب گزشتہ جرائم کا حساب دینا ہے ۔انہیں ڈوب مرنا چاہیے، کس منہ سے طالبان حکومت کے خلاف لب کشائی کی جرات کر رہے ہیں۔
مغرب کی غلامی اور مغربی افواج کے ساتھ مل کر اپنے عوام کا قتل ،فتنہ وفساد اور فحاشی اور عریانی کا فروغ ،لادینیت اور ارتداد کے لیے راہ ہموار کرنا، بڑے شہروں میں  سنگین جرائم،خواتین کی عزت اور ناموس کی پامالی،اسلامی مقدسات کی توہین، 90 فیصد سے زیادہ غربت ،ملک سے لاکھوں نوجوانوں کی نقل مکانی،لاکھوں افراد کا منشیات کا عادی ہونا، چھاپوں میں پورے خاندان کا خاتمہ یہ سب جمہوریت کا ثمر ہے۔افغان قوم بڑے شہروں میں  چند بلند منزلوں، نائٹ کلبز، شراب کی فراوانی،سینکڑوں ریڈیو  چینلز، درجنوں ٹیلی ویژن چینلز اور ان میں 24 گھنٹے میوزک اور فلم،  اور ایک دوسرے کی عزتیں اچھالنے کی حرکتیں ہی ان کی حکومت کے دو عشروں کی کارستانی ہے۔
سوال : امارت اسلامیہ نے اپنے دورحکومت میں عوام کے لیے کونسی خدمات انجام دی ہیں ؟ براہ کرم ان پر کچھ روشنی ڈالیے۔
جواب: امارت اسلامیہ نے اپنے دور حکومت میں عوام کی بے پناہ خدمات کی ہیں۔حالانکہ امارت اسلامیہ اس وقت سخت معاشی اور سیاسی دباؤ کا شکار تھی۔اس لیے وسیع پیمانے پر جدید سائنسی علوم سے استفادہ نہیں کرسکی۔جو خدمات امارت اسلامیہ نے اپنے مختصر دور حکومت میں انجام دی ہیں، ان میں سے کچھ درج ذیل ہیں۔
1. سوویت یونین کی شکست کے بعد فتنہ وفساد کے خلاف جہاد  کا اعلان۔
2. انارشیزم اور ملوک الطوائفی   سمیت ان ہزاروں پھاٹکوں کا خاتمہ جو عام شاہراہوں پر لوگوں کے جان ومال  اور آبرو لوٹتے رہتے تھے۔
3. ملک کو تقسیم سے محفوظ رکھا۔
4. ایک مضبوط مرکزی حکومت کا قیام
5. شریعت اسلامیہ کا نفاذ،حدود جاری کیے اور امر بالمعروف ونہی عن المنکر جیسے شعبے صدیوں  بعد اسلامی نظام حکومت میں عملی طور دیکھے گئے۔
6. کئی عشروں بعد ملک گیر امن واستحکام
7. اسلامی اخوت کا نمونہ پیش کیا۔
8. حکومتی نظام ،وزارتوں اور دوسری بنیادی اداروں کے تباہ شدہ عمارات کا دوبارہ قیام۔
9. مدارس، سکولوں اور یونی ورسٹیز کاقیام ،نصاب کی تیاری اور اشاعت،اساتذہ کی بھرتیاں اور دینی اور عصری علوم کے درمیان فاصلو ں کا خاتمہ  جس سے کئی عشروں بعد دینی اور عصری علوم کے طلباء کے درمیان فاصلے کی دیوار گر گئی۔
10. معاشی پابندیوں کے باوجودکسٹم ڈیوٹی میں کمی اور مضاربت کے نظام سے تجارت کو فرغ دیا۔ضروریات زندگی نہایت سستے داموں دستیاب تھیں۔
11. سروبی، کجکی  اور نغلوں ڈیموں  پر کام کے ذریعے بجلی پیداکی۔جو کابل ، ہلمند اور قندہار کو مہیا کی گئی۔
12. بغلان کی سیمنٹ فیکٹری کی مشینری کی ریپئرنگ کی اور اسے پیداوار کے قابل بنایا،شبرغان کی گیس فیکٹری کی مشینری دوبارہ مرمت،مزار شریف تک گیس پائپ لائن بچھائی گئی جس سے یہاں کی کھاد فیکٹری دوبارہ چل پڑی،سمنگان اور کرکر میں کوئلہ کے کان پر دبارہ کام شروع کرکے کوئلہ نکالا جانے لگا،اس کے علاوہ ملک کے سرمایہ دار لوگوں نے انفرادی سرمایہ کاری کے ذریعے کابل شہر میں ۱۰۰ سے زیادہ کارخانے قائم کیے ،جس کو  امارت اسلامیہ نے بجلی مہیا کی،قندوز میں سپین زر فیکٹری دوبارہ فعال ہوئی، جلال آباد میں پلاسٹک فیکٹری فعال ہوئی۔ اسی طرح ملک کے دوسرے صوبوں میں بھی قابل ذکرچھوٹے کارخانے قائم ہوئے۔جس سے  ہزاروں افغان شہریوں کو کام کے مواقع ملے۔
13. بہت ہی کم وسائل کے باوجود امارت اسلامیہ نے ملک میں سڑکوں کی تعمیر جاری رکھی۔طورخم جلال آباد شاہراہ،جلال آباد تاکابل،کابل تا پکتیا، کابل تا غزنی ،قندہار اور ہرات تک سڑک پر کام جاری تھا۔اس کے علاوہ بڑے شہروں کے اندرونی علاقوں میں بھی سڑکوں کی تعمیر جاری رہی۔ یاد رہے کہ امارت اسلامیہ کے اقتصادی نائب امیرجناب مولوی عبدالکبیر کی سربراہی میں ایک معاشی شوریٰ تشکیل دی گئی تھی۔اس شوری ٰ نے اپنے بجٹ اور ملکی سرمایہ داروں کی مالی امداد سے داودخان دور حکومت کے پانچ سالہ منصوبے پر کام شروع کیا۔ دریائے کونڑ پر ڈیم کی تعمیر، صحرائے گنبیری میں نہر کی کھدائی  کے علاوہ کچھ دوسرے علاقوں میں نہروں کی کھدائی اور پانی ذخیرہ کرنے کے لیے سروے جاری تھی اور اس  کام میں سرمایہ داروں سےمدد کے  لیے بینک میں ایک خصوصی اکاونٹ بھی بنوایاگیا تھا۔مجھے وہ دن آج تک نہیں بھولا جب ہم نے جلال آباد کی سڑک کے لیے درکار مشینری  ایک ہمسایہ ملک سے خریدی  اور پھر اسے بڑی مشکل سے ’’سمگل‘‘ کرواکے جلال آباد پہنچایا،لیکن امریکی جارحیت کے بعد وہ مشینری سڑک پر یونہی پڑی رہ گئی۔
14. عوام کی فلاح وبہود کے لیے تمام غیرملکی این جی اوز کو کام کرنے کی اجازت دی گئی۔عشر اور زکوۃ غربا ء اور مساکین میں تقسیم ہوتی،معذوروں کے لیے خصوصی کارڈ جاری کیے گئے تھے۔جہاد میں چلنے پھرنے سے معذور ہونے والے افراد کو امیرالمومنین کی جانب  سےخصوصی گاڑیاں دی جاتی تھیں۔
15. مساجد اور مدارس کا قیام۔
16. ٹاپی جیسے بڑے اقتصادی منصوبے کا آغاز ،نئے کرنسی نوٹوں کی چھپائی اور ڈیزائن،مواصلات کے شعبے میں کئی کمپنیوں سے رابطے کیے جو امریکی جارحیت کی وجہ سے  ادھورے رہ گئے۔
17. میڈیا کا شعبہ بھی اچھے انداز میں فعال تھا،ریڈیو نشریات، ادبی کانفرنسز، مشاعرے اور تحریری اور تقریری مقابلے منعقد کیے جاتے،اخبارات اور مجلے شائع ہوتے تھے۔
18. پورے ملک میں  کچھ خاص شرائط کے ساتھ کھیلوں کی اجازت تھی  اور مختلف کھیلوں کے مقابلے منعقد کیے جاتے اور اس کی حوصلہ افزائی بھی کی جاتی۔
19. امارت اسلامیہ نے تباہ شدہ ہوائی اڈوں کی دوبارہ تعمیر کی  اور چھوٹی فضائیہ بھی تخلیق کی۔تمام فوجی تنصیبات کو وزارت دفاع کے کنٹرول میں دیا۔ایسی فوجی  فورس تشکیل دے دی جو بہت ہی کم وسائل میں اپنی ضروریات پوری کرتی تھی۔عوام کے کندھوں پر بوجھ نہیں بنی۔دنیاکے ممالک کی مالی امداد کے بغیر ایک ایسی فوج تشکیل دی جو احمد شاہ بابا  کے دور کی یاد تازہ کرتی تھی۔
20. منشیات کی کاشت اور اسمگلنگ پر مکمل پابندی لگا کر اس کی پیدوار کا گراف صفر پر لے آئے، حالانکہ اب مغربی جمہوریت کے  دوران ایک بار پھر منشیات کی کاشت اور اسمگلنگ میں افغانستان سرفہرست ہے۔
21. کرپشن کا مکمل خاتمہ کر لیا  گیا۔
یاد رہے کہ امارت اسلامیہ نے مذکورہ تمام خدمات ایسے وقت میں انجام دیے ہیں جس وقت ان پر سخت بین الاقوامی معاشی پابندیاں لگی ہوئی تھیں۔دنیا کے کسی ملک سے تعاون کے بغیر یہ خدمات جبکہ دوسری جانب امارت اسلامیہ شر وفساد کے خلاف جنگ میں بھی مصروف عمل تھی۔
جارحیت پسندوں اور ان کے کٹھ پتلیوں  کے اربوں ڈالرز کے بجٹ  کا موازنہ اگر ان کے چند علامتی  اقدامات کے بغیر دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ جتنا بھی کام ملک کے طول وعرض میں ہوا ہے وہ عوام کی انفرادی سرمایہ کاری کے سبب ممکن ہوا ہے نہ کہ مغربی جمہوریت کے بل بوتے۔
امارت اسلامیہ کی حکومت سے لے کر اب تک ہم پر ایک فکری اور پروپیگنڈے کی جنگ مسلط کی جاچکی ہے۔ میڈیا میں ہمارے مثبت کام کو بھی منفی انداز میں دکھانے کی کوشش کرتا ہے۔ ہمیں یہ فرصت ہی نہیں ملی کہ ہم اپنی خدمات کو میڈیا کے ذریعے دنیا اور عوام تک پہنچائیں ۔ نہ صحافت میں کام کرنےوالے آزاد اور اسلام پسند لکھاریوں نے اس طرف توجہ دی ہے۔
سوال : کابل انتظامیہ کے کچھ اعلیٰ عہدیدار  جن میں امراللہ صالح   اوراحمد شاہ مسعود کے بھائی  احمد  ضیاء مسعود بھی شامل ہیں، نے کہا ہے کہ مذاکرات کاکوئی نتیجہ نہیں نکلے گا۔انہوں نے اپنے حامیوں کو ایک اور جنگ کےلیے تیار رہنے کاحکم دیا ہے۔کیا یہ لوگ اتنی قوت رکھتے ہیں کہ ایک بار پھر انارکی کا آغاز کریں؟
جواب :امراللہ اور ضیاء مسعود جیسے لوگوں کے لیے اپنے انفرادی مفادات اور افغان دشمن ممالک کی جاسوسی سب سے زیادہ عزیز ہے۔غیر ملکی انٹیلی جنس ایجنسیوں سے  کے دیے گئے منصوبوں  کو عملی جامہ پہنانے کے لیے اپنے ہی عوام اور عقیدے کے لوگوں کا قتل عام  ان کا شیوہ رہا ہے۔یہ لوگ افغانستان کے کسی بڑے گروہ کی نمائندگی نہیں کرتے بلکہ غیر ملکی ایجنسیوں کی زبان بولتے ہیں۔
افغان عوام امن اور استحکام اور امارت اسلامیہ کی شرعی حکومت چاہتے ہیں۔ اب وہ دور نہیں کہ لوگ امارت اسلامیہ کے خلاف  قومی یا لسانی طور پر مسلح لشکر کھڑا کریں ۔ان لوگوں کے ساتھ اگر غیر ملکیوں کی امداد نہ ہو تو یہ طالبان کے ایک چھوٹے گروہ کے سامنے نہیں ٹھہر سکیں گے۔
سوال : امراللہ صالح امارت اسلامیہ  کے دوسرے رہنماوں کے ساتھ آپ کانام بھی ہمیشہ لیتا رہا ہے کہ انہوں نے آپ کے عسکری منصوبوں  کوناکامی سے دوچارکیا تھا، اس کے بارے میں ہمیں کچھ بتائیں کہ حقیقت کیا ہے؟
جواب: میں یہ تسلیم کرتا ہوں  کہ امراللہ صالح نے  (CIA)، (MI6)، (DGSE) اور (RAW) کی تربیت لی ہے ۔لیکن  این۔ڈی۔ایس کے سربراہ کے طورپر ان کی ناکامی اور اپنی حکومت کے اندر ان کے خلاف نفرت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ اتنا طاقتور  نہیں ہے جتنا وہ دعو ی کر رہے ہیں۔ایک انٹیلی جنس سربراہ کے طور پر اپنی ذمہ داریاں نبھا نہیں سکتا۔امارت اسلامیہ کے استشہادی مجاہدین نے ان کے دور میں ان کے تمام انٹیلی جنس  اداروں کو مات دیتے ہوئے امریکا اور اس کے کٹھ پتلیوں کے خلاف وہ کارروائیاں کیں جس کا امراللہ نے تصور بھی نہیں کیا تھا اور ان حملوں کو روکنے میں ناکامی کے بعد وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے تھے۔اب کسی منہ سے یہ دعوی کر رہے ہیں کہ میں نے ان کے عسکری کارروائیوں کو ناکام بنایا تھا  ۔ دراصل یہ ہمارے مجاہدین  ہی تھے جنہوں نے انہیں اس منصب سے محروم  کیا۔ مجاہدین کے خلاف جو کارروائیاں امراللہ صالح  کے دور میں یا بعد میں ہوئیں وہ نام تو این ۔ڈی ۔ایس کا استعمال کر رہے تھے لیکن دراصل  وہ غیر ملکی انٹیلی جنس آپریشن تھے۔
امراللہ صالح نے جاسوسی کی تربیت حاصل کی ہے لیکن وہ ایک پیشہ ور ماہرجاسوس نہیں ۔کیوں کہ انہوں نے فدائی مجاہدین کے خلاف کارروائیوں کی متعدد بار کوششیں کیں لیکن ہربار ناکامی سے دور چار ہونا پڑا۔ این ڈی ایس اور سی۔آئی ۔اے ۔ کے پاس نہ پہلے اور نہ  اب فدائی مجاہدین کی کارروائیاں روکنے کی حکمت عملی موجود ہے ۔فدائی مجاہدین ہربار  نئی تیکنیک کے ساتھ میدان کارزار میں کود پڑتے  ہیں جس سے امراللہ اور ان کے آقاوں کے سوچنے سمجھنے کی قوت سلب ہوکر رہ گئی ۔ اور اب طاقت کی بجائے بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل چاہتے ہیں۔
سوال : دوحہ میں موجود کابل انتظامیہ کی مذاکراتی  ٹیم کے علاوہ کچھ اور افغانی گروہ بھی ہیں جو ان مذاکرات کا حصہ نہیں ہیں، ان سے افہام وتفہیم کی کیا صورت ہوگی؟
جواب: جی بالکل  امارت اسلامیہ افغانستان تمام افغان جہات کے ساتھ رابطےمیں ہے۔اور مسئلے کا حقیقی حل بھی اسی وقت ممکن ہے جب اس مذاکراتی عمل میں تمام افغان گروہ شریک ہوں۔ لہذا اس بارے میں ہمیں کسی تشویش کی ضرورت نہیں ۔
سوال:کیا واقعی امریکامذاکرات کے ذریعےجارحیت کے خاتمے  کے لیے تیار ہے؟ یا مذاکرات کے ذریعے اپنے مذموم مقاصد تک پہنچنے کی کوشش کررہاہے؟
جواب: امریکا نے طاقت کے تمام حربے استعمال کرلیے ہیں اور اس نتیجے پرپہنچا ہےکہ امریکا افغانستان میں مزید رہنے کا متحمل نہیں ہوسکتا اور نہ اپنے کٹھ پتلیوں کو مزید افغانستان  پر مسلط کرسکتا ہے۔اسی وجہ سے امریکا نے مذاکرات کی راہ اپنا لی ہے۔ اب  وہ مذاکرات کے ذریعے کونسے اہداف حاصل کرنا چاہتا ہے اس کا تعلق انہی سے ہے۔ ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ ہم امریکا کے ساتھ ہونے والے معاہدے  کی پاسداری کریں دوسری جانب ہم پوری طرح چوکنے اور بیدار ہیں۔ہم غافل نہیں ہیں اور نہ تاریخ کے تلخ تجربات  دہرانے کے لیے تیار  ہیں۔
سوال: رواں سال ماہ جون میں اقوام متحدہ نے ایک  رپورٹ میں دعوی کیا کہ اب بھی افغانستان میں کچھ غیر ملکی جہادی تنظیموں کے ارکان موجود ہیں جن کی تعداد سینکڑوں میں ہے؟اس رپورٹ کے ذرائع کیا ہیں؟اس پر کتنا بھروسہ کیا جاسکتا ہے؟
جواب:افغانستان میں غیر ملکی انٹیلی جنس ایجنسیوں کا ایک نیٹ ورک   قائم ہے جن میں ان کے افغانی اور غیر ملکی ایجنٹ شامل ہیں،   مائیکل سمپل  کی سربراہی میں جو ایم۔آئی۔6 کے لیے کام کرتے ہیں۔مائیکل سمپل افغانستان کے لیے یورپی یونین کے نمائندے کے نائب کے طور پر بھی کام کرچکاہے۔ یہ شخص افغانستان  اور اس خطے میں خفیہ  اور خطرناک  سازشوں میں ملوث رہا ہے ۔اس شخص نے حال ہی میں کابل کے ایوان صدر سے تعلقات استوار کر لیے ہیں اور مذاکرات کے سخت ترین مخالفین میں سے ہے۔اس نیٹ ورک کے افغانی ایجنٹ وہ  این۔ڈی۔ایس  کے سابقہ اہلکار ہیں۔یہ سب مذاکرات کے مخالفین اور اسے سبوتاژ کرنے کے مشن پر ہیں۔
میری معلومات کے مطابق مائیکل سمپل  اقوام متحدہ کی رپورٹ سے قبل کابل سرینا ہوٹل میں مقیم تھا اور اپنے داخلی اور غیر ملکی  ایجنٹس کے ساتھ اس رپورٹ کی تیاری کے لیے معلومات اکھٹی کر رہاتھا ،جس میں زیادہ تر معلومات جھوٹ اور فریب پر مبنی تھیں۔اسی طرح مائیکل سمپل نے ایک اورتخریب پر مبنی سروےقیدیوں کی رہائی کا مرحلہ مکمل ہونے کے قریب فلیکس کوہن کے ساتھ مل کر بیلفاسٹ یونی ورسٹی کے لیے کیا، جو ستمبر کے آغاز میں فارن پالیسی میگزین میں شائع ہوا۔اس سروے میں بھی یہ دعوہ کیا گیا تھا کہ رہا ہونے والے طالبان کی اکثریت دوبارہ جنگ  کے میدان میں طالبان کے ساتھ مل کر کابل فورسز کےساتھ لڑائی میں مصروف ہیں۔ا س سروے کا مقصد قیدیوں کی رہائی کا مرحلہ روکنا تھا جس سے مذاکرات کٹائی میں پڑ سکتے تھے۔
مائیکل سمپل جیسے غیر ملکی اور ملکی جاسوسوں سے بنے اس نیٹ ورک کا مقصد ہی  جھوٹی افواہیں اور رپورٹس بنانا اور پھیلانا ہے۔ امارت اسلامیہ متحد ہے۔ اور یہاں کسی غیر ملکی جہادی کی مدد کی ان کو کوئی ضرورت نہیں  اور نہ یہاں غیر ملکی جہادی تنظیموں کے لوگ موجود ہیں۔امارت اسلامیہ امریکا کے ساتھ کیے گئے معاہدے  کی مکمل پاسداری کا شرعی طور پر مکلف ہے اور امریکا سے بھی یہی توقع رکھتی ہے کہ وہ معاہدے کی پاسداری کرتے ہوئے کچھ شرپسند جاسوسی نیٹ ورکس کے جعلی رپورٹس پر کان نہ دھریں۔ کیوں کہ یہ لوگ اپنے انفرادی مفادات کی خاطر بین الافغانی مذاکرات کے اہم مرحلے کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں۔لہذا ان افواہوں کو خاطر میں نہ لایا جائے جو کچھ اجرتی جاسوسوں  کے ذریعے میں میڈیا میں پھیلائے جارہے ہیں۔
سوال :ان لوگوں کے ساتھ کیسے مذاکرات اور افہام وتفہیم ممکن ہوگی جو گزشتہ انیس سال تک جارحیت پسندوں کی خدمت میں رہے؟
جواب:ہم نے جنگ بھی  اللہ جل جلالہ کی خصوصی نصرت سے ان کفار کے خلاف لڑی ہے اور اب بھی اللہ جل جلالہ کی نصرت کے امیدوار ہیں ۔اسی طرح سیاسی جنگ بھی اللہ کی مدد ونصرت سے دنیا کے  نام نہاد سپر پاورز کے خلاف لڑ رہے ہیں۔اللہ کی نصرت ہی تو تھی کہ ہم نے وہ سخت مراحل گزارے جس کا تصور کرنا بھی محال تھا اور ہم اس منزل پر پہنچ گئےجوکسی کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا۔لہذا ان لوگوں کا میز پر آنا ہمارے لیے نیا نہیں، ہم اسی شریعت کی روشنی میں ان سے مذاکرات آگے بڑھائیں گے۔
سوال: افغان قوم اور مجاہدین کے نام کیا پیغام دینا چاہیں گے؟
جواب: افغان قوم اور خصوصا مجاہدین کے نام میرا پیغام یہ ہے کہ ہمارے لیے جہاد کا جاری رہنا ملک میں فتنہ وفساد سے ہزار درجے بہتر ہے۔ یہ فتنہ اور فساد چاہے سیاسی راہ سے ختم ہو یا مسلح جدوجہدسے ، ہر صورت اسے ختم ہونا ہے ،تاکہ عوام حقیقی آزادی حاصل کرکے ایک مقدس دینی نظام کے سائے میں  زندگی گزاریں۔جہاد میں آپ لوگوں کو ضرور تکالیف کا سامنا ہوگا،گھر تباہ بچے یتیم  ہوں گے  لیکن یہ اتنی تباہی نہیں جتنی فتنہ، فساد اور دین سے دوری میں ہے۔اگر اس فتنے کے خلاف مسلح جدوجہد نہیں کی تو خطرہ ہے کہ ہماری آنے والی نسلیں اپنی اسلامی شناخت کھو ڈالیں گے اور یہاں صرف نام کے مسلمان اور افغان رہ جائیں گے۔اس کے علاوہ اگر خدانخواستہ ہم جہاد ترک کردیں گے تو یہ ہمارے ان لاکھوں شہداء کے خون سے خیانت کے مترادف ہوگا جنہوں نے  انگریز، روس اور امریکا کے خلاف دین اسلام اور اعلاء کلمۃ اللہ کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے۔ اس لیے صبر واستقامت سے کام لیں۔سیکولرزاورکمیونسٹ رژیم کے پسماندگان  کے میڈیا پروپیگنڈوں  کونظر انداز کریں۔ان شاء اللہ بہت جلد یہ اندھیری راتیں ایک روشن صبح میں تبدیل ہوجائیں گی۔یہ اللہ کا  برحق وعدہ ہے۔ان شاء اللہ پوری قوم اسلامی نظام کے سائے میں امن وسکون کی زندگی بسر کرے گی۔
وماذلک علی الله بعزیز.

Related posts