جنوری 16, 2021

ایسا کیوں ہوتا ہے؟

ایسا کیوں ہوتا ہے؟

تحریر:ابو محمد الفاتح

رواں مہینے کی دوسری تاریخ کو کابل یونیورسٹی پر خطرناک حملہ ہوا جس میں دسیوں نہتے اور معصوم افغانوں کو شہید کردیا گیا اور بہت سارے افراد اس جانکاہ واقعہ میں زخمی ہوئے-اس واقعہ کے فورا بعد امارتِ اسلامیہ نے اس واقعہ کی شدید مذمت کی اور متاثرہ افراد کو ہمدردی کا پیغام دیا-جبکہ اس حملہ کی ذمہ داری داعش نے قبول کی اور برملا اس کا اعلان کرکے یہ جتانے کی کوشش کی کہ ہم بھی وجود رکھتے ہیں-اسی مہینے کی اکیس تاریخ کو کابل شہر میں ایک  گاڑی میں میزائیل بھرکر شہر میں اندھا دھند داغے گئے-جو اکثرعوامی مقامات پر جا لگے-جن میں بہت سارے افراد شہید اور زخمی ہوئے-اس حملہ کی ذمہ داری ایک دفعہ پھر داعش کے گماشتوں نے قبول کی اور امارتِ اسلامیہ نے بھرپور مذمت کی-اسی طرح رواں سال میں کئی دفعہ عوامی مقامات کو نشانہ بنایا گیا یا کچھ حملہ نما ڈرامے قائم کیے گئے جن سے امارتِ اسلامیہ نے مسلسل براءت کااعلان کیا اور داعش اس کو قبول کرتی رہی-
اس روش پر ایک سوال یہ ہوتا ہے اور میڈیا اس کو زور وشور سے اٹھاتا ہے کہ آخر ایسا کیوں ہوتا ہے؟ جس حملہ سے امارتِ اسلامیہ براءت کااعلان کرتی ہے اس کی ذمہ داری داعش کیوں قبول کرتی ہے؟ بسااوقات انتظامیہ بھی یہ باور کراتی نظر آتی ہے کہ یہ درحقیقت طالبان ہی کا کیا دھرا ہے محض بدنامی سے بچتے ہوئے ایسا کرلیتی ہے اور ذمہ داری قبول کرنے سے کنارہ کشی اختیار کرلیتی ہے-جس طرح یونیورسٹی پر حملہ ہونے کے بعد امراللہ صالح نے یہ زور لگایا اور الزام تراشی میں سچائی کے حدود کو بری طرح سے روند ڈالا-
اس سوال کے جواب کے لیے قارئینِ کرام کو کچھ ماضی کے دریچوں میں جھانکنے کی زحمت کرنی پڑے گی-آج سے قریب دوسال پہلے جب امارتِ اسلامیہ اور امریکا کے درمیان مستقل مذاکرات شروع ہوئے اور امریکا اور اس کے اتحادیوں نے امارتِ اسلامیہ کو مستقل فریق کی حیثیت سے تسلیم کیا اور کابل انتظامیہ کو سائیڈ پر رکھ کر اسے اپنی ماتحتی میں ہی رہنے دیا تو یہ طرز کابل انتظامیہ کو سیخ پا کرگیا اور اس پر سخت ناپسندیدگی کا اظہار کرلیا-جس کی وجہ یہ تھی کہ امارتِ اسلامیہ جو اٹھارہ سال سے کابل انتظامیہ کو کٹھ پتلی کہتی تھی اور کابل انتظامیہ اپنے کو اسلامی جمہوریہ سمجھ کر حکومت کے خواب دیکھتی تھی، امریکا کی اس روش سے ان کا کٹھ پتلی ہونا ثابت ہوجاتاتھا اور امارتِ اسلامیہ کا موقف نکھر کر سامنے آتاتھا-ساتھ ہی اس طرز سے انتظامیہ کو اپنی غلامی کے بدلے ملا ہوا نام نہاد اقتدار بھی خطرے میں نظر آرہا تھا؛اس لیے انہوں نے سازشیں شروع کردیں کہ کسی طرح امریکا اور اپنے آقاووں کو دلبرداشتہ کرکے اپنے اقتدار کو بچا کر رہے-
چنانچہ اس مقصد کے لیے ایک بڑی سازش کے طور پر ایک شوشہ یہ چھوڑا کہ افغانستان میں امریکا اور نیٹو اتحادیہ کی جنگ صرف طالبان سے تو نہیں ہے-بلکہ یہاں تو بیس سے زائد جماعتیں ہیں جو ان کے بقول دھشت گردی میں ملوث ہیں -اس لیے یہ اعتماد ہرگز نہیں ہونا چاہیے کہ طالبان کے ساتھ مصالحت کے نتیجہ میں امن قائم ہوگا-چنانچہ کابل انتظامیہ نے داعش نامی تنظیم کو برآمد کرکے ملک بھر میں اپنی معاونت سے بڑی وارداتیں کروائیں اور کھلی عام چھوٹ دی-جس کے سدباب کے لیے امارتِ اسلامیہ نے اپنی توانائی بروئے کار لائی اور ان کا زبردست صفایا کرالیا-
ایک طرف امارتِ اسلامیہ کی بھرپور جدوجہد تھی تو دوسری طرف ہزیمت خوردہ امریکا کو بھی مزید دلچسپی نہیں رہی تھی کہ اس سے زیادہ رہنے کی وجہ سے مذاکرات کا رہا سہا مرحلہ بھی ہاتھ سے جائےگا اور ہزیمت کی نوعیت بھی اس سے بدتر ہوگی-اس پر کابل انتظامیہ نے داعش کو محفوظ پناہ گاہوں میں منتقل کرکے وہیں سے ٹارگٹ دیتی رہی اور جا بجا کارروائیاں کرواتی رہی-
رواں مہینے کی کارروائیاں دراصل اس تسلسل کاایک حصہ ہے جس سے کابل انتظامیہ امریکا اور دیگر استعماری قوتوں کی توجہ اس جانب کررہی ہے کہ تم جس خطرہ سے نمٹنے کے لیے آئے تھے وہ خطرہ ابھی ٹلا نہیں ہے-بلکہ یہاں اور بھی تنظیمیں وجود رکھتی ہیں جن کے لیے تمھارا وجود ضروری ہے-اس بات کی دلیل دینے کی بھی ضرورت نہیں ہے-کہ کابل یونیورسٹی کا حملہ ہو یا اکیس تاریخ کے میزائیل داغنے کا-دونوں میں انتظامیہ کی معاونت اس قدر آشکارا ہے کہ اسے بیان کرنے کی حاجت ہی نہیں-یونیورسٹی کا محل وقوع ایسا ہے جہاں دھشت گرد کیا ایک مسلم الثبوت افغانی شہری بھی انٹر نہیں ہوسکتا-وہاں پر جانے کے لیے باقاعدہ ثبوت درکار ہوتا ہے-مگر یہاں تماشا دیکھیے کہ چند دھشت گرد نہ صرف یہ کہ اتنی سخت سیکورٹی کی موجودگی میں اندرجاتے ہیں بلکہ اپنے ساتھ بھاری بھر اسلحہ بھی اندر لے جاتے ہیں -میزائیل داغنے کے لیے باقاعدہ بھری گاڑی شہر کی شاہراہِ عام سے گزررہی ہوتی ہے مگر اس کی طرف کسی کی توجہ نہیں ہوتی-یہ چیز کابل انتظامیہ کی معاونت اور داعش کی سرپرستی کو برملا ظاہر کرتی ہے-اور کابل انتظامیہ کی اور افغان سرزمین کو جارحیت کی جال میں پھنسانے کے لیے اپنے آقاؤوں کودہائی کو آشکارا کرتی ہے-
مگر کابل انتظامیہ کی یہ جدوجہد ایک بے تکی سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی-ایک تو اس لیے کہ ان کے آقاؤوں کا سایہ اب سر سے اٹھ چکا ہے اور ایسا آقاؤوں نے جان بوجھ کر کیا ہیں-کیونکہ اب وہ بیزار ہیں ان کی ہزار منت مانیوں سے وہ اپنے کو ہلاکت میں نہیں ڈال سکتے-دوسری بات یہ ہے کہ قوم اور دنیا انتظامیہ کی دھوکہ سازی سے آگاہ ہوچکی ہے اس لیے وہ اس فریب میں نہیں آئیں گی-اس پر مستزاد یہ کہ قوم وملت کی قربانیوں پر قدرتِ خداوندی نے نصرت کافیصلہ کرلیا ہے جس کے آثار نمودار ہونا شروع ہوگئے ہیں اور وہ تمھارے لاکھ ٹلانے سے ٹلےگی نہیں بلکہ ہوکر رہے گی ان شاءاللہ-

Related posts